افغان حکومت کہے تو مذاکرات میں بطور سہولت کا کردار ادا کر سکتا ہے ، سیکرٹری خارجہ

افغان حکومت کہے تو مذاکرات میں بطور سہولت کا کردار ادا کر سکتا ہے ، سیکرٹری ...

  



نیو یارک (خصوصی رپورٹر) پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے کہا ہے کہ افغان حکومت استدعا کرے تو پاکستان افغانستان میں امن کے عمل میں سہولت کار کے طور پر کردار ادا کرنے کو تیار ہوگا۔ نیو یارک میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان پر پاکستان کا کنٹرول نہیں اور طالبان کے بیشتر رہنما افغانستان میں ہیں، ان کے لئے پاکستان کا پیغام بہت واضح ہے کہ وہ نہیں چاہتا طالبان بغاوت یا تشدد کے ذریعے افغانستان کو غیر مستحکم کریں۔ امن کا عمل خود افغانوں کو چلانا چاہئے اور پاکستان اس عمل میں نیک خواہشات کے ساتھ سہولت مہیا کرنا چاہتا ہے جیسے کہ اس نے ماضی میں کیا۔ سیکرٹری خارجہ نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ اور چین کی طرف سے افغانستان کی تعمیر نو اور علاقائی تعاون سے متعلق مشترکہ طور پر منعقد کیے گئے اجلاس میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی شرکت کے حوالے سے بھی بریف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سرتاج عزیز نے کہا کہ افغانستان میں استحکام پاکستان کی سب سے بڑی دلچسپی ہے۔ سرتاج عزیز نے ترکی اور ناروے کے وزراء خارجہ سے بھی ملاقاتیں کیں، سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق گروپ اور امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں پاکستان کے احتجاج کی بدولت پاکستانی علاقوں پر امریکی ڈرون حملوں میں بہت کمی آگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور وہاں پاکستانی پرچم لہرائے جانے کے بڑھتے ہوئے واقعات پاکستان کے لئے کشمیریوں کی حمایت اور بھارت کے خلاف نفرت کا اظہار ہیں۔ امید ہے کہ بھارتی قیادت جنوبی ایشیا میں امن کے بڑے مقصد کو تسلیم کرے گی اور کشیدگی بڑھانے سے اجتناب برتے گی۔ 30 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے وزیراعظم نوازشریف کے خطاب سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اعزاز چودھری نے کہا کہ وزیراعظم انگریزی میں خطاب کریں گے، واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے ہر طرح کے اظہار خیال کے لئے اردو کو بطور سرکاری زبان رائج کیے جانے کا حکم کے بعد یہ معاملہج پاکستانی میڈیا میں موضوع بحث ہے۔ حج آپریشنز کی نگرانی کے لئے اسلامی ملکوں کے نمائندوں پر مشتمل ادارہ بنانے سے متعلق ایران کے مطالبے کے بارے میں سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ منیٰ میں بھگدڑ کے واقعہ پر سعودی موقف سامنے آجانے کے بعد پاکستان صرف اپنی رائے دے سکتا ہے، انہوں نے اس سے زیادہ کچھ کہنے سے معذرت کرلی۔

مزید : صفحہ اول


loading...