شہدا کی تعداد 769ہو گئی ، سانحہ منٰی کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کرائی جائے ( آیت اللہ خامنہ ای ) ایران سیاست چمکانے سے باز رہے ، سعودی عرب

شہدا کی تعداد 769ہو گئی ، سانحہ منٰی کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کرائی جائے ( آیت ...

  



 مکہ مکرمہ(مانیٹرنگ ڈیسک ،اے این این) مکہ مکرمہ کی وادی منیٰ میں رمی جمرات کے دوران بھگدڑ مچنے سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد769ہو گئی،934زخمی زیر علاج،مرنے والوں میں 36پاکستانی،14بھارتی ،ایک چینی اور136ایرانی بھی شامل،پاکستانی شہدا میں سابق وزیر مخدوم سید اسد مرتضی گیلانی بھی شامل ہیں،وہ سابق وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی کے بھانجے تھے،17پاکستانی زخمی،200سے زائد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں،نواز شریف نے لاپتہ حاجیوں کی تلاش اور انھیں اہل خانہ سے ملانے کی ہدایت کر دی۔مکہ مکرمہ کی وادیِ منی میں جمعرات کے روز شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران بھگدڑ کے نتیجے میں شہید ہونے والے حجاج کی تعداد 769ہوگئی ہے۔سعودی عرب کے وزیرصحت خالد الفالح نے نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ مکہ مکرمہ میں اسپتالوں میں زیرعلاج مزید 52 حجاج زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئے ہیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ اس وقت مختلف ہسپتالوں میں 934زخمی زیر علاج ہیں۔دو روز پہلے بھگدڑ سے 717حجاج شہید ہوگئے تھے۔دریں اثنا سعودی عرب کے مفتیِ اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے ولی عہد اور وزیردفاع شہزادہ محمد بن نائف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکام منی میں پیش آنے والے الم ناک حادثے کے ذمے دار نہیں ہیں۔انھوں نے کہا کہ سعودی حکام نے اپنی بساط اور صلاحیت کے مطابق کام کیا ہے اور جو چیزیں انسانی کنٹرول سے باہر ہیں،ان کا کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔منی میں بھگدڑ کے واقعے میں مراکش اور ایران کا سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔مراکش کے 87 اور ایران کے136 حاجی شہید ہوئے ہیں۔ایران کے محکمہ حج کا کہنا ہے کہ بھگدڑ سے60 ایرانی زخمی ہوئے ہیں۔ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق 300 سے زیادہ ایرانی ابھی تک لاپتا ہیں اور ان میں لبنان میں ایران کے سابق سفیر غضنفر رکن آبادی بھی شامل ہیں۔ اس لیے جان کی بازی ہارنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔مختلف ممالک کے میڈیا ذرائع اور خارجہ امور کی وزارتوں نے اپنے اپنے شہید حاجیوں کی تعداد جاری کی ہے۔اس کے مطابق مصر کے آٹھ ،الجزائر کے چار،صومالیہ کے آٹھ ،ایران کے ایک سو چھتیس ،پاکستان کے36 ،مراکش کے ستاسی ،بھارت کے چودہ ،انڈونیشیا اور کینیا کے تین،تین ،نیدر لینڈز کا ایک ،سینی گال کے پانچ ،برونڈی چار ،چاڈ گیارہ ،نیجر انیس ،صومالیہ آٹھ ،ترکی چار اور تنزانیہ کے پانچ حاجی شہید ہوئے ہیں۔لاشوں کی شناخت کا عمل ابھی جاری ہے اور سعودی حکام کی جانب سے ہلاک شدگان اور زحمیوں کی حتمی فہرست ابھی جاری نہیں کی گئی ہے۔اب تک جن 250 افرادکی موت کی تصدیق کی گئی ہے ان میں سے زیادہ تر کا تعلق ایشیائی اور افریقی ممالک سے ہے۔

تہران،ریاض(اے این این) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے سعودی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ منی میں حج کے دوران پیش آنے والے واقعے کی ذمہ داری قبول کرے اور معافی مانگے۔سانحہ کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کرائی جائے۔آیت اللہ خامنہ ای نے اتوار کو تہران میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ بھلایا نہیں جائے گا اور اقوام اس کو سنجیدگی سے دیکھیں گی۔ ادھر ادھر الزام تراشیاں کرنے کے بجائے، سعودی عرب کو ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور مسلمانوں اور متاثرہ خاندانوں سے معافی مانگنی چاہیے اور ،متاثرہ خاندانوں کے دکھوں کا مداوا کرنا چاہیے۔دوسری طرف سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادلالجبیر نے حج سے متعلق انتظامات پر ایرانی تنقید کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے نے عادل الجبیر کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ایران سیاست چمکانے کے بجائے اس حقیقت کو ذہن میں رکھے کہ اس سانحے میں وہ لوگ شہید ہوئے ہیں جو ایک مقدس مذہبی فریضہ سرانجام دے رہے تھے۔عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ ہم کسی بات پر پردہ پوشی نہیں کریں گے، اگر کسی سے کوئی غلطی ہوئی، اسے بھی سامنے لایا جائے گا اور اس کا محاسبہ کیا جائے گا۔سعودی وزیر خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب جان کیری کے ساتھ صحافیوں کو بتایا کہ یہ وقت سیاست چمکانے کے لئے مناسب نہیں ہے۔اپنے بیان کے اختتام میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ ایرانی قیادت اس المناک واقعے میں شہید ہونے والوں کے معاملے پر عقلمندی سے کام لیتے ہوئے تحقیقات کے نتائج کا انتظار کرے گی۔

مزید : صفحہ اول