پاکستان میں چارہ جات کے کل رقبے کا 80 فیصد پنجاب میں پیدا ہوتا ہے،محکمہ زراعت

پاکستان میں چارہ جات کے کل رقبے کا 80 فیصد پنجاب میں پیدا ہوتا ہے،محکمہ زراعت

ملتان(اے پی پی) پاکستان میں چارہ جات کے کل رقبے کا 80 فیصد پنجاب میں پیدا ہوتا ہے جہاں 48 ایکڑ رقبہ پر چارہ جات کاشت ہوتے ہیں۔ اس میں سے ربیع کے چارے کا رقبہ ساڑھے 23 لاکھ ایکڑ سے زائد ہے۔ پنجاب میں سبز چارے کی کل پیداوار 110 کروڑ من حاصل ہو رہی ہے۔ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کی دودھ اور گوشت کی ضررویات پوری کرنے کے لئے ہمیں چاروں کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہو گا۔محکمہ زراعت مطابق کے ترجمان نے چارہ جات کے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جئی کی کاشت ماہ اکتوبر میں مکمل کر لیں۔ جئی کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے بھاری میرا اور ہموار زمین کا انتخاب کریں۔ اگر زمین ناہموار ہو تو اس کو ہل چلا کر ہموار کر لیں تاکہ بارش کا پانی ایک جگہ جمع نہ ہو اور سارا کھیت یکساں طور پر مستفید ہو سکے۔ زمین کو تین چار بار ہل اور سہاگہ چلا کر تیار کر لیں۔

اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے بجائی کے وقت ڈیڑھ بوری ڈی اے پی، ایک بوری یوریا اور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ استعمال کریں۔ جئی کی ترقی دادہ اقسام سرگودھا جئی 2011 ، ایس 2000 ، پی ڈی 2 اور ایل وی 65 کا صاف ستھرا اور بہتر اگاﺅ والا 32 کلوگرام بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔ کاشت سے قبل بیج کو سفارش کردہ پھپھوند کش دوائی لگائیں۔ جئی کی کاشت ایک ایک فٹ کے فاصلے پر لائنوں میں کریں اس سے چارہ کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔ فصل کو راﺅنی سمیت تین سے چار پانی درکار ہوتے ہیں۔ پہلا پانی بوائی کے تین ہفتہ بعد جبکہ بعد ازاںحسب ضرورت آبپاشی کریں۔ چارہ کے لئے بوئی گئی فصل پر زہریلی ادویات کا سپرے ہر گز نہ کریں۔ نقصان رساں کیڑوں کا حملہ ہونے کی صورت میں فصل کو جلد از جلد کاٹ لیں۔

مزید : کامرس