الیکشن کمیشن کا عام انتخابات سے متعلق حقائق نامہ تیار

الیکشن کمیشن کا عام انتخابات سے متعلق حقائق نامہ تیار

  



                        اسلام آباد(اے این این )الیکشن کمیشن نے 11 مئی 2013 کے عام انتخابات کے حوالے سے حقائق نامہ تیار کرلیا جسے (کل)پیرکو کو انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ حقائق نامے میں عام انتخابات کے حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر کہاگیا ہے کہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی میں تاخیر زیادہ وقت نہ ملنے، کم عملے اور پرانی میشینوں کی وجہ سے ہوئی۔حقائق نامے کے مطابق گزشتہ انتخابات میں امیدواروں کی تعداد بہت زیادہ تھی اس کے علاوہ صوبائی اور قومی اسمبلی کے بیلٹ پیپرز کی چھپائی ایک ساتھ ہونا تھی جس کے لئے الیکشن کمیشن کو محض 21 روز کا وقت ملا تھا جو انتہائی کم تھا، اس کے علاوہ پرنٹنگ کارپوریشن پاکستان کی مشینیں بھی کافی پرانی ہیں جو کہ چھپائی میں تاخیر کی وجہ بنی۔ امیدواروں کی جانچ پڑتال کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کے جواب میں کہا گیا ہے کہ امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی ذمہ داری ریٹرننگ افسران کی تھی اس میں الیکشن کمیشن کا کوئی کردار نہیں تھا، ووٹرز کی اہلیت صرف بیلٹ پیپرز کے اجرا سے قبل چیلنج کی جاسکتی ہے، بیلٹ پیپرز کے اجرا کے بعد ووٹر کی اہلیت کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا، اسٹیٹ بینک ، ایف بی آر ، نادرا اور الیکشن کمیشن کا اسکروٹنی سیل کمپیوٹرائزڈ تھا جس کے نتائج 100 فیصد درست تھے،کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے آنے والے نتائئج میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔

مزید : صفحہ اول