فوج سے تعلقات؟

فوج سے تعلقات؟
فوج سے تعلقات؟

  


وزیراعظم محمد نواز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرنے کے بعد وطن واپس روانہ ہو چکے ہیں، لیکن ان کی تقریر پر بحث جاری ہے۔ اسلام آباد میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے انقلابی دھرنے جاری ہیں، خان صاحب کا اعلان تو یہ ہے کہ وہ بقر عید بھی یہیں منائیں گے۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے تیور مختلف نظر آ رہے ہیں، لیکن ان کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا، وہ بنتے بگڑتے رہتے ہیں۔ کسی بھی وقت کوئی بھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ عمران خان صاحب کا دعویٰ ہے کہ ان کے دھرنے نے عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے، اس سے پہلے دنیا میں کسی ایک مقام پر اتنے دن اس طرح کا دھرنا نہیں دیا گیا۔ اس دعوے کو جھٹلانے والے بھی موجود ہیں اور تاریخ سے حوالے ڈھونڈ کر لا رہے ہیں، لیکن اگر خان صاحب کا دعویٰ مان لیا جائے، تو بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ ان کا دھرنا اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ جلسے کی صورت اختیار کر گیا ہے، ڈاکٹر طاہر القادری کے معتقدین تو اپنی جگہ سے اُٹھنے کا نام نہیں لیتے، یہیں نہاتے، کھاتے اور رفع حاجت فرماتے ہیں۔ کھانا انہیں البتہ پکا پکایا مل جاتا ہے۔ اب تو یہاں شادیاں بھی رچائی جانے لگی ہیں، قائد انقلاب کی ذاتی نگرانی میں تین جوڑوں کا نکاح پڑھایا گیا اور انہوں نے دعاﺅں اور تحفوں کے ساتھ دلہنوں کو رخصت کیا۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ کوئی حجلہ ¿ عروسی بھی بنوایا گیا ہے یا نہیں۔ اس اقدام سے دھرنے کی ”اٹریکشن“ میں اضافہ ہو گیا ہے، شادی کے خواہش مند دور دور سے یہاں آ سکتے ہیں اور دھرنے کی رونقوں کو دوبالا، بلکہ سہ بالا کر سکتے ہیں۔ اجتماعی زندگی میں انقلاب آئے نہ آئے، انفرادی زندگیوں میں بہرحال اس کے اثرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کو شرط لگا دینی چاہئے کہ دھرنے میں کی جانے والی شادیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں کو ان کی انقلابی تحریک کے لئے اسی طرح وقف کر دیا جائے گا، جس طرح گجرات میں دولے شاہ کے مزار پر منت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں کو کر دیا جاتا ہے۔ اس سے ایک ایسی انقلابی مخلوق پیدا ہو سکے گی، جو ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی انقلابی اُپج پر بذاتِ خود شہادت ہو گی۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب۔ ڈاکٹر طاہر القادری اپنے کنٹینر سے باہر نکلے تو انہوں نے ناک پر آٹھ دس ٹشو پیپرز کا غلاف چڑھا رکھا تھا۔ انقلاب دشمن میڈیا نے اس کا بتنگڑ بنا دیا،الزام لگایا کہ حضرت اپنے انقلاب کی بُو سونگھنے سے انکاری ہیں، گویا خود اس سے دستبرداری کی تیاری میں ہیں۔ اس پر انہوں نے بار بار وضاحت فرمائی کہ ان کے گلے میں تکلیف ہے،انفیکشن تعاقب میں ہے، اس لیے ناک کو لپیٹنا پڑا، وہ ہر گز ہر گز اپنے انقلابی جتھے کے پیدا کردہ نتائج کا سامنا کرنے سے گریز نہیں کر رہے۔

پوچھا جا سکتا ہے کہ جو انفیکشن چند لمحوں کے لئے ایئر کنڈیشنڈ کنٹینر سے قدم باہر نکالنے کا مزا یوں چکھا سکتی ہے، وہ مسلسل یہاں قیام کرنے والوں سے کس طرح نبٹ رہی ہو گی اور ان کے ساتھ کیا کچھ نہ کر گزرے گی، ہرروز ٹشو پیپرز کا کم ز کم ایک ڈبہ ہر دھرنا نشین کو ضرور فراہم کیا جانا چاہئے، ممکن ہے قائد انقلاب کا دل پسیج جائے اور وہ اس طرف توجہ فرمائیں، فی الحال تو ان کے معتقدین بذات خود ٹشو پیپر بنے ہوئے ہیں، استعمال کے بعد ان کا مصرف کیا ہو گا، یہ اُن کی سمجھ میں بھی نہیں آ رہا.... ویسے بھی انقلاب کے لئے بنیادی شرط قائد انقلاب کا وجود ہے، قائد موجود ہو تو پیروکار پیدا ہوتے رہیں گے۔ آگ روشن رکھنے کے لئے لکڑیاں جلانا پڑتی ہیں، ان کو سنبھال کر رکھا تو نہیں جا سکتا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کو عمرانی دھرنے پر یوں فوقیت حاصل رہے گی، کہ ثانی الذکر کے شرکا ایک جگہ بیٹھنے کے پابند نہیں ہیں۔ وہ دن بھر، کہیں بھی، کچھ بھی کر سکتے ہیں، رات کا آخری پہر بھی ان کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے، اس لیے اس کو اگر مسلسل جلسے کا نام دے دیا جائے، تو پھر شاید اس کا ریکارڈ توڑا نہ جا سکے۔ کسی لیڈر نے اس سے پہلے اپنے حاضرین کو مسلسل پینتالیس روز تک ایک ہی تقریر سے شائد اس طرح کبھی محظوظ نہ کیا ہو۔

خان صاحب اور ڈاکٹر طاہر القادری ہماری ہمدردیوں کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی مشکل آسان کرے اور وہ اپنے دھرنے کو سمیٹنے میں اسی طرح کامیابی حاصل کر لیں، جس طرح اسے شروع کرتے ہوئے حاصل کی تھی۔ گزشتہ پینتالیس دن میں کئی مقامات ایسے آئے جہاں وہ خاتمے کا فاتحانہ اعلان کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے پچاس، ساٹھ، ستر فیصد حاصل کرنے کو ناکامی قرار دے ڈالا اور سو فیصد پر اصرار کرتے رہے، اپنے لیے جو الجھن انہوں نے خود پیدا کی ہے، اس میں سے نکلنے کا راستہ بھی خود ان ہی کو تلاش کرنا ہو گا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے لئے تو یہ باتیں ہاتھ کا کھیل ہے کہ وہ فقہی امور پر دسترس رکھتے ہیں اور کسی وقت بھی ڈبل روٹی سے انگوٹھی اور ڈبے سے خرگوش نکال کر دکھا سکتے ہیں، لیکن خان صاحب کرکٹ کے کھلاڑی ہیں، اس میدان میں خود ہی خرگوش بننا پڑتا ہے۔عین ممکن ہے فطرت مددکو آ جائے اور عین ممکن ہے کوئی خلاف ِ فطرت ترکیب تلاش کرنی پڑے۔

اسلام آبادی دھرنوں نے وزیراعظم نواز شریف کو دورہ مختصر رکھنے پر مجبور کیا۔ لندن اور نیو یارک میں ”گو نواز گو“ کے نعرے بھی ان کے استقبال کے لئے موجود تھے، لیکن زیادہ پریشانی اس لیے نہیں ہوئی کہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے جذباتی اپنی اپنی حکومتوں کے خلاف بھڑاس نکالنے کے لئے اقوام متحدہ کے سامنے موجود رہتے ہیں، ان کے نعروں میں پاکستانی انقلابیوں کے نعرے بھی گم ہو گئے۔ امریکہ کے ممتاز پاکستانی صحافی عظیم میاں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستانیوں کا اس سے بڑا احتجاجی مظاہرہ اس سے پہلے اس جگہ پر نہیں دیکھا۔ وزیراعظم واڈروف ایسٹوریا ہوٹل میں ٹھہرے، جسے نیو یارک کا مہنگا ترین ہوٹل کہا جاتا ہے۔ اس حوالے سے بہت کچھ کہا جا رہا ہے، لیکن پرویز رشید اس سب کی تردید کرتے ہیں، یہ تحقیق کا ایک اور موضوع ہے۔ بہرحال بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جس ہوٹل میں ٹھہرے اس کا کرایہ1100ڈالر روزانہ تھا۔ تقریر بھی انہوں نے اپنی زبان، یعنی ہندی میں کی۔

نواز شریف کی تقریر میں مسئلہ کشمیر کا ذکر جس دھڑلے سے کیا گیا، اُس نے پُرجوش رائے عامہ کو مطمئن کیا اور ان کے مُنہ زور ناقدین کے مُنہ (کم از کم وقتی طور پر) بند کر دیئے۔ وزیراعظم مودی سے ان کا کوئی رابطہ ممکن نہیں ہو سکا، دونوں ممالک کے درمیان سیکرٹری خارجہ کی سطح کے مذاکرات ختم کئے جا چکے تھے۔ نئی دہلی میں مقیم پاکستانی ہائی کمشنر کے کشمیری قائدین سے رابطے کو بنیاد بنا کر بھارت نے یہ ملاقات منسوخ کر ڈالی تھی۔ نیو یارک میں بھی اس کے اثرات موجود رہے اور پاکستان کے سیکرٹری خارجہ نے تاثر دیا کہ تم روٹھے تو ہم چھوٹے۔گویا، بھارت اگر بات جیت پر تیار نہیں ہے، تو ہم بھی نہیں ہیں۔ ہم آدمی ہیں تمہارے جیسے جو تم کرو گے سو ہم کریں گے۔ بھارتی میڈیا وزیراعظم کی تقریر پر لال پیلا ہو رہا ہے۔ حضرت حسین حقانی نے ارشاد فرمایا ہے کہ نواز شریف کی تقریر آئی ایس آئی کی لکھی ہوئی معلوم ہوتی تھی، یعنی پاکستان میں سول ملٹری تعلقات بہتر ہو رہے ہیں یا ہو چکے ہیں....؟؟؟

(یہ کالم روزنامہ ” پاکستان “ اور روزنامہ ”دنیا“ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

مزید : کالم