بھارت نے اقوام متحدہ کی ایک بھی سفارش پر عمل نہیں کیا: الطاف حسین وانی

بھارت نے اقوام متحدہ کی ایک بھی سفارش پر عمل نہیں کیا: الطاف حسین وانی

  



جنیوا (اے پی پی) کشمیری نمائندے الطاف حسین وانی نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جبری طور پر لاپتہ کئے گئے افراد کے اہل خانہ کوانصاف کی فراہمی سے مسلسل انکار کررہا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انہوں نے یہ بات جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے تیسویں اجلاس میں عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہی۔ انسانی حقوق کونسل کی توجہ بھارت کے یونیورسل متواتر جائزہ کی طرف مبذول کراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے ریکارڈ میں بہتری لانے کے لیے بھارت کو 169سفارشات دی گئی تھیں لیکن وہ ان سفارشات پر عملدرآمد کرانے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔ الطاف وانی نے کہا کہ بھارت سے کہا گیا تھا کہ وہ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ، پبلک سیفٹی ایکٹ اور فارن کنٹریبوشن ریگولیشن ایکٹ جیسے کالے قوانین کو منسوخ کرے اور لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے اور ان پر تشدد کرنے کا سلسلہ بند کرے لیکن بھارت نے انسانی حقوق کونسل کی ایک بھی سفارش پر عمل نہیں کیا ۔ ماورائے عدالت قتل اور لوگوں کو پھانسی کی سزا دینے کے حوالے سے الطاف وانی نے مندوبین کو بتایا کہ بھارت نے جو چھوٹے موٹے اقدامات اٹھائے تھے وہ بھی ابھی تک قانون سازی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اجتماعی قبروں پر تعمیر کا کام نہیں روکااور لاپتہ کئے گئے افراد کے اہل خانہ کو انصاف کی فراہمی سے مسلسل انکار کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا یہ رویہ ایک طرف کونسل کے مخصوص طریقہ کار کو نظرانداز اور اسکی اہمیت کو کرنے کا ثبوت ہے تو دوسری طرف اس سے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہواہے۔ انہوں نے کہا کشمیر کے معروف انسانی حقوق کارکن پرویز امروز کا پاسپوٹ کونسل کی باربار سفارشات کے باوجود ابھی تک ضبط ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی کو نیویارک میں اسلامی تعاون تنظیم کے اہم اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا توبھارتی حکام نے ان کاپاسپورٹ معطل کردیا۔

مزید : عالمی منظر


loading...