ناصر زیدی کا ’’التفات‘‘۔۔۔ مرضیہ زیدی(2)

ناصر زیدی کا ’’التفات‘‘۔۔۔ مرضیہ زیدی(2)
ناصر زیدی کا ’’التفات‘‘۔۔۔ مرضیہ زیدی(2)

  



ناصر زیدی کو ہی نہیں آج ہم سب کو جس معاشرے میں رہنا پڑ رہا ہے، وہ معاشرہ اعلیٰ انسانی اقدار کا دشمن ہے جھوٹ، ریا کاری، غُربت، منافقت، عزتِ نفس کا فقدان یہ منفی قوتیں ہیں۔ یہ قوتیں ہمیں مغلوب کر چکی ہیں مادی اور روحانی ضعیفی نے ہمیں اس قابل بھی نہیں چھوڑا کہ ہم یہ بوجھ اُتار سکیں لیکن اکثر ناصر زیدی ادبی محفلوں میں اعتماد کے ساتھ اس بوجھ کو اُتارنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی صاف گوئی کی بدولت منہ پھٹ بدلحاظ، کھڑتل وغیرہ جیسے القاب سے بھی نوازے جاتے ہیں۔۔۔بہت سے ایسے لوگ جو لابی کرتے ہیں اور منافقت سے بھری باتیں کرتے ہیں ناصر زیدی ان کو آئینہ دکھاتے رہتے ہیں۔ گو کہ انسان ہونے کے ناتے بہت سے روّیے، بہت سے ناروا سلوک ان کو دکھ دیتے ہیں مگر مصلحت کوشی سے نہیں بے نیازی سے کام لے کر اکثر نظر انداز بھی کر جاتے ہیں مگر گِلہ در آتا ہے اشعار میں:

کیا بتاؤں رات دن کیا سوچتا رہتا ہوں

دکھ زمانے بھر کے تنہا جان پر سہتا ہوں میں

مصلحت اندیشیاں کیوں ہوں مرے پیشِ نظر

بات جو بھی دل میں ہوتی ہے وہی کہتا ہوں میں

جانتا ہوں سست رفتاری میں یکسر ہے زیاں

فصلِ جاں پھر بھی کُدالِ صبر سے گہتا ہوں میں

وقت کے دھارے میں بہنا میری فطرت میں نہیں

اس لئے ناصر مخالف سمت میں بہتا ہوں میں

جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ناصر زیدی کے ہاں شاعری میں رومانس کا غلبہ زیادہ ہے تاہم رومانس میں بھی درد مندی کا پہلو نمایاں ہے جیسے:

تمہارے واسطے دِل کا نگر سجا نہ سکے

یہ داغ وہ ہے جسے آج تک مٹا نہ سکے

عجیب حال ہوا ہے تمہاری فرقت میں

کسی کے بن نہ سکے اور تمہیں بھلا نہ سکے

ناصر زیدی نے شعر کبھی کسی نظریے کو ٹھونسنے کی خاطر نہیں لکھا۔ اُن کی شاعری حواس کا وہ آئینہ ہے، جو خود کو جاننے کی ایک عجب لذت اور سرشاری سے گزارتا ہے:

پئے جاتا ہوں خُم کے خُم مئے الفت کے مَیں یارو!

قیامت ہے کہ پھر بھی تشنگی معلوم ہوتی ہے

رقم کرتا ہوں اکثر دردِ دِل کی کیفیت لیکن

غضب ہے اُن کو یہ بھی شاعری معلوم ہوتی ہے

شاعری کی آڑ میں گروہ بندیوں اور معاصرانہ رقابت اور حسد و چپقلش سے ادبی محفلوں میں مشاعروں کا تقدس پامال ہوا ہے، لیکن اچھے لوگوں کا ایک مختصر گروہ بھی ہر زمانے میں رہا ہے، زمانہ خواہ کتنا ظالم ہو جائے ناصر زیدی جیسے لوگ شہرت سے بے نیاز ہو کر سچ بولنے سے باز نہیں رہ سکتے۔ وہ ایسی جرأت رکھتے ہیں کہ سچ کو سچ کہہ سکیں:

ہُوا کرے سب جہاں مخالف

نہ ہونا تم میری جاں مخالف

وضاحتیں اور دلیلیں کیسی

بنے ہوں جب نکتہ داں مخالف

ہے خوب بختِ رسا ہمارا

زمین اور آسماں مخالف

مہارِ ناقہ تو ہاتھ میں ہے

اگرچہ ہے سارباں مخالف

حمایتی بھی عجب ہیں ناصر!

گواہی حق میں بیاں مخالف

تُندی بادِ مخالف کے ہر اوچھے وار سہتا خاموشی و بے جگری سے اندر ہی اندر اپنی نمو کی جڑیں پھیلاتا ناقدر شناس اپنوں کے غم سہتا اپنے پھولوں کی آبیاری کرتا یہ مست الست شاعر اپنے کو منوا چکا ہے:

کب کوئی تازہ ستم تجھ پہ مرے دلِ نہ ہُوا

آفریں ا پھر بھی تُو تقدیر کا قائل نہ ہوا

ناصر زیدی کے کلام کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ شاعری زندگی کے ہر شعبے پر نہ صرف اثر انداز ہوتی ہے، بلکہ ماحول کو مناسب طریقے سے بدلنے اور ارتقائی منزلوں سے گزارنے میں بھرپور مدد دیتی ہے۔۔۔یہ حقیقت ہے کہ اچھا شاعر اور اُس کا کلام تاریخ بنا رہے ہوتے ہیں وہ اپنے زمانے کی سماجی سیاسی اور معاشی ماحول کی نہ صرف عکاسی کر رہا ہوتا ہے، بلکہ اُس میں رنگ بھی بھر رہا ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ وہ زندگی سے اثر پذیر بھی ہوتا ہے اور اثر انداز بھی۔ ادب میں ہزارہا تبدیلیاں اور تجربے ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں، کسی تخلیق کار کی تخلیق پر اعتراضات تو کئی قسم کے ہو سکتے ہیں۔ اگر جزوی باتوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو تین پہلو ایسے ضرور ہوتے ہیں، جن کی روشنی میں خوبیوں اور خامیوں کو پرکھا جا سکتا ہے ’’موضوع،اندازِ بیان، اور تاثر‘‘۔

ناصر زیدی کے بارے میں یہ بات بڑے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ غزل میں اپنے متنوع موضوع سے نہیں ہٹتے۔ اندازِ بیان بھی خوب ہے۔ اپنی گھمبیر آواز سے تحت اللفظ میں بھی سامع پر چھا جاتے ہیں۔ تاثر بھی بہت اچھا چھوڑتے ہیں جو بلاشبہ دیرپا ہوتا ہے۔۔۔ناصر زیدی نے کسی آسمانی زبان میں غزلیں موزوں نہیں کیں، نہ وہ دُور کی ناقابلِ شناخت کوڑی لائے ہیں۔۔۔محبتوں کی زبان اور خیالات و روایت کی توانالہروں کو اپنی بانہوں میں لیے وہ وقت کی منجدھار پر اپناادبی سفر کر رہے ہیں۔ سیدھی صاف زبان میں ان کا ہر شعر قارئین کی دلچسپی کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ناصر زیدی ایک صاحبِ علم و فن، مِن جملہِ اہلِ فکرو نظر شخص ہیں۔ ادب جن پہ نازاں رہے گا یہ وہ دیدہ ور شاعر ہیں:

نہ داد گر نہ کسی قدر داں کے ہوتے ہوئے

سخن سراہوں مسلسل زیاں کے ہوتے ہوئے

ناصر زیدی کی شخصیت سازی میں صحافت، ادب، ادارت، براڈ کاسٹنگ، ریڈیو، ٹیلی ویژن کا بھی خاص حصہ رہا ہے۔ مشکلوں سے نبرد آزما ہونے والا یہ شاعر اپنے کلام میں احساسِ فکر تجربات و حوادثِ دُنیا کی گہرائی و گیرائی لئے ہوئے ہے۔ زندگی کے ہر نظریے کو اشعار میں ڈھال لیتے ہیں۔ اِن کے فکر کا زاویہ ادبی فلسفے کی طرح خشک اور دقیق نہیں، بلکہ جذبات و محسوسات کی آنچ سے پگھل کر قوس و قزح جیسے رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ناصر زیدی کے ذہنی ارتقاء نے اُن کو خود آگہی سے روشناس کرایا ہے:

اگر وجود کا اپنے مجھے گماں ہوتا

سمندروں کی طرح مَیں بھی بے کراں ہوتا

مَیں اپنے سائے میں خود ہی پناہ لیتا

میرا حریف نہ سورج نہ آسماں ہوتا

نہ تھا خیال کہ منزل فریب دے گی مجھے

یہ حادثہ جو نہ ہوتا تو مَیں کہاں ہوں

اگر نہ ہوتی میسر شفق ترِے رُخ کی

تمام عالمِ امکاں دھواں دھواں ہوتا

سمیٹ لیتا ہر اِکُ گل کی خوشبوئیں ناصر

بہار میں اگر اندیشۂ خزاں ہوتا

ناصر زیدی کی شاعری میں ایک خاص توازن ہے، وہ دَور جدید کے شاعر ہونے کے باوجود روایت کی تہذیبی برکتوں سے محروم نہیں ہیں:

زندگی سے ایک ربطِ خاص ہے ناصر مرا

چاہتی ہے یہ بہت دُنیا کو اور دُنیا مجھے

ناصر زیدی کے کلام میں ملائمیت، سوزو گداز، میٹھا میٹھا درد، ہلکی ہلکی کسک اور وہ دِل گداز چبھن نظر آتی ہے جو دِل دیئے، لئے بغیر ممکن ہی نہیں۔۔۔ معاشرے کی مخصوص درجہ بندیاں، معاشی حق تلفیاں، احمقوں کی لابیاں، سیاسی ناانصافیوں اور مصلحتوں کی بھینٹ چڑھ جانے والا یہ شاعرشِکوہ کنُاں نظر نہیں آتا ’’التفات‘‘ ناصر زیدی کی زندگی کا استعارا ہے اور شاعری تخلیقی اضطراب کی ضامن بھی۔ ناصر زیدی گردو پیش کا ہی شاعر نہیں ہے بلکہ وہ تو اپنے عہد کا وہ ہرکارہ ہے جو گھر گھر کا پیامبر ہے۔ زمانہ بے اعتنائی دکھانے پر تُل جائے تو ناصر زیدی جیسے ادب نواز، ادب شناس اور صاحبِ شعور سے نظریں چرا جاتا ہے۔ مختلف ادوار میں مختلف وزرائے اعظم کے ’’Spech Writer‘‘ تین شعری مجموعوں ’’ڈوبتے چاند کا منظر‘‘ ’’وصال‘‘ اور ’’التفات‘‘ کے مالک یہاں سے وہاں تک مشاعروں کے میزبان ریڈیو، ٹی وی کے جانے مانے شاعر سے پرائڈ آف پرفارمنس کا حق تین بار چھینا گیا۔ زندگی کی ناانصافیوں میں اضافے پر اضافہ۔۔۔آج ہر شخص دو چار کالم لکھ کر کالم نویس بنا بیٹھا ہے۔۔۔لیکن جس کی زمبیل میں ہزاروں اور ہر موضوع پہ لکھے گئے کالم ہوں وہ اپنے حق سے محروم ہو۔ خود کہہ رہے ہیں:

دستِ طلب دراز کریں ہم توکس لئے

اہلِ قلم ہیں طالبِ جاہ و حشم نہیں

اور

اہل ہونا جُرم ہے اس دَور میں ناصر یہاں

اس لئے تقدیر ناہلوں میں لے آئی مجھے

(ختم شد)

مزید : کالم


loading...