وزیراعظم کی جنرل اسمبلی میں تقریر،جنرل راحیل کا خطاب، ہم آہنگی ظاہر

وزیراعظم کی جنرل اسمبلی میں تقریر،جنرل راحیل کا خطاب، ہم آہنگی ظاہر
وزیراعظم کی جنرل اسمبلی میں تقریر،جنرل راحیل کا خطاب، ہم آہنگی ظاہر
کیپشن: ch.kahdam

  

تجزیہ چودھری خادم حسین

وزیراعظم محمد نوازشریف نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا اور پاک بھارت دیرینہ تنازعہ کشمیر کو بہتر طریقے سے اجاگر کرکے بھارت کی ’’دشمنی‘‘ مول لے لی اور ان کے نام پر ’’بھارت دوستی‘‘ کا جو دھبہ تھا اسے دھو دیا، وزیراعظم نے بجا طور پر عالمی فورم سے توقع باندھی کہ وہ ایجنڈے پر موجود اس تنازع کو نمٹانے اور حل کرنے میں معاونت کرے گی۔وزیراعظم کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کھلی کتاب کی مانند ہے اور پاکستان کی دیرینہ پالیسی کا مظہر ہے، انہوں نے کوئی نیا تنازع پیدا نہیں کیا پہلے سے موجود تنازع کے حل پر زور دیا ہے۔

جس روز وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں تقریر کی اسی روز پاکستان میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے جہلم کے قریب لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا، جوانوں سے ملاقات کی ان کو شاباش دی اور تعریف کی اوراعلان کیا کہ پاکستان کی سرحد پر جارحیت ہوئی تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

دونوں تقریروں کے مقامات الگ ضرور ہیں، لیکن مقاصد میں کوئی فرق نظر نہیں آتا بلکہ ہم آہنگی اور یکجہتی دکھائی دی ہے کہہ سکتے ہیں کہ کشمیر پالیسی میں دونوں فریق ایک پیچ پر ہیں، یہ بہت سے تجزیہ نگاروں کے لئے ایک بہترین موضوع ہے ان کو اپنی ذہانت کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اس سے پہلے میاں محمدنوازشریف کے خلاف بھارت دوستی کا طعنہ ایک الزام کی صورت میں دیا جاتا کہ وہ دہلی جا کر نریندر مودی کی بطور وزیراعظم تقریب حلف برداری میں شریک ہوئے اور ملاقات بھی کی اسی کے نتیجے میں مذاکرات کا سلسلہ پھر سے شروع ہوا اور بات خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات تک پہنچ گئی۔یہ ملاقات بھارت کی طرف منسوخ اور سلسلہ ترک کیا گیا۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اس کی ذمہ داری بھی بھارت پر عائد کی ہے۔

نئی صورت حال میں پاک بھارت تعلقات میں جو بہتر موڑ آیا وہ پھر سے گم ہو گیا اور بات وہیں پہنچ گئی جہاں سے شروع ہوئی تھی، بھارت کی طرف سے سخت تنقید کی گئی ہے۔

بہت لکھا جا چکا، اب تو دھرنوں کے حوالے سے بین الاقوامی پریس ہی میں خبریں دیکھ لیا کریں جس کے مطابق دھرنے والے واپس جانا چاہتے ہیں ان کو راہ نہیں ملتی اور اسی دوران پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے میں بیک وقت تین جوڑے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے ہیں اور کہتے ہیں سوشل میڈیا کو نیا شغل مل گیا ہے، بات تو عمران خان کے دھرنے کی ہوئی تھی شادیاں ڈاکٹر صاحب کے دھرنے میں ہوئیں۔

آج (اتوار) سے دھرنا سیاست کا نیا باب شروع ہو رہا ہے۔ لاہور کے مینار پاکستان پر پاکستان تحریک انصاف کا جلسہ ہے اور یہ نئی حکمت عملی کا مظہر ہوگا، عمران خان کہتے ہیں وہ کچھ نئے اور اہم انکشاف کریں گے اور نئی حکمت عملی کا اعلان ہوگا بہرحال آج لاہور ایک نیا منظر دیکھے گا۔باقی معاملات جوں کے توں ہیں ان پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔جلسے کے بعد ہی رائے دی جا سکے گی۔

جنرل اسمبلی میں تقریر

مزید :

تجزیہ -