حکومت نے مہنگائی کی ذمہ داری دھرنوں ،احتجاج اور سیلاب پر ڈال دی

حکومت نے مہنگائی کی ذمہ داری دھرنوں ،احتجاج اور سیلاب پر ڈال دی

  



اسلام آباد(آئی اےن پی)حکومت نے مہنگائی کے ممکنہ طوفان کی ذمہ داری دھرنوں ، احتجاج اور سیلابوں پر ڈال دی۔ فصلیں تباہ ہونے سے کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔۔ اقتصادی ترقی کا 5.1 فیصد کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ دھرنوں اور سیلاب سے ملکی معیشت کو ہونے والے نقصان کی سرکاری دستاویزات کے مطابق 2 ارب 50 کروڑ ڈالر کی بیرونی رقوم تاخیر کا شکار ہیں جن میں ایک ارب ڈالر کے سکوک بانڈ بھی شامل ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق سیاسی بحران کی وجہ سے روپے کی قدر کم ہونے سے بیرونی قرضوں میں 210 ارب روپے کا اضافہ ہو چکا ہے جبکہ چینی صدر کا دورہ ملتوی ہونے سے 34 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متاثر ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق دھرنوں سے نمٹنے کیلئے وزارت داخلہ کو 35 کروڑ 70 لاکھ کی اضافی گرانٹ جاری کی جا چکی ہے جس سے سالانہ بجٹ خسارے میں اضافہ ہوگا۔ دستاویز کے مطابق ملک میں مجموعی سرمایہ کاری میں 20 فیصد کمی آئی ہے۔ دھرنوں کی وجہ سے تیل کے درآمدی بل میں ابتدائی 30 دن میں 8 ارب جبکہ مجموعی طور پر تقریبا 12 ارب کا اضافہ ہوا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری میں کمی سے تجارتی خسارہ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ جولائی سے اگست کے دوران برآمدات میں 5.8 فیصد کمی جبکہ درآمدات میں 9 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مہنگائی کی صورت میں نجی شعبے کو قرضہ کی فراہمی متاثر ہوگی جبکہ اقتصادی ترقی کا 5.1 فیصد کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہوجائے گا۔ رپورٹ کے مطابق سیلاب سے چاول ، گنے اور کپاس کی 24 لاکھ 20 ہزار ایکٹر فصل متاثر ہوئی۔ فصلوں اور لائیو سٹاک کو نقصان پہنچنے سے مہنگائی بڑھے گی جبکہ ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں کی وجہ سے بجٹ خسارے میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید : کامرس