پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنان کو ہمیشہ مشکلات کا سامنا رہا، عاصمہ جہانگیر

پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنان کو ہمیشہ مشکلات کا سامنا رہا، عاصمہ ...

 اسلام آباد (آن لائن ) انسانی حقوق کارکن اور سابق صدر سپریم کورٹ بار عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنان کو ہمیشہ ہی مشکل حالات کا سامنا رہا ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں لوگ لسانی اور نسلی حقوق کے لیے لڑے، ان میں وہ لوگ بھی تھے جو بنگلہ دیش کی تحریک اور صوبہ بلوچستان کے لیے فعال تھے۔ غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹر ویو میں عاصمہ جہانگیر نے کہا مجھے یاد ہے کہ ان نسلی اقلیتوں کو اسٹیبلشمنٹ نے کچل دیا تھا۔ پھر 80 کی دہائی میں ہم نے دیکھا کہ جنرل ضیا الحق کے دور میں مذہب کو سیاست کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ہمیں فوج پر تنقید کی اجازت نہیں تھی کیونکہ اسے پاکستان اور اسلام مخالف سمجھا جاتا تھا۔اس دور میں پاکستان اور بھارت کے انسانی حقوق کے کارکنان کے مابین ملاقات ایک بہت بڑا مسئلہ تھا، جب ہم نے بھارت جا کر وہاں کے لوگوں کے ساتھ براہ راست رابطہ کاری شروع کی تو ہمیں معلوم تھا کہ پاکستان میں ہمیں اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ آج تک ہمیں اپنے ملک کے لیے وفادار نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن ہم نے ان رکاوٹوں کو عبور کیا۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ معاشرتی اقدار کے حوالے سے مشکلات ہیں اور یہ صرف خواتین کے مسائل کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ جب بچوں کی جبری مشقت کی بات کرتے ہیں تو بھی لوگ سیخ پا ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہمیں نتائج سے بیگانہ ہو کر صرف سچ بولنا چاہیے۔ مجھے جیل بھی جانا پڑا اور گھر پر نظر بند بھی کیا گیا لیکن ان اقدامات نے مجھے مزید سخت جان بنا دیا۔بطور وکیل کئی مرتبہ مجھے اقلیتوں اور خواتین کے مسائل سے متعلق مشکل اور حساس مقدمے بھی لڑنے پڑے۔ اس دوران مجھے مسلسل دھمکیاں بھی ملتی رہیں۔ میں یہ بھی کہوں کی کہ کئی مرتبہ یہ دھمکیاں ڈرا دینے والی ہوتی تھیں۔ لیکن مجھے اپنا کام جاری رکھنا تھا۔

عاصمہ جہانگیر

مزید : صفحہ آخر