سانحہ منیٰ:سوالات ، گزارشات

سانحہ منیٰ:سوالات ، گزارشات
 سانحہ منیٰ:سوالات ، گزارشات

  



پاکستان میں اس بار عیدالاضحی افسردگی اور دکھ کے جذبات میں منائی گئی ۔ منیٰ کے سانحہ میں مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر شہادت ایک عظیم المیہ ہے، مگر پاکستانیوں کے لئے یہ اذیت ناک اور نہ ختم ہونے والی کرب کی گھڑیوں کا ایک ایسا سلسلہ بن کر رہ گیاہے، جو ابھی تک ختم ہونے میں نہیں آرہا۔ سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے اور حج مشن کی انتہائی شرمناک کارکردگی نے اس المیے کو ایک ایسا ڈراؤنا خواب بناکر رکھ دیا ہے۔ جس کی چبھن نے ہزاروں گھرانوں کی نیندیں اڑادی ہیں۔ جب یہ سانحہ پیش آیا تو الیکٹرانک میڈیا کے نمائندے چلا چلا کر میدان عرفات سے یہ رپورٹنگ کرتے رہے کہ یہاں سفارت خانے یا حج مشن کا کوئی نمائندہ موجود نہیں۔ جب ان لوگوں کو ہوش آیا تو سفیر محترم نے شرمناک ڈھٹائی سے یہ اعلان کردیا کہ اس سانحے میں کسی پاکستانی کے شہید یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں۔ لگتا ہے موصوف نے بغیر کسی تحقیق اور بغیر اپنے دفتر سے نکلے یہ بیان جاری کردیا تھا۔ دوگھنٹے بعد یہ تصدیق کی گئی کہ اس سانحہ میں ایک پاکستانی بھی شہید ہوا ہے اور پانچ زخمی ہیں۔ صاف لگ رہا ہے کہ سب کچھ انتہائی غیر ذمہ داری اور موقع پر جائے بغیر کہا گیا، حالانکہ اگر کوئی ذمہ دار شخص ہوتا اور جن (270)افراد کو خدام حجاج بناکر سعودی عرب لے جایا گیا تھا، کے ہمراہ حادثے کی جگہ پہنچتا تو بہت کچھ سامنے آسکتا تھا اور پاکستانیوں کی لاشیں اس طرح مردہ بھیڑ بکریوں کی طرح لاشوں کے ڈھیر میں پڑی نہ ملتیں، جیسی کہ سوشل میڈیا پر تصاویر میں نظر آرہی ہیں۔

کتنی شرمناک بات ہے کہ حج مشن کے افسران اور سفارت خانے کے ذمہ داران حادثے کے بعد چار دن تک یہی کہتے رہے کہ انہیں سعودی حکام ہسپتالوں اور مردہ خانوں تک رسائی نہیں دے رہے۔ یہ سفارت کاری کی بدترین شکل ہے کہ آپ متعلقہ ملک میں بے بسی کا اظہار کررہے ہوں۔ ایران، انڈونیشیا ، مصر حتیٰ کہ بھارت نے بھی اپنے شہریوں کی لاشیں اور شناخت بروقت مکمل کرلی، مگر ہم جو سعودی عرب کے ساتھ سب سے اچھے تعلقات کا دعویٰ کرتے ہیں اور ہمارے ملک کے وزیراعظم نوازشریف خادم حرمین شریفین سے ذاتی مراسم بھی رکھتے ہیں، اس ملک کے شہریوں کی گمشدگی پر ہمارے سفارتی حکام اس طرح اظہار بے بسی کرتے رہے جیسے وہ اسرائیل میں کسی حادثے کی تفصیلات اکٹھی کررہے ہوں۔ حاجیوں کے ورثاء چیخ چیخ کر کہتے رہے کہ ان کا اپنے پیاروں سے رابطہ نہیں ہورہا۔ سینکڑوں حاجیوں کی گمشدگی میڈیا کے ذریعے سامنے آگئی، مگر وزارت خارجہ، حج مشن کے حکام اور خود وزیر مذہبی امور ٹس سے مس نہ ہوئے۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نیویارک میں بیٹھ کر یہ فرمان جاری کرتے رہے کہ حکام گمشدہ حاجیوں کی تلاش کو فوری اور یقینی بنائیں ،مگر ایک دور بیٹھے سربراہ حکومت کی بات کون سنتا ہے۔ ایک سانحہ تو منیٰ میں ہوا، لیکن اس سے بھی بڑا سانحہ ہمارے ذمہ دار محکموں کی بے حسی اور غفلت ہے۔ جنہوں نے اس حقیقت کو تسلیم ہی نہیں کیا کہ ہم ایک بڑے سانحہ سے دوچار ہوچکے ہیں۔

جس دن برطانوی اخبار’’ گارجین‘‘ نے یہ خبر شائع کی کہ پاکستان کے سب سے زیادہ حاجی سانحہ میں شہید ہوئے ہیں اور ان کی تعداد 216ہے تو ان 316حاجیوں کے ورثا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، جو لاپتہ چلے آرہے تھے، اس موقع پر حج ڈائریکٹر، پاکستانی سفیر اور وزیر مذہبی امور کے فون بند ہوگئے،جس نے غمزدہ خاندانوں کو مزید اذیت سے دوچار کردیا۔ اچانک وزیر مذہبی امور کا یہ بیان ٹی وی چینلوں پر چلنے لگا کہ لاپتہ حاجیوں کے بارے میں افواہیں نہ پھیلائی جائیں، یہ معمول کی بات ہے کہ حج کے موقع پر حاجی لاپتہ ہوجاتے ہیں، وزیر موصوف کو شاید یہ علم نہیں کہ اب موبائل فون کا زمانہ ہے اور ہر حاجی کے پاس موبائل فون ہے، جس پر ان سے ورثا کی بات بھی ہوتی رہی ہے، اگر وہ راستہ بھٹک کر کہیں لاپتہ بھی ہوگئے ہیں تو فون تو کرسکتے ہیں۔ ان کے فون کیوں بند ہوگئے ہیں، کیا ان کے لاپتہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے فون بھی لاپتہ ہوگئے ہیں، کیا سعودی عرب میں اندھیر نگری چوپٹ راج کا نظام ہے کہ جو لاپتہ ہو جاتا ہے، وہ کسی لیاری گینگ کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔ ملتان کے سید اسد گیلانی کی مثال سب کے سامنے ہے۔ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بھانجے اور سابق وزیر ہونے کے ناطے ان کی ایک پہچان موجود تھی، وہ جب لاپتہ ہوئے تو سید یوسف رضا گیلانی نے وزارت خارجہ سے لے کر وزارت مذہبی امور تک سب سے رابطہ کیا، مگر کوئی سرگرمی دیکھنے میں نہ آئی۔ بالآخر سید اسد گیلانی کے دوستوں نے ہی ان کی لاش کو ایک پرائیویٹ ہسپتال میں تلاش کیا اور ان کے شہید ہونے کی تصدیق کی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب میں ہمارے سفارت خانے اور حج مشن کی گرفت انتہائی کمزور ہے اور وہ کسی سانحہ کے بعد عام آدمی جیسا کردار بھی ادا نہیں کرسکتے۔

اس بار حج کے موقع پر مکہ میں دو سانحات کا رونما ہونا بہت سے سوالات چھوڑگیا ہے۔ ایران کی طرف سے ردعمل انتہائی شدید آیا ہے۔ ایران کے 131حجاج شہید ہوئے ہیں۔ ایران کے صدر روحانی نے نیویارک میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سعودی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ یہ مطالبہ تک کردیا ہے کہ حج کے انتظامات سعودی حکومت سے لے کر اسلامی ممالک کی تنظیم کو دیئے جائیں۔ سعودی عرب کے مفتی اعظم نے اگرچہ یہ فتویٰ دیاہے کہ ایسے واقعات کو روکنا انسانی بس میں نہیں ہے، لیکن مہذب دنیا شاید اس مؤقف کی تائید نہ کرے۔ ممتاز مذہبی سکالر اور منشور قرآن کے مولف عبدالحکیم ملک نے مجھے وینکوورکینیڈاسے فون کیا ،پھر کچھ ای میلز بھی بھیجیں۔ ان کا کہناتھا کہ حج جیسے مذہبی فریضے کو کمرشل سرگرمی بنانے سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کعبے کی حرمت کا سوال بھی اٹھایا اور کہا کہ جس طرح حرم کے اردگردبلند وبالا عمارتوں کا، جن میں زیادہ تر ہوٹل ہیں، جال بچھا دیا گیا ہے، اس سے کعبہ کی حرمت پر آنچ آنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں ۔ خانہ کعبہ کو نیویارک جیسے ڈاؤن ٹاؤن علاقے میں تبدیل کرنے سے ہم کہیں اللہ تعالیٰ کے غضب کو آواز تو نہیں دے رہے اور حج کے موقع پر جو دوبڑے حادثے ہوئے ہیں، وہ کہیں رب کائنات کی ناراضگی کا اظہار تو نہیں؟

انہوں نے حرمت کعبہ کے حوالے سے قرآن وحدیث کے حوالے بھی دیئے، جنہیں مَیں کسی دوسرے کالم میں استعمال کروں گا، تاہم ان کی گفتگو کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ حرم کعبہ کے اردگرد پانچ کلو میٹر کے فاصلے تک کوئی کمرشل یا بلندوبالا عمارت تعمیر نہیں ہونی چاہئے تاکہ حرم کے اردگرد کشادہ اورپُرنورفضا برقرار رہے اور خانہ کعبہ کا تقدس بھی پامال نہ ہو۔ یہ سب کچھ کہتے ہوئے عبدالحکیم ملک کی آواز رقت آمیز ہوگئی اور انہوں نے فون بند کردیا۔۔۔مجھے یقین ہے کہ سعودی فرماں روا شاہ سلیمان اور ان کے رفقا اس بار حج پر ہونے والے المناک واقعات کو معمول کے حادثات نہیں سمجھیں گے۔ شاہ سلیمان نے پہلے ہی تشویش ظاہر کرکے ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی بنادی ہے، انہیں ایسا کرنا بھی چاہئے تھا، کیونکہ حج انتظامات کے سلسلے میں سعودی حکومت پر سنجیدہ سوالات اٹھے ہیں۔ اس سارے معاملے کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ کیا حاجیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مطابق انتظامات کئے جاسکتے ہیں ؟ اعدادوشمار اٹھا کر دیکھیں تو ہر سال چند لاکھ حاجیوں کا اضافہ ہوجاتا ہے۔

ہمیں یاد ہے کہ ہمارے بزرگوں کے زمانے میں حج پر جانا ایک بہت بڑا معجزہ سمجھا جاتا تھا، کیونکہ سعودی حکومت کی طرف سے زیادہ حاجیوں کی اجازت نہیں ملتی تھی۔ اب تو سب کچھ کمرشل ہوگیا ہے،اس موقع پر اربوں روپیہ اکٹھا ہوتا ہے ، یہ بہت بڑی تجارتی سرگرمی بن گئی ہے۔ کیا اب وقت نہیں آگیا کہ سعودی عرب اپنی حج پالیسی پر نظرثانی کرے۔ اسلامی ممالک کو اعتماد میں لے کر حاجیوں کی تعداد کو کم سے کم رکھا جائے، تاکہ اچھے انتظامات ممکن ہوسکیں اور سانحات سے بھی بچاجاسکے۔ مفتی اعظم نے اس بار یہ فتویٰ جاری کیا ہے کہ ایک حج کرنے والے دوسرا حج کرنے کی بجائے اس پیسے سے کسی غریب کی مدد کریں، اس کو ایک قانون بنادینا چاہئے، اس سے ایک تو پہلی بار حج کرنے والوں کے لئے مواقع بڑھیں گے، دوسرا انتظامات بھی بہتر ہوسکیں گے۔ سعودی عرب حج کے موقع پر برادر اسلامی ممالک سے انتظامات کے لئے فوجی دستے بھی طلب کرسکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سال ہونے والے دوسانحات کو پیش نظر رکھ کر ان تمام خامیوں کا جائزہ لیا جائے جو ان حادثات کا باعث بنیں تاکہ مستقبل میں ان سے بچا جاسکے۔

جہاں تک پاکستان کے حج مشن اور وزارت مذہبی امور کا تعلق ہے تو سانحہ منیٰ کے بعد ان کی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جو حج کے حوالے سے بھی کرپشن کا شکار رہا ہے۔ وزیراعظم میاں محمدنوازشریف کو اس سارے معاملے اور حج ڈائریکٹوریٹ نیز پاکستانی سفارت خانے کی بری کارکردگی کا نوٹس لیتے ہوئے حج انتظامات کے حوالے سے ایک کمیٹی بنانی چاہئے جو بدلتے ہوئے حالات اور ٹیکنالوجی میں آنے والی تبدیلیوں کے مطابق حج کے موقع پر پاکستانی حاجیوں کی سلامتی اور انہیں دی جانے والی سہولتوں کو یقینی بنانے کے لئے کوئی پالیسی وضع کرسکے۔ آخر میں دعا ہے کہ جو پاکستانی حجاج کرام لاپتہ ہیں، اللہ تعالی ٰان کے حوالے سے ہماری مدد فرمائے تاکہ جو ورثا اس وقت کرب میں مبتلا ہیں، انہیں سکون مل سکے۔

مزید : کالم


loading...