بان کی مون سے ملاقات ، اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر حل کرائے ، نواز شریف

بان کی مون سے ملاقات ، اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر حل کرائے ، نواز شریف

  



 نیویارک (عثمان شامی) وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرانے میں کردار ادا کریں، اس مقصد کے لئے کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے اور اس سلسلے میں سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کرایا جائے۔ بان کی مون سے ملاقات میں وزیراعظم نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا معاملہ بھی اٹھایا اور انہیں کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ یہ خلاف ورزیاں بند کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ نواز شریف نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی پہلی ترجیح ہے اور وہ افغانستان کے ساتھ نئے تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے، افغان حکومت کہے تو پاکستان افغانستان میں امن کے عمل میں مدد کرنے کو تیار ہے۔ بان کی مون نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کرانے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے ایک خاتون (ملیحہ لودھی) کو اقوام متحدہ میں مستقل مندوب بنائے جانے کی تعریف کی اور عالمی امن میں کردار ادا کرنے پر پاکستان کے امن مشنز کو خراج تحسین پیش کیا۔ ملاقات میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار، مشیر خارجہ سرتاج عزیز، وزیراعظم کے خصوصی معاون طارق فاطمی اور اقوام متحدہ میں مستقل مندوب ملیحہ لودھی بھی موجود تھے۔وزیراعظم نواز شریف نے جرمن چانسلر انجیلا مرکل سے بھی ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں میں دو طرفہ تعلقات اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم کو 2.3 سے بڑھا کر 5 ارب ڈالر تک لے جایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کے مسائل کو دور کرنے پر حکومت پوری توجہ دے رہی ہے، جرمنی کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے لئے پاکستان کو ٹیکنالوجی فراہم کرے۔ وزیراعظم نے جرمن چانسلر کو افغان امن کے لئے پاکستانی کوششوں سے متعلق بھی آگاہ کیا۔ انجیلا مرکل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مائیکرو فنانسنگ کے شعبے میں تعاون کرنا چاہتے ہیں۔چینی صدر ڑی جی پنگ نے ترقی پذیر ممالک کی معاونت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے دو ارب ڈالر پر مشتمل امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاقی منصوبوں سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر کا کہنا تھا کہ آئندہ پندرہ سال میں یہ سرمایہ کاری بارہ ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا چین دنیا کے پسماندہ ممالک کے قرضے معاف کرسکتا ہے۔ چینی صدر کا کہنا تھا یورپ میں پناہ گزینوں کے بحران سمیت دیگر عالمی مسائل کا بنیادی حل امن اور تعمیر و ترقی ہے۔

نیویارک(خصوصی رپورٹر) وزیراعظم نواز شریف نے خطے کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے ملکوں کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ دوسرے ملکوں سمیت پورے خطے کیلئے بڑے اقتصادی اور ترقیاتی فوائد کا حامل ہے، باہمی تعاون سے عالمی کساد بازاری پر قابو پایا جا سکتا ہے ،معاشی بحالی اور روزگار کی فراہمی کے عمل میں نجی شعبے کو کردار ادا کرنا ہوگا۔نیویارک میں جنوب میں تعاون کے بارے میں ایک گول میز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ پورے خطے اور دوسرے ملکوں کیلئے بڑے اقتصادی اور ترقیاتی فوائد کا حامل ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان جنوب کے ملکوں کے درمیان تجارت ، سرمایہ کاری ، انسانی وسائل کی ترقی ، ٹیکنالوجی اور مالیاتی وسائل کے شعبوں میں تعاون کو اپنے مفاد میں سمجھتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اداروں کو مضبوط بنانے کی حمایت سے جنوب تعاون کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ مشترکہ لائحہ عمل میں پیشرفت کیلئے جنوب تعاون کے طے شدہ قواعدوضوابط پر عملدرآمد جاری رہنا چاہئے۔آزادانہ تجارت اور رابطوں میں فروغ کے نتیجے میں جنوبی ملکوں کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی ملکوں کے درمیان تجارت کا موجودہ حجم چار کھرب ڈالر سے زیادہ ہے اور ترقی پذیر ملکوں کی جانب سرمایہ کاری کا رجحان بڑھا ہے جو براہ راست عالمی غیر ملکی سرمایہ کاری کا 50 فیصد سے زائد ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سارک، اقتصادی تعاون تنظیم ، اے سی ڈی اور ڈی ایٹ سمیت علاقائی تنظیموں کے ساتھ بھرپور طریقے سے کام کررہا ہے جو علاقائی اور اقتصادی تعاون کے فروغ کی ہماری پالیسی کا عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس ایک اہم موقع پر ہوا جس سے 2015ء کے بعد کے ترقیاتی ایجنڈے کو موجودہ مسائل اور اہداف سے ہم آہنگ کرنے کی کوششوں میں مدد ملے گی۔یہ گول میز کانفرنس پائیدار ترقی سے متعلق اقوام متحدہ کے سربراہ اجلاس اور 2030ء کے ترقیاتی ایجنڈے کی منظوری کے موقع پر منعقد کی گئی۔صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے بہت سے اقدامات کیے ہیں تاہم اس عمل کو آگے بڑھانے کیلئے ضروری وسائل فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا مذہب آئین اور بانی پاکستان کا وژن خواتین کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور اسی لئے حکومت نے خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے بہت سے اقدامات کیے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور یوتھ لون پروگرام میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنایا ہے جبکہ اس اجلاس میں عالمی رہنما?ں کی شرکت دنیا بھر کی خواتین کو بااختیار بنانے کا عز م ہے۔

مزید : صفحہ اول