اسلامی انشورنس کی ترقی کیلئے مزید مراعات و ترغیبات کی ضرورت ہے ‘میاں شاہد

اسلامی انشورنس کی ترقی کیلئے مزید مراعات و ترغیبات کی ضرورت ہے ‘میاں شاہد

کراچی (اکنامک رپورٹر) انشورنس انڈسٹری کے ماہر میاں شاہد نے کہا ہے کہ پاکستان میں تکافل (اسلامی انشورنس) کی ترقی کیلئے مزید مراعات و ترغیبات کی ضرورت ہے تاکہ اسکا پھیلاﺅ بڑھایا جا سکے۔ ایس ای سی پی کی جانب سے مروجہ انشورنس کمپنیوں کو اسلامی انشورنس کی اجازت دینے سے اس صنعت میں انقلابی تبدیلی آئی ہے اور چند سال میں پچاس کے قریب انشورنس کمپنیاں اسلامی انشورنس شروع کر دینگی۔ اس وقت چند بڑی کمپنیاں اس سلسلہ میں سنجیدگی سے سوچ رہی ہیں۔ میاں شاہد نے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جی ڈی پی میں انشورنس کا حصہ ایک فیصد سے کم ہے جبکہ تکافل کا حصہ اس ایک فیصد میں صرف پانچ فیصد ہے جسے بڑھانے کیلئے نجی شعبہ کی کوششوں کے علاوہ حکومت کی بھرپور سرپرستی کی ضرورت ہے۔تکافل کی صنعت انسانی وسائل، شعور اور سرمائے کی کمی سمیت متعدد مسائل کا شکار ہے۔مختلف ممالک میں اس صنعت میں معیار، اصول، اور پیمانوں میں اختلاف ہے مگر اسکے باوجود 2016تک عالمی سطح پر اسکا حجم ساڑھے اٹھارہ ارب ڈالر سے تجاوز ہونے کا تخمینہ ہے جبکہ 2017میں یہ بیس ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ اس وقت دو کھرب ڈالر کی اسلامک فنانشل مارکیٹ کی کارکردگی قابل اطمینان ہے۔

مزید : کامرس