قدرتی واقعہ کو ایران اور سعودیہ کے درمیان سیاست کا اکھاڑہ نہ بنایا جائے،عبدالقدیر خاموش

قدرتی واقعہ کو ایران اور سعودیہ کے درمیان سیاست کا اکھاڑہ نہ بنایا ...

  



لاہور ( نمائندہ خصوصی )اسلامی یکجتی کونسل کے چیرمین قاضی عبدالقدیر خاموش نے مناسک حج رمی جمرات کے دوران سانحہ منیٰ کو اتفاقی قراردیتے ہوئے اپیل کی ہے قدرتی واقعہ کو ایران اور سعودی عرب کے درمیان سیاست کا اکھاڑہ نہ بنایا جائے۔ جو کوتاہیاں ہوئی ہیں ان کا آئندہ کے لئے سدباب کیا جانا چاہییے۔ تاکہ ایسے افسوسناک واقعات دوبادہ پیش نہ آئیں۔عیدالاضحٰی کے دنوں میں کارکنان جمعیت علما اہل حدیث سے گفتگو کرتے ہوئے قاضی عبدالقدیر خاموش نے کہا کہ ایران میں زلزلے اورٹریفک حادثات میں ہزاروں افراد ہر سال لقمہ اجل بن جاتے ہیں تو کیا اس کی ذمہ دار ایرانی حکومت ہے۔ مفتی اعظم سعودی عرب کی طرف سے خطبہ حج کے دوران اٹھائے گئے سیاسی ایشوز پر گفتگو کرتے ہوئے اسلامی یکجہتی کونسل کے چیر مین نے کہا کہ وہ الشیخ عبدالعزیز کے دینی علوم کا احترام کرتے ہیں مگر اسے عوام کے فائدے کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھاکہ اسلام کے نام پر حکمرانوں کو ریاستی جبر کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ دہشت گردی قابل مذمت فعل ہے۔ لیکن آل سعود کی مخالفت کو دہشت گردی قرار نہ دیا جائے۔ قاضی عبدالقدیر خاموش نے کہا کہ القاعدہ اور داعش جیسی انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیموں کی تشکیل کا سبب بھی مسلم حکمرانوں کی غلط پالیسیاں ہیں۔ جب اسلامی ممالک میں عدم حریت فکر ہوگی، سوچنے کی صلاحیتوں پر تالے لگادیے جاءئیں گے تو انتہا پسند تنظیمیں ہی جنم لیں گی۔ اس لئے عرب ریاستوں میں عوام کوسیاسی حقوق دینا ہوں گے تاکہ امور مملکت میں وہ اپنا سیاسی کردار اد ا کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ حج کو امت کی عظمت اور اتحادکا مظہر رہنا چاہیے، یہاں کسی بھی طبقے کے حوالے سے تحفظات اور تعصبات کا مظاہر ہ نہیں کرنا چاہیے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...