کنٹرول لائن پر بھارت کی اشتعال انگیزیاں ختم کیوں نہیں ہو رہیں؟

کنٹرول لائن پر بھارت کی اشتعال انگیزیاں ختم کیوں نہیں ہو رہیں؟

  



پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ بھارت لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے، بھارتی اشتعال انگیزی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستان کی توجہ ہٹانے کی نا کام کوشش ہے، ہم آپریشن ضرب عضب کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیں گے، مادرِ وطن کے ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے۔ دشمن کسی خوش فہمی میں نہ رہے۔ پاکستان آرمی مشکل ترین محاذوں پر لڑنے والی مضبوط فوج ہے جو کامیابی کے ساتھ دو مختلف نوعیت کے محاذوں پر لڑ چکی ہے، اور مادرِ وطن کے چپے چپے کے دفاع کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آرمی چیف نے عید الاضحی کے موقع پر لائن آف کنٹرول کے اگلے مورچوں کا دورہ کیا، جوانوں اور افسروں کا حوصلہ بڑھایا اور ان کے جذبوں اور صلاحیتوں کی تعریف کی۔

بھارت نے کشمیر کی کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ کا جو سلسلہ انتخابی مہم کے دوران شروع کیا تھا، نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد اس میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور اب تک یہ سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا۔ انتخابی مہم کے دوران نظر آ رہا تھا کہ حریف جماعتوں نے الیکشن جیتنے کے لئے اور اپنے عوام اور ووٹروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے پاکستان پر الزام تراشی شروع کر رکھی تھی اور اس وقت کی حکومت نے بھی کنٹرول لائن کا محاذ گرم کر رکھا تھا، کانگرس توہار گئی لیکن یہ بات اس وقت بھی پایہ ثبوت کو پہنچ گئی جب مئی 2014ء کے عام انتخابات کے کچھ ہی عرصے بعد بعض ریاستوں اور لوک سبھا کے خالی ہونے والے حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوئے۔ ایک بار پھر بھارتی اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ تیز ہو گیا بلکہ نریندر مودی کی کابینہ کے وزراء کی زبانیں بھی شعلے اُگلنے لگیں اور اب تک ان کا یہی وطیرہ ہے۔ کبھی وہ دھمکیاں دیتے ہیں اور کبھی اشتعال انگیز زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ جو ایک ایسے ملک کے رہنماؤں کو بہر حال زیب نہیں دیتی جو بزعم خود اپنے آپ کو بڑی طاقت سمجھتا ہے، اور سلامتی کونسل کی مستقل نشست کا امیدوار بنا ہوا ہے ایک ایسا ملک اپنی امیدواری کو کس طرح حق بجانب ثابت کر سکتا ہے جو اپنے پر امن ہمسایہ ملک کے ساتھ ہر وقت اشتعال انگیزی کے موڈ میں رہتا ہے کشمیر کی کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کرتا رہتا ہے اور اس کے رہنما پاکستان کے خلاف مخالفانہ بیان بازی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

اب جس ملک کے اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ ہی تعلقات معمول کے مطابق نہ ہوں وہ دنیا کے سامنے اپنا پر امن چہرہ کیسے دکھا سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اب تک دنیا کے کسی ملک نے سنجیدگی کے ساتھ بھارت کے دعوے کو تسلیم نہیں کیا، بنیادی بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کا قیام تو جنگوں کو روکنے اور دنیا کو خوشحالی کی راہ پر ڈالنے کیلئے عمل میں آیا تھا جو ملک قیام پاکستان کے ساتھ ہی پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال پھیلانے لگا تھا اور جس کے وزیر اعظم نے ابھی زیادہ دن نہیں گزرے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں خطاب کرتے ہوئے برملا یہ اعتراف کیا کہ 71ء میں اس نے پاکستان کے ٹکڑے کرنے میں فوجی کردار ادا کیا تھا۔ کیا اس ریکارڈ کا حامل ملک سلامتی کونسل جیسے ادارے کی مستقل رکنیت کا اہل ہو سکتا ہے؟ اور اگر کسی وجہ سے اسے رکن بنایا گیا تو وہ امن مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہو کر پاکستان کو پہلے سے زیادہ زچ کرنے کی پالیسی اپنا لے گا، اس لئے دنیا کو اس پہلو پر بھی گہری نظر رکھنی ہو گی کہ ایک امن دشمن ملک کے ہاتھ میں ویٹو کا استرا نہ تھما دیا جائے۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے فوجیوں سے خطاب کے دوران دوسری اہم بات یہ کہی ہے کہ بھارت کی اشتعال انگیزیوں کا مقصد دہشت گردی کی جنگ سے پاکستانی فوجیوں کی توجہ ہٹانا ہے۔ اس وقت پاکستانی فوج آپریشن ضرب عضب کے نام سے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر رہی ہے اور اسے اس ضمن میں بڑی کامیابیاں مل رہی ہیں۔ بھارت کا مقصد چونکہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنا اور اسے مستقل حالت جنگ میں رکھنا ہے اس لئے اس کی کوششوں کا مقصد یہ ہے کہ کشمیر کی کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر جنگ کے حالات پیدا کر کے پاکستانی فوج کی توجہ آپریشن ضربِ عضب سے ہٹائی جائے، لیکن جیسا کہ آرمی چیف نے بجا طور پر یاد دلایا کہ پاکستان کی فوج مشکل محاذوں پر لڑنے والی فوج ہے اور اس نے لڑتے ہوئے کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ملک کے چپے چپے کے دفاع کی صلاحیت رکھتی ہے۔

آرمی چیف کے اس بروقت انتباہ کو سمجھ کر بھارت کو نہ صرف اشتعال انگیزیوں سے باز آ جانا چاہئے بلکہ اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ لیکن بھارت ایسے مواقع مسلسل ضائع کرتا چلا جا رہا ہے جن سے فائدہ اُٹھا کر امن کی جانب قدم بڑھائے جاسکتے تھے۔ اس کا ایک موقع اوفا (روس) میں پیدا ہوا تھا جب وزیر اعظم نوازشریف اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ملاقات میں طے ہوا تھا کہ دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات نئی دہلی میں ہو گی۔ اس ملاقات کی تاریخ کا اعلان تو ہوا لیکن امید کی یہ کرن روشنی پیدا نہ کر سکی اور بھارت نے اس ملاقات کو خود ساختہ تاویلات میں اُلجھا دیا، پہلے تو اُس نے کشمیری رہنماؤں کو پاکستانی ہائی کمشنر کے استقبالئے میں مدعو کرنے پر اعتراض کر دیا اور کہا کہ اس موقع پر یہ ملاقات نہیں ہو سکتی، حالانکہ ماضی میں جب بھی کوئی پاکستانی رہنما نئی دہلی گیا، اور اس کے اعزاز میں کوئی تقریب ہوئی کشمیری رہنما اس میں شرکت کرتے رہے۔ کبھی اس پر اعتراض نہ ہوا لیکن اب کی بار صرف دعوت نامہ جاری کرنے پر بھارت نے واویلا شروع کر دیا اور حریت کانفرنس کی قیادت کو یا تو گرفتار کر لیا یا گھروں میں نظر بند کر دیا تاکہ وہ استقبالئے میں پہنچ ہی نہ سکیں۔ پھر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا کہ یہ ’’مذاکرات‘‘ نہیں صرف ’’بات چیت‘‘ ہے ان میں کشمیر پر بات نہیں ہو سکتی، کشمیر پر مذاکرات اس وقت ہوں گے جب جامع مذاکرات بحال ہو جائیں گے اور ابھی تک ان کی بحالی نہیں ہوئی۔ اس پر پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے دہلی جانے سے انکار کر دیا اور یوں سرے سے بات چیت نہ ہو سکی۔ اب تو پاکستان واضح کر چکا ہے کہ کشمیر کے بغیر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ حالانکہ اگر یہ بات چیت ہو بھی جاتی تو اس سے کون سی ڈرامائی تبدیلی ہو جانی تھی زیادہ سے زیادہ آئندہ مذاکرات کی راہ ہموار ہو جاتی یا پھر چند وعدے وعید ہو جاتے لیکن بھارتی قیادت کو یہ بھی گوارہ نہ ہوا، اس ماحول میں جنرل راحیل شریف نے ایک بار پھر بھارت کو بروقت انتباہ کر کے یہ پیغام دے دیا ہے کہ کشمیر کی کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی کے سمجھوتے کی خلاف ورزیاں بند کر دی جائیں یہ سلسلہ جاری رہا تو حالات کی خرابی کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر ہو گی۔ اس موقع پر جنرل راحیل شریف نے واضح کر دیا کہ بھارت اگر ضرب عضب سے پاکستان کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ منطقی نتائج تک پہنچائے بغیر ختم نہیں ہو گی۔

مزید : اداریہ


loading...