ایک چینی دوست سے مکالمہ

ایک چینی دوست سے مکالمہ
ایک چینی دوست سے مکالمہ

  



عید الاضحی کے دوسرے دن ایک عزیز کے ہاں عشائیہ تھا۔ یہ ایک محدود سی محفل تھی۔ زیادہ تر عزیز و اقربا تھے کیونکہ یہ تین دن نزدیکی رشتہ داروں سے میل ملاپ کے لئے مختص سمجھے جاتے ہیں۔ خواتین کو بھی شامل کر لوں تو اس تقریب میں 30, 25 مہمانوں سے زیادہ نفری نہیں ہو گی۔ دن چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں اس لئے جب ہم نو بجے شب وہاں پہنچے تو لگتا تھا رات جوان ہو چکی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد دو غیر ملکی مہمان بھی آ گئے جن کے بارے میں مجھے پہلے سے کوئی خبر نہ تھی۔ میزبان نے تعارف کروایا تو معلوم ہوا یہ چین کی ایک ملٹی نیشنل کارپوریشن کے (پاکستان میں) ایگزیکٹو ہیں۔ عمریں کوئی 26, 25 کے لگ بھگ ہوں گی لیکن بعد میں معلوم ہوا۔ مرد کی عمر 43 پلس ہے اور خاتون کی عمر پوچھنے کا حوصلہ نہ ہوا کیونکہ وہ مرد سے کافی کم عمر لگتی تھیں۔ دونوں میاں بیوی نہیں تھے، البتہ ہنس مکھ تھے اور انگریزی زبان میں اظہار مدعا پر تقریباً 90, 80 فی صد دسترس کے حامل بھی۔ خاتون زیادہ پڑھی لکھی تھیں اور معلوم ہوا کہ مترجم بھی ہیں۔ 30, 25 منٹ کی ابتدائی گفتگو کے بعد ہم نے خاتون کو تو ساتھ والے زنان خانے میں بھیج دیا اور وہ چینی جن کا نام مسٹر ’’گو‘‘ (GU) تھا ہمارے ساتھ ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئے۔

ڈرائنگ روم کے مکینوں میں نوجوان لڑکے لڑکیاں بھی تھیں، ادھیڑ عمر کے حضرات بھی تھے اور ہم جیسے ’’ستّرے بہتّرے‘‘ بھی تھے۔ مسٹر گو کو پاکستان میں آئے سات برس ہو چکے تھے لیکن پھر بھی وہ اُردو کے ایک آدھ تقریباتی جملے ہی سے گزارا کر رہے تھے۔ ہمیں اچھا نہ لگا کہ ان کے ہوتے ہوئے اپنی زبان (اردو/پنجابی) میں گفتگو کریں کہ یہ آدابِ میزبانی کے خلاف بات ہو جاتی۔ اس لئے سب نے باری باری چین کے مختلف سماجی، اقتصادی، سیاسی، تاریخی، جغرافیائی اور ترقیاتی پہلوؤں پر گفتگو شروع کر دی تاکہ مہمان کو اجنبیت کا احساس نہ ہو۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ہماری نوجوان نسل نہ صرف چین بلکہ بھارت اور ہمارے دوسرے ہمسایہ ملکوں کے بارے میں بھی قابل تحسین واقفیت رکھتی ہے اور بین الاقوامی سیاسیات سے بھی کافی حد تک شناسا ہے۔تین چار گھنٹے کی اس محفل میں چین کے متعلق جو باتیں ہوئیں اور جو معلومات ملیں وہ پاک چین گرم جوش تعلقات کے تناظر میں بہت حوصلہ افزا تھیں۔

ایک نوجوان لڑکے نے یہ پوچھا کہ : ’’مسٹر گو! آپ کا تعلق جس کمپنی سے ہے اس کے بارے میں بریف کیجئے۔‘‘ ہمارے محترم مہمان نے بتایا کہ ان کی کمپنی کا نام MCC ہے جو ’’میٹالرجیکل کارپوریشن آف چائنا‘‘ کا مخفف ہے۔ یہ کارپوریشن دنیا کے مختلف ممالک میں چین کی معروف ترین ملٹی نیشنل کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ بنیادی طور پر یہ ایک انجینئرنگ سروس کمپنی ہے۔یہ کمپنی (آسٹریلیا کے سوا) دنیا کے دوسرے چار براعظموں میں انجینئرنگ، ڈیزائننگ، ٹرانسپورٹیشن، بجلی، کان کنی، ماحولیات، الیکٹرانکس اور کیمیکلز کے شعبوں میں اختصاص رکھتی ہے۔ خام لوہے اور فولاد کے شعبوں میں بھی اسے سپیشل مہارتوں کی حامل عالمی کارپوریشنوں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔۔۔ علاوہ ازیں رئیل سٹیٹ سے متعلق جملہ موضوعات میں تعمیرات، مشاورت اور شراکتِ کار کے تمام فنون میں بھی ایک خاص شہرت رکھتی ہے۔ اس کا ایک اختصاص یہ بھی ہے کہ یہ سٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی کو خفیہ رکھنے کی قائل نہیں بلکہ اپنے گاہکوں کو، مختلف خدمات (Services) فراہم کرنے کے علاوہ ساز و سامان (Equipment) کی ٹیکنالوجی اور اس کے طریقہ ہائے کار (SOPs) کو بھی عام کرنے اور ’’بانٹنے‘‘ پر بھی یقین رکھتی ہے۔

پاکستان میں MCC کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ سیندک اور ریکوڈک کے سونے، تانبے اور خام لوہے کے ذخائر کی کان کنی میں بھی ایک بڑی ٹھیکیدار فرم ہے۔ حال ہی میں (مئی 2015ء) میں وزیر اعظم نے بہاولپور میں جس ’’قائد اعظم سولر پارک‘‘ کا افتتاح کیا تھا اس میں MCC کا رول نمایاں ہے۔ فی الحال اس پارک سے 100 میگا واٹ بجلی پیدا ہوتی ہے جس میں سے 70 سے 80 میگا واٹ نیشنل گرڈ سسٹم (132 کے وی) میں انڈکٹ کرنے کا کام تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ اس پارک کا حتمی پیداواری ہدف 1000 میگا واٹ ہے۔

مسٹر گو یہ تمام باتیں اپنے چینی لب لہجے والی انگریزی میں بیان کر رہے تھے لیکن 90 فیصد سمجھ آ رہی تھی کہ کیا کہہ رہے ہیں۔ بیچ میں ایک نوجوان نے سوال کیا کہ جب شام ہو جاتی ہے اور پھر رات سے صبح تک سورج کی روشنی نہیں ہوتی تو کیا سولر پاور کی جنریشن گنجائش کم نہیں ہو جاتی؟۔۔۔یہ سوال سن کر ہمارے میزبان بریگیڈیئر زاہد صاحب جو مسٹر گو سے کئی طویل ملاقاتیں کر چکے تھے انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت کو یہ بات پاکستانی عوام کو بتانی چاہئے کہ سولر پاور جنریشن اور تمازتِ آفتاب کا باہمی تعلق اور تناسب کیا ہے۔ ایسے اوقات میں کہ جب دھوپ کم ہوتی ہے یا ہوتی ہی نہیں (رات کو) تو اس وقت سولر پاور سسٹم کے فوٹو سیل کام نہیں کرتے اور بجلی نہیں بن پاتی۔ اس پر ان سے سوال کیا گیا کہ کیا دن کے وقت جتنی بجلی پیدا ہوتی ہے اگر اس کو خرچ نہ کیا جائے تو کیا اسے اندھیرے اوقات کے لئے بچایا بھی جا سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ اس کو ممکن بنایا جا سکے۔ لیکن ابھی یہ کوششیں ابتدائی مراحل میں ہیں۔۔۔اتنے میں کھانا چن دیا گیا اور ہم ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھنے لگے۔ یہ چونکہ بوفے ڈنر تھا اس لئے سب لوگ اپنی اپنی پلیٹیں ’’حسبِ توفیق‘‘ ٹاپو ٹاپ کر کے اپنی اپنی نشستوں پر آ بیٹھے اور جیسا کہ عام اصول ہے دورانِ طعام سلسلۂ کلام بھی چلتا رہا۔

سات سال کے قیام میں مسٹر گو پاکستانیوں کی بہت سی طبعی مضبوطیوں اور کمزوریوں سے آگاہی پا چکے تھے۔ میزبان خاتون مسز سنبل زاہد وقفے وقفے سے آ آ کر سب سے پوچھتی رہیں کہ: ’’کسی چیز کی ضرورت؟۔۔۔ اور ہاں مسٹر گو آپ نے تو بہت کم کھایا ہے، تکلف نہ کریں۔‘‘ یہ سن کر مسٹر گو نے ایک بلند قہقہہ لگایا اور کہا کہ: ’’میڈم !میں نے اپنی قومی روایات سے زیادہ کھا لیا ہے۔ ہم لوگ صبح 6سے 7 بجے تک ناشتہ، دوپہر کو بارہ بجے سے ایک بجے کے درمیان لنچ اور رات کو سات سے آٹھ بجے تک کھانا کھا کر سو نہیں جاتے بلکہ اگر رات دو بجے تک جاگنا بھی پڑے تو جاگتے ہیں لیکن ’’متفرق طعام خوری‘‘ سے پرہیز کرتے ہیں۔ میں نے یہ سن کر ان کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اور پھر اپنے سمیت اپنی عمر کے دوسرے شرکائے محفل کے پیٹوں کی طرف اشارہ کر کے کہا: ’’آپ کا پیٹ اور کمر دونوں انگریزی بینڈ کے چھوٹے ڈرم کی مانند چپٹے ہیں لیکن ہم پاکستانیوں کے پیٹ اور کمریں دیسی ڈھول کی طرح دونوں اطراف سے مدوّر، گول مٹول اور لحیم شحیم ہیں۔‘‘ ۔۔۔ اتنے میں ایک خاتون ڈرائننگ روم میں داخل ہوئیں اور پوچھا: ’’سویٹ ڈش کے لئے تیارہیں؟‘‘۔۔۔ مجھے یوں لگا کہ انہوں نے میرا ڈھول والا جملہ سن لیا تھا اس لئے شرماتی شرماتی اور کھسیانی سی ہنسی لبو ں پر بکھیرتی واپس چلی گئیں!

ایک کرنل صاحب نے مسٹر گو سے سوال کیا: ’’آپ کے کتنے بچے ہیں؟‘‘۔۔۔ یہ سوال سن کر چینی مہمان بہت حیران ہوئے اور پوچھا: ’’کیا پاکستانیوں کو معلوم نہیں کہ کسی چینی جوڑے کا اگر دوسرا بچہ (لڑکا یا لڑکی) پیدا ہو جائے تو اس کو سرکاری یا نجی نوکری سے نکال دیا جاتا ہے؟۔۔۔ اور چونکہ چین میں مرد اور عورت دونوں جاب کرنے پر مجبور ہیں اس لئے دوسرے بچے کی پیدائش کا مطلب ہے، چار افراد پر مشتمل پوری فیملی بے گھر، بے در اور بے زر ہو جاتی ہے!‘‘

یہ سن کر مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے سوال کیا: ’’مسٹر گو! آپ مائنڈ نہ کریں تو کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ جب ایک فطری عمل کو روک دیتے ہیں تو غیر فطری نتائج کا سامنا ہونا نا گزیر ہو جاتا ہے؟۔۔۔مجھے بتایئے کہ جب کوئی نوجوان جوڑا ایک بچہ پیدا کر لیتا ہے تو کیا دونوں کی تولیدی زرخیزی بانجھ ہو جاتی ہے، بانجھ کر دی جاتی ہے یا بانجھ ہونے پر مجبور ہو جاتی ہے؟‘‘۔۔۔ یہ سوال سن کر مسٹر گو نے ذرا توقف کیا اور پھر آہستہ سے جواب دیا: ’’آپ کا تیسرا سوال میرا جواب ہے!‘‘۔۔۔ یہ سن کر میں نے ایک اور زیادہ فکر انگیز بلکہ تشویشناک سوال داغا: ’’پہلے بچے کی پیدائش کے بعد اگر شادی شدہ جوڑا ایسے ’’انتظامات‘‘ کر لیتا ہے کہ دوسرا بچہ پیدا نہ ہو سکے تو کیا اس سے زن و شو کے ازدواجی تعلقات متاثر نہیں ہوتے؟۔۔۔ کیا دونوں ایک دوسرے کے وفادار رہتے ہیں؟۔۔۔ کیا ان حالات میں بے وفائی کے امکانات زیادہ نہیں ہو جاتے؟۔۔۔ کیا استقرارِِ حمل کو مستقل روک دینے کی کاوش عورت اور مرد دونوں کو روائتی ازدواجی وفاؤں اور بندھنوں سے آزاد ہونے کی راہ پر نہیں ڈال دیتی؟‘‘۔۔۔اس سوال کا جواب اگرچہ مسٹر گو نے دینے کی لولی لنگڑی کوشش کی لیکن سامعین کی تسلی نہ ہو سکی۔۔۔اس کے بعد میں نے اُن سے کئی اور سوال پوچھے جو میرے ذہن میں ایک عرصے سے کلبلا رہے تھے۔ مثلاً:

-1 چین کی طوفانی ترقی کا اصل راز کیا ہے؟

-2اکنامک کاریڈار کا مستقبل آپ کیا دیکھ رہے ہیں؟

-3چین، گلوبل آویزشوں اور جنگوں میں اپنے دوستوں کی عملی مدد کیوں نہیں کرتا؟

-4چین کی ہمہ پہلو تعمیر و ترقی کے اصل معمار ماوزے تنگ تھے یا کوئی ا ور لوگ بھی تھے؟

-5 تین ستمبر 2015ء کی ملٹری پریڈ کا ’’روئے سخن‘‘ کس طرف تھا؟۔۔۔ بھارت کی طرف؟۔۔۔ جاپان کی طرف؟۔۔۔ یا امریکہ کی طرف؟۔۔۔

-6روس اور چین کے باہمی اشتراک کو کیا کسی ’’مشرقی ناٹو‘‘ میں ڈھالا جا سکتا ہے؟

-7چینی زبان کو گلوبل زبان بنانے کیلئے آپ نے کیا اقدامات کئے ہیں؟

-8 چینی میڈیا، بین الاقوامی زبانوں (خاص طور پر انگریزی زبان) میں اپنی نشریات کیوں نشر نہیں کرتا؟۔۔۔کیا روس کی طرح چین کے نشریاتی ادارے انگریزی بولنے والے نیوز ریڈرز، اینکرز اور تبصرہ نگار حضرات کی خدمات حاصل نہیں کر سکتے؟

-9پاکستان میں چینی زبان کا مستقبل کیا ہے؟

مجھے تسلیم کرنا چاہئے کہ ان تمام مشکل اور بسیط موضوعات پر ہم نے تا دیر گفتگو جاری رکھی۔ دل چاہتا ہے اپنے قارئین کو بھی آگاہ کروں کہ چینیوں کے آئندہ منصوبے اور عزائم کیا ہیں لیکن کالموں کی تنگ دامانی حائل ہو جاتی ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ گاہے بگاہے، ایک ایک موضوع پر دل کا غبار نکالتا رہوں!

مزید : کالم


loading...