ڈی چوک جیسی کئی دھرنیاں بنی گالہ محل میں بھی سما سکتی ہیں،عابد شیر علی

ڈی چوک جیسی کئی دھرنیاں بنی گالہ محل میں بھی سما سکتی ہیں،عابد شیر علی

  

 راولپنڈی( اے این این )پانی و بجلی کے وزیر مملکت چوہدری عابد شیر علی نے کہا ہے کہ عمران خان اور قادری نے ڈی چوک 99 سالہ لیز یا پٹے پر نہیں لیا ہے ملکی معیشت کو بہت نقصان ہوچکا،ڈی چوک جیسی کئی دھرنیاں اور جلسیاں 400 کنال کے بنی گالہ محل میں بھی سما سکتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ قادری کو گلو بٹ بننے کا خیال شاید اس وجہ سے آیا ہے کہ 45 دن دھرنا دینے کے باوجود وہ اتنی شہرت حاصل نہیں کرسکے جتنی بغیر کیل ڈنڈا اٹھائے گلو بٹ نے حاصل کرلی،انہوںنے کہا کہ قادری نے اگر گلو بٹ ہی بننا ہے تو ٹوپی اتارنی اور تسبیح چھوڑنی پڑے گی،ویسے بھی انہوں نے 45 دنوں میں گالیاں دینے اورپیٹھ پیچھے برائیاں (غیبت)کرنے کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں کیا ہے، گلو بٹ کا نام انگلش ڈکشنری میں لکھا جارہا ہے تو اس میں بھی دھرنے والوں کا ہی قصور ہے جو خود توسستی شہرت حاصل نہ کرسکے لیکن 45 دن تک گلو بٹ کی گردان کرکے گلو بٹ کو انٹر نیشنل ہیرو بنادیا،عابد شیر علی نے کہا کہ دھرنے 33 سال تک بھی جاری رہیں توقادری اور عمران کی وزیراعظم بننے کی ان لیگل خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی اور نہ ہی پاکستان کو تباہی و بربادی سے دو چار کرنے کا لندن منصوبہ کبھی کامیا ب ہوگا،عمران خان اور طاہرالقادری نے وہ کام کیا جو دنیا بھر کے دشمن بھی مل کر نہیں کرسکے۔انہوں نے کہا کہ کسی نے شیخو سے کہا کہ تیرا گھر جل گیا ہے تو اس نے جواب دیا کہ میری شیخی تو میرے پاس ہے ،عابد شیر علی نے کہا کہ شیخو کی شیخی نے لال حویلی کی سیاست تباہ کردی ہے،2015 میں مڈٹرم الیکشن نہیں ہونگے موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی،انہوں نے کہا کہ ائیر کنڈیشنڈ کنٹینروں اور ایلیٹ دوستوں کے جھرمٹ میں رقص و سرور کی محفلیں سجاکر انقلاب نہیں لائے جاتے،انقلاب لانے کیلئے ڈھوک ڈھوک،گوٹھ گو ٹھ اور شہر شہر گلیوں کوچوں میں پھرنا پڑتا ہے، سر پر ٹوپی اور ناک پر رومال رکھ کر عوام سے نفرت اور فاصلے پیدا نہیں کیئے جاتے،انہوں نے کہا کہ اگر رقص وسرور کی محفلوں سے ہی انقلاب آتا تو ہما مالنی اورمدھو بالا پورا ہندوستان فتح کرلیتیں،عابد شیر علی نے مزید کہا کہ عمران خان الیکشن اسی روز ہار گئے تھے جب انہوں نے جلسہ عام میں عوام سے کہا تھا کہ شیر پر مہریں لگائیں اور الیکشن کے بعد اپنی شکست تسلیم بھی کرلی تھی ،اب دھاندلی کا واویلا بے بنیاد ہے اگر الزامات لگائے ہیں تو دھاندلی کے ثبوت بھی دیں کیونکہ عدالتیں ثبوت مانگتی ہیں کسی کی خواہش پر فیصلے نہیں کرتیں۔

عابد شیر علی

مزید :

صفحہ آخر -