بھارت سے بہتر تعلقات کی خواہش، نواز شریف کا جوش وجذبہ بالکل ٹھنڈا پڑچکا

بھارت سے بہتر تعلقات کی خواہش، نواز شریف کا جوش وجذبہ بالکل ٹھنڈا پڑچکا

  



نیو یارک سے تجزیہ :عثمان شامی

  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا70واں اجلاس پورے زور و شور سے نیویارک میں جاری ہے، اس مرتبہ اس کی اہمیت اس لئے بے حد زیادہ ہے کہ اقوام متحدہ کی 70ویں سالگرہ ہونے کے ساتھ ساتھ پائیدار ترقی ( development (Sustainable سمٹ بھی منعقد کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں اس وقت 160 سے زائد ممالک کے سربراہان اس وقت امریکہ میں موجود ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف بھی 3 روز قبل نیویارک پہنچے اور اب تک بے حد مصروف دو دن گزارچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت متعدد ممالک کے سربراہان سے وہ ملاقاتیں کرچکے ہیں اور یہ سلسلہ 30 ستمبر تک جاری رہے گا، جس دن وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ حکومتی ذرائع اور سیکرٹری خارجہ کے مطابق وہ مسئلہ کشمیر ایک مرتبہ پھر بھرپور انداز میں اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں، اس کے علاوہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں اور کامیابیاں اور افغانستان کے مستقبل پر بھی وہ اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔وزیراعظم نواز شریف گزشتہ برس بھی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کیلئے نیویارک تشریف لائے تھے، لیکن اس ایک سال میں بہت کچھ تبدیل ہوگیا۔ پچھلی مرتبہ دورہ قدرے مختصر اور ایسے موقع پر تھا جب اسلام آباد میں جاری دھرنے میں ابھی دم خم باقی تھا۔ دھرنے کا انجام کیا ہوگا؟ یہ پریشانی وزیراعظم کے چہرے اور گفتگو سے صاف جھلکتی تھی۔ اس مرتبہ معاملہ ایسا نہیں، ان سے غیر رسمی ملاقات ہوئی تو پہلے کی نسبت کافی پرسکون نظر آئے۔ وزیر خزانہ اسحق ڈار بھی اس وقت بانڈز کی نیلامی کے سلسلے میں نیویارک میں موجود ہیں۔ وہ اپنے بانڈز کی ’اوورسبسکرپشن‘ پر بغلیں بجاتے نظر آئے۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ بانڈز پر دی جانے والی شرح سود، 8.25 فیصد، کافی زیادہ ہے تاہم اسحق ڈار اس موقف کو قبول نہیں کرتے۔ بہرحال بین الاقوامی اخبارات میں گزشتہ چند ماہ سے متواتر پاکستان کی معیشیت میں بہتری کا اعتراف کیا جارہا ہے، عالمی ریٹنگ اداروں نے بھی کرم کیا ہے۔ ساتھ ہی اسحاق ڈار نے یہ خوشخبری بھی سنادی کہ زرمبادلہ کے ذخائر جلد 20 ارب ڈالر سے تجاوز کرجائیں گے، تاہم انہوں نے حتمی تاریخ دینے سے انکار کردیا۔جب وزیراعظم نواز شریف اقتدار میں آئے تو بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بے حد پرامید تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کوشش کی جائے تو ماحول سازگار بنایا جاسکتا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ خیال غلط ثابت ہونے لگا۔گزشتہ برس وہ مودی کے رویے سے نالاں تو تھے مگر ناامید نہ تھے۔ اب تاثر ایسا ملتا ہے جیسے وزیراعظم کا جوش و جذبہ اس حوالے سے با لکل ٹھنڈا ہوچکا ہے۔ یہ واضح ہے کہ اس مرتبہ ایک ہی ہوٹل میں ٹھہرنے کے باوجود دونوں وزرائے اعظم میں ملاقات کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ وزیراعظم کے لہجے میں بھارت سے تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے جو امید نظر آتی تھی وہ یکسر غائب ہوچکی ہے۔اس دورے کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ گزشتہ برس وزیراعظم نواز شریف نے ’والڈورف ایسٹوریہ ہوٹل‘ میں ہی قیام کیا تھا۔ یہ نیویارک کے مہنگے ترین ہوٹلوں میں سے ایک ہے۔ یہ خبر پچھلی مرتبہ کئی دن تک میڈیا میں موضوع بحث بنی رہی اور شدید تنقید کی جاتی رہی۔ اب وزیراعظم کا قیام ایک مرتبہ پھر اس ہی ہوٹل میں ہے، لیکن اس مرتبہ یہ خبر نہ رہی۔ اس زور و شور سے کمرے کا کرایہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی، نہ ہی اس حوالے سے سوالات اچھالے گئے، پچھلی مرتبہ شائد دھرنے کے اثرات کا بھی کمال تھا۔ افسوسناک بات یہ ہے ’والڈورف ایسٹوریہ‘ سے چند ہی قدم کے فاصلے پر ’روز ویلٹ ہوٹل‘ ہے، یہ پاکستان کی ملکیت ہے اور بہترین لوکیشن پر قائم ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ چند سال قبل اس کی مرمت اور تزئین و آرائش نئے سرے سے کی گئی لیکن اس میں قیام کرکے ایسا کوئی شک بھی دل میں پیدا نہیں ہوتا۔ اس ہوٹل کو اگر توجہ سے چلایا جائے تو کمائی کے ساتھ ساتھ سربراہان مملکت کے قیام کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر باراک اوبامہ جو ہمیشہ سے ’والڈورف ایسٹوریہ‘ میں قیام کرتے تھے ، اس دفعہ انہوں نے اسے خیرباد کہہ دیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ ہوٹل ایک چینی انشورنس کمپنی نے خرید لیا ہے اور چینیوں سے امریکہ کو ہمیشہ ہی جاسوسی کا خطرہ رہتا ہے۔ وزیراعظم اقوام متحدہ میں تو بے حد مصروف 5 روز گزاریں گے، اس حوالے سے دیکھا جائے تو نظر آتا ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے اپنا کردار خوب نبھایا ہے تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ وزیراعظم کی کوئی ملاقات یا تقریب طے نہیں کی گئی۔ اس حوالے سے سے امریکہ میں مقیم پاکستانی، جو کہ پہلے ہی بڑی تعداد میں تحریک انصاف کے سپورٹر ہیں، خاصے مایوس نظر آتے ہیں۔ جانے کس چیز کا ڈر ہے جو وزیراعظم کو امریکہ میں مقیم پاکستانیوں سے دور رکھے ہوئے ہے۔ دوسری جانب بھارتی وزیراعظم کے دورے پر نظر دوڑائی جائے تو دنیا ہی اور نظر آتی ہے۔ بھارتی کمیونٹی سے ملاقاتیں تو ایک طرف نریندر مودی نیویارک سے ’سلیکون ویلی‘ کے دورے پر سان فرانسسکو جاچکے ہیں۔ وہاں انہوں نے فیسبک اور گوگل کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔ اس سے قبل انہوں نے فورچیون 500 کمپنیوں کے سربراہان سے بھی ملاقات کی غرضیکہ صاف نظر آتا ہے وہ ملک میں سرمایہ کاری لانے کے مشن پر بھارت نکلے ہیں۔ ان کی مصروفیات ایسی ہیں کہ مریکی میڈیا میں بھی دورے کو غیر معمولی کوریج مل رہی ہے۔دوسری جانب پاکستان کا سارا زور بھارت پر مرکوز ہے ، یہ صورتحال دیکھ کر خیال گزرتا ہے کہ بھارت نے دانستہ طور پر پاکستان کو سرحدی کشیدگی اور دہشت گردی جیسے مسائل میں الجھا لیا ہے، ان مسائل پر جس قسم کی بحث ہورہی ہے وہ کبھی ختم ہوتی نظر نہیں آتی ، شائد مقصد ہی یہ ہے کہ اصل اہداف سے توجہ ہٹا دی جائے. وزیراعظم کی تقریر کے حوالے سے سیکرٹری خارجہ نے انکشاف کیا کہ خطاب اس مرتبہ بھی انگریزی میں ہی ہوگا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا میں خبریں شائع ہورہی تھیں کہ وزیراعظم اردومیں ہی خطاب کریں گے تاہم یہ امید رکھنے والوں کو ہر مرتبہ کی طرح ایک بار پھر مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستانی حکمرانوں کی انگریزی سے محبت بھی عجیب ہے۔ اس کی منطق بظاہر سمجھ نہیں آتی اور شائد کسی کو سمجھانے میں دلچسپی بھی نہیں ہے۔

مزید : تجزیہ


loading...