مجرم تک پہنچنے میں معاونت فراہم کرنے والی پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی خود بے ضابطگیوں کا شکار نکلی

مجرم تک پہنچنے میں معاونت فراہم کرنے والی پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی خود بے ...

  



                    لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جرم کے شواہد سے مجرم تک پہنچنے میں معاونت فراہم کرنے والی پنجاب فرانز ک سائنس ایجنسی خود بے ضابطگیوں کا شکار نکلی۔ادارے کی انتظامیہ نے قواعد وضوابط کے برعکس مقررہ تاریخ کے بعد غیر رجسٹرڈ فرم کے ذریعے 39لاکھ روپے کا اسلحہ خریدا اور لائسنس کے بغیر ہی سکیورٹی گارڈز کے حوالے کردیا۔عمارت کی تعمیر کے دوران ٹھیکیدار کی بجائے انتظامیہ نے بجلی کا 19لاکھ روپے کا بل ادا کردیااورٹینڈر کے بغیر ہی عمارت کی لینڈ سکیپنگ بھی کرواڈلی ۔صوبائی حکومت نے معاملے کی چھان بین شروع کردی ہے۔ معلوم ہواہے کہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی انتظامیہ نے مبینہ طورپر بے ضابطگی کا مرتکب ٹھہرتے ہوئے ایک ایسے ٹھیکیدار کے ذریعے 39لاکھ روپے کا اسلحہ خریدا جس کی فرم جی ایچ کیو راولپنڈی میں رجسٹرڈ نہ تھی۔نہ ہی مذکورہ کو محکمہ داخلہ پنجاب نے پری کوالیفائی کیا۔ بلکہ پری کوالیفکیشن کی طے شدہ تاریخ گزرنے کے بعد فرم سے معاہد ہ کیا گیا۔اسلحہ خریدنے کے بعد 20عد د پسٹل اور 12عدد بارہ بور پمپ ایکشن بندوق وغیرہ کا لائسنس بنوائے بغیر ہی یہ اسلحہ ادارے کے سکیورٹی گارڈز کے حوالے کردیا گیا۔صورتحال سامنے آنے پرصوبائی حکومت نے معاملے کی چھان بین شروع کردی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے سوا کوئی بھی ادارہ لائسنس کے بغیر اسلحہ رکھنے کا مجاز نہیں ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایف ایس اے کی انتظامیہ نے ادارے کی عمارت کی تعمیر کے دوران بجلی کا 19لاکھ روپے کا بل ازخود ادا کیا حالانکہ یہ ٹھیکیدار کی ذمہ داری تھی۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عمارت کی تزئین اور لینڈسکیپنگ کے لیے بھی پسند کے ٹھیکیدار کو کام الاٹ کیا گیا۔پھر بروقت کام مکمل نہ کرنے پر ٹھیکیدار سے چار لاکھ روپے بطور جرمانہ بھی وصول نہ کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فرانزک سائنس ایجنسی براہ راست محکمہ داخلہ پنجاب کے ماتحت کام کرنے کی مجاز ہے۔ لیکن عملی طورپر ایجنسی کی انتظامیہ اپنے معاملات میں خودمختاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اکثر اوقات قواعد وضوابط کو نظر انداز کردیتی ہے۔اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کو بھی خاطر میں نہیں لاتی۔

پنجاب فرانز ک

مزید : صفحہ آخر