حریت کانفرنس کی میرواعظ عمر فاروق کو نماز عید کی ادائیگی سے روکنے کی مذمت

حریت کانفرنس کی میرواعظ عمر فاروق کو نماز عید کی ادائیگی سے روکنے کی مذمت

  



سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں کٹھ پتلی انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چےئرمین میرواعظ عمر فاروق کو ماضی کی طرح اس سال بھی اپنی رہائش گاہ پر نظر بند کر کے اپنا مذہبی و منصبی فریضہ اور عید الاضحی کی نماز ادا کرنے سے روک دیاہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سرینگر سے جاری ایک بیان میں حریت کانفرنس کے ترجمان نے میرواعظ کی مسلسل نظر بندی کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ۔ ترجمان نے کہا کہ میرواعظ کو گزشتہ چھ برسوں سے مسلسل نہ صرف عیدین کی نماز کی ادائیگی سے روکا جا رہا ہے بلکہ ان کی تمام دینی، سماجی ، ملی اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا کر عوام کے جذبات اور احساسات سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ ترجمان نے مختار احمد وازہ ، جاوید احمد میر، ہلال احمد وار اور دیگر حریت رہنماؤں اور کارکنوں کی بلاجواز گرفتاریوں ، گھروں پر چھاپوں اور مکینوں کو ہراساں کرنے کو آمریت کا بدترین مظاہرہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ ترجمان نے واضح کیا کہ کشمیری عوام نے اپنے بنیادی اور پیدائشی حق کے حصول کیلئے جو جدوجہد شروع کی ہے اس کو دھونس ، دباؤ ، جبر و تشدد، گرفتاریوں اور خانہ نظر بندیوں سے ہرگز دبایا نہیں جا سکتاہے اور نہ ہی تحریک آزادی کے لیے ہمارے عزم و استقلال کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔ ترجمان نے سعودی عرب میں مناسک حج کی ادائیگی کے دوران منیٰ میں پیش آئے دلخراش واقعے پر جس میں تقریباً ایک ہزار ججاج کرام شہید اور بڑی تعداد میں شدید زخمی ہوگئے ہیں،شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے سعودی حکام اور شہداء کے لواحقین سے تعزیت کا اظہارکیا اور اللہ تبارک وتعالیٰ سے زخمیوں کی فوری شفایابی کیلئے خصوصی دعا کی۔

مزید : عالمی منظر


loading...