سول ججوں کی کمیشن کے بغیر بھرتیوں پرہائی کورٹ بار میں قرار داد پیش

سول ججوں کی کمیشن کے بغیر بھرتیوں پرہائی کورٹ بار میں قرار داد پیش

  



 لاہور(نامہ نگار خصوصی )پنجاب میں سول ججوں کی بھرتیوں میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے کردار کے خاتمہ کے لئے لاہور ہائی کورٹ بار میں قرار داد پیش کردی گئی جس پر غور کے لئے کل29ستمبر کو ہائی کورٹ بار کا اجلاس عام طلب کرلیا گیا ہے ۔یہ قرارداد عظیم اکرم ایڈووکیٹ کی طرف سے پیش کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئینی تقاضہ ہے عدلیہ انتظامیہ کے زیر اثر نہ ہو اور آزاد ہو۔ سول جج صاحبان کی بھرتی بذریعہ پبلک سروس کمیشن کو سندھ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلہ میں انتظامیہ کی عدلیہ میں مداخلت کے مترادف گردانا ہے اور جب اس فیصلہ کے خلاف حکومت سندھ اور سندھ پبلک سروس کمیشن نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیلیں دائر کیںتو سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کودرست قرار دیا اور سندھ ہائیکورٹ کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے رولز میں ترمیم کرے ۔یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ و سیشن جج سے لے کر اعلیٰ عدلیہ تک بھرتی تو لاہورہائیکورٹ خود کرتی ہے لیکن سول ججوںکی بھرتی کے لئے پبلک سروس کمیشن کی محتاج ہے۔ اس لیے یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ اپنے رولز میں مناسب کرتے ہوئے آئندہ بھرتی کئے جانے والے سول ججوںکی بھرتی خود کرے جو کہ عدلیہ کی بالادستی کی طرف مثبت پیش رفت ہو گی۔

کمیشن بھرتیاں

مزید : صفحہ آخر