یو این سائیڈ لائنز ، افغانستان کا معاملہ چھا گیا ، بھارت کہیں نظر نہیں آرہا

یو این سائیڈ لائنز ، افغانستان کا معاملہ چھا گیا ، بھارت کہیں نظر نہیں آرہا

  



نیو یارک( مزمل سہروردی سے)

 اقوام متحدہ کی سائیڈ لائنز پر او آئی سی کے کشمیرپر قائم خصوصی گروپ کی میٹنگ بھی ہو ئی ہے، جس میں کشمیر کے حوالے سے سالانہ رپورٹ منظور کی گئی ہے۔ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سائیڈ لائنز پر یہی ایک بات ہو رہی ہے۔ باقی وزیر اعظم اپنی تقریر میں کشمیر کا جو ذکر کریں گے وہی اقوام متحدہ میں کشمیر کا ذکر ہو گا تا ہم افغانستان کا بہت ذکر ہے۔ وزیر اعظم کی جرمن چانسلر اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے جو ملاقاتیں ہوئی ہیں ان میں بھی گفتگو کا محور افغانستان ہی تھا۔ اس طرح عالمی طاقتوں کا کشمیر سے زیادہ افغانستان پر فوکس ہے، اور پاکستان کی جو ابھی اہمیت نظر آرہی ہے وہ افغانستان کی وجہ سے ہی ہے لیکن مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی افغان وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی ہے۔ افغانستان پر اس قدر فوکس کے باوجود پاکستان اور افغانستان کے سربراہان کے درمیان ملاقات طے نہیں ہے اس کی ایک وجہ شاید دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ بھی ہے تا ہم ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ افغانستان کی وجہ سے عالمی سطح پر بھارت نظر نہیں آرہا ہے۔

حیرانگی کی بات ہے کہ اقوام متحدہ کی سائیڈ لائنز پر افغانستان پر اعلیٰ سطحی کانفرنس کی میزبانی امریکہ اور چین نے ملک کر کی ہے۔اس کانفرنس میں افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبداللہ نے بھی شرکت کی۔ اس میں پاکستان کے مشیر خارجہ نے شرکت کی لیکن بھارت نہیں تھا۔ جبکہ افغانستان کے دیگر ہمسائیہ ممالک اور عالمی لیڈرز نے بھی شرکت کی۔ اس حوالے سے اگلی کانفرنس اسلام آباد میں ہو گی جس میں تمام سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی دعوت قبول کر لی۔ اس کانفرنس میں دہشت گردی پر بھی بات ہوئی ہے۔ اور عالمی طاقتوں نے افغانستان کو پاکستان کے ساتھ چلنے کا ہی پیغام دیا ہے اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سائیڈ لائنز پر ہونے والی کانفرنسوں نے پاکستان کی افغانستان میں اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور بھارت کو ایک مرتبہ پھر باور کروایا گیا ہے کہ اس کا چین اور پاکستان کی موجودگی میں کوئی کردار نہیں ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...