منیٰ میں حادثے کی تحقیقات اور آئندہ کے لئے احتیاطی تدابیر

منیٰ میں حادثے کی تحقیقات اور آئندہ کے لئے احتیاطی تدابیر

  



مکہ مکرمہ کے گورنر خالد الفیصل نے کہا ہے کہ منیٰ حادثے کی تفتیش کرا کے وجوہ منظر عام پر لائی جائیں گی۔ منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران پیش آنے والے حادثے کی وجوہ کا حتمی تعین تو تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا، لیکن اب تک کی میڈیا رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حاجی شیطان کو کنکریاں مارنے کے لئے جا رہے تھے کہ سامنے سے ایسے حاجی آگئے جو کنکریاں مار کر واپس ہو رہے تھے، واپس آنے کے لئے دوسرا راستہ ہے اور انہیں اس راستے سے واپس نہیں آنا چاہئے تھا جو صرف جانے والے حاجیوں کے لئے ہے، یوں بظاہر لگتا ہے کہ آمنے سامنے آجانے کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ ماضی میں بھی منیٰ میں اس جگہ جتنے بھی حادثات ہوئے ہیں ان کی وجہ بھی یہی تھی کہ کنکریاں مار کر واپس جانے والوں نے غلط اور ممنوعہ راستہ اختیار کیا۔ چونکہ ہزاروں حاجی اللہ اکبر کے نعروں کی گونج میں جا رہے ہوتے ہیں، اس لئے ایسے موقع پر اگر کوئی حاجی اتفاقاً بھی گر پڑے تو وہ کچلا جاتا ہے اور ایسے واقعات بھی ہوچکے ہیں، گرے پڑے آدمی کو کوئی اٹھانے کی ہمت بھی نہیں کرتا، کیونکہ ایسی صورت میں خود اس کے بھی پیچھے سے آنے والے ریلے کی زد میں آنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ رمی کے لئے جانے والے راستوں کو اب بہت وسیع کر دیا گیا ہے اور اس وقت یہ راستہ پانچ منزلہ ہے، تاہم جہاں کہیں نظم و ضبط کا لحاظ نہیں رکھا جاتا، اس طرح کا حادثہ پیش آنے کا امکان ہوتا ہے، پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ رمی کے لئے جاتے ہوئے بھی بعض حاجی زیادہ عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنی اور دوسروں کی جانوں کے لئے خطرہ بھی پیدا کرتے ہیں۔

ایک عمومی مشاہدہ ہے کہ جو حجاج کرام اس طرح کی بدنظمی میں ملوث ہوتے ہیں، ان کے اپنے ملکوں میں بھی سڑکوں پر ٹریفک جام کے مناظر دیکھے جاتے ہیں، جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ جن ملکوں کے حاجی اس طرح کی بدنظمی کرکے غلط راستے کا انتخاب کرتے ہیں، ان کے ملکوں میں ٹریفک جام بھی ٹریفک کے قوانین توڑنے کی وجہ سے عام ہے۔ ظاہر ہے جن لوگوں کو ٹریفک رولز کا ادراک نہیں وہ یہاں بھی بدنظمی کا مظاہرہ کر گزرتے ہیں، اور لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے حادثہ ہو جاتا ہے۔ سعودی حکام نے حاجیوں کی سہولت کے لئے ہر طرح کے وسائل وقف کر رکھے ہیں، اور جہاں کہیں ممکن ہے وہاں سہولتیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ میدان عرفات میں خیموں کو آگ لگنے کے واقعات کے بعد وہاں چولھے لے جانے اور آگ جلانے کی ممانعت کر دی گئی ہے لیکن شنید ہے کہ اب بھی بعض حاجی چھپ چھپا کر وہاں آگ جلانے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ اب حاجیوں کو تیار شدہ کھانا فراہم کیا جاتا ہے اور انہیں کھانا پکانے کا تردد کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن کچھ ملکوں کے حاجیوں کو سعودی حکومت کا فراہم کردہ کھانا بے مزہ لگتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ وہ جس ذائقے کے عادی ہیں، انہیں اس طرح کا ذائقے دار کھانا ملے، حالانکہ ایام حج میں چند دن کے لئے ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرنا چاہئے، حج ایک ایسی عبادت ہے جو ایثار کا درس دیتی ہے۔ بہرحال اب تحقیقات کے نتیجے میں ہی معلوم ہوگا کہ حادثہ کیوں ہوا اور تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی تجویز کیا جاسکتا ہے۔ آئندہ ایسے حادثات سے کس طرح بچا جاسکتا ہے، امید ہے سعودی حکومت آئندہ کے لئے بہتر انتظامات کرلے گی، تاہم لوگوں کے نظم و ضبط اور تعاون کے بغیر فول پروف انتظام کرتا، محض حکومت کے بس میں نہیں ہوگا۔

مزید : اداریہ


loading...