سانحات سے بچنے کیلئے سعودی حکومت انتظامات مزیدبہتر کرے، اعجاز ہاشمی

سانحات سے بچنے کیلئے سعودی حکومت انتظامات مزیدبہتر کرے، اعجاز ہاشمی

  



لاہور ( نمائندہ خصوصی )جمعیت علما پاکستان کے مرکزی صدر پیر اعجازاحمد ہاشمی نے منیٰ میں ہونے والے سانحہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے سعودی حکومت سے بہتر انتظامات کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنی رہائش گاہ پر عید ملنے کے لئے آنے والے جے یو پی کے کارکنوں اوردیگر جماعتوں کے رہنماوں سے گفتگو میں پیر اعجاز ہاشمی نے حج کے موقع پر رمی جمرات کے دوران بھگڈر مچنے سے تقریباً 770 حجاج کی شہادت اور 900 سے زائدکے زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج اجتماعی اور سیاسی عبادت ہے، جس میں دنیا بھر کے ممالک سے فرزندان توحید اکٹھے ہوکر امت مسلمہ کی افرادی قوت کا اظہار کرتے ہیں۔فریضہ حج سے کسی مسلمان کو روکا نہیں جاسکتا۔ اس لئے بہتر انتظامات کرنا سعودی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ منیٰ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے حقائق منظر عام پر لائے جائیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ تاکہ آئندہ ایسے حادثات کا سدباب کیا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحہ منٰی کو ایران اور سعودی عرب کے درمیان تنازع نہ بنایا جائے ،اس سے امت کا اتحاد متاثر ہوگا۔ میزبا ن ہونے کے حوالے سے سعودی عرب کوحجاج کو سہولیات فراہم کرنے میں کوتاہی کو تسلیم کرنا چاہیے۔وجوہات جو بھی ہیں منظرعام پر لائی جائیں چونکہ منصوبہ بندی اور میزبانی تو سعودی حکومت کے حوالے ہے۔ پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ حج مسلمانوں کی سالانہ بین الاقوامی کانفرنس ہے، جس میں دنیا بھر سے مختلف رنگ و نسل، ذات پات، خطے اورمکاتب فکرکے لوگ اکٹھے ہوکر امت کی اجتماعی قوت کا اظہار کرتے اور شعائر اسلام کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حج خود فرقہ واریت کی نفی اور اتحاد بین المسلمین کاعملی اظہار بھی ہے کہ جہاں سنی شیعہ ، بریلوی دیوبندی، حنبلی ،مالکی ، شافی اور اہل حدیث کی کوئی تفریق نہیں رہتی ۔ ہر شخص بیت اللہ کی طرف منہ کرکے نماز بجالاتا ہے، یہ اسلام کی قوت کا اظہار ہے کہ فروعی اختلاف کے باوجود ہم اپنے قبلہ اورمرکز خانہ کعبہ میں ایک ہیں۔قرآن ایک،وحدہ لاشریک معبود ایک اورپیغمبر ایک ہے۔ بہتر ہوتا کہ حج کی اجتماعی تربیت اور اتحاد امت کا اظہار عملی زندگی میں بھی ہم کریں اور ایک دوسرے پر کفر اور شرک کے فتوے لگانے کی بجائے دوسرے کے اختلاف رائے اور تعبیرکو کھلے دل سے قبول کریں۔ ان کا کہنا تھاکہ امت کے مسائل کے حل پر غورکے لئے بہتر ہوتا کہ تمام اسلامی ممالک کے سربراہان حج کے موقع پر مکہ مکرمہ میں اکٹھے ہوتے اور دنیا کو پیغام دیتے کہ ہر مسلمان کی عزت و توقیر اور آزادی ان کا مسئلہ ہے۔ جس کے لئے وہ ہر مسلم ملک کے پیچھے ہوں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1