نیو یارک، اقوام متحدہ کے ارد گرد سے

نیو یارک، اقوام متحدہ کے ارد گرد سے
نیو یارک، اقوام متحدہ کے ارد گرد سے

  



اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ہمیشہ کی طرح تقسیم ہے۔ اس کی سائیڈ لائنز پر گروپنگ اور دوستیاں دشمنیاں صاف نظر آرہی ہیں۔ پاکستان صاف چین کے کیمپ میں نظر آرہا ہے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے تا دم تحریر قوام متحدہ کی سائیڈ لائنز پر دو کانفرنسوں میں شرکت کی ہے۔ دونوں کی میزبانی چین نے کی ۔ایک امریکہ کی میزبانی میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کرنا ابھی باقی ہے۔ جبکہ بھارت نے چینی میزبانی میں ہونے والی دونوں کانفرنسوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔ لیکن سارک کے باقی ممالک بنگلہ دیش۔ نیپال۔ سری لنکا شریک ہوئے۔ اس طرح بھار ت امریکہ کی گود میں اور ہم چین کی گود میں نظر آرہے ہیں۔ بس اقوام متحدہ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ ایک اور سادہ مثال سمجھنے کے لئے کافی یہی ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر موودی کے ساتھ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد نے ملاقات کی ہے۔ جبکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے وزر ء اعظم کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم سے سارک سے سری لنکاء اور نیپال کے وزرء اعظم نے ملاقات کی ہے۔ اور انہوں نے بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات نہیں کی۔ پاکستان اور بھارت دونوں وزرء اعظم سے ملاقات کرنے والی واحد اہم لیڈر جرمن چانسلر ہیں۔ جنہوں نے دونوں طرف ملاقات کی۔

پاکستان اور بھارت کے وزرء اعظم ایک ہی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ لیکن دونوں کے درمیان کوئی ملاقات نہ تو طے ہے اور نہ ہی اس کا کوئی امکان ہے۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے ورکنگ پاؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے دیوار کی ممکنہ تعمیر کے خلاف اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کو شکائت کی ہوئی ہے۔ جس کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی باقاعدہ دستاویز کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔ لیکن جتنے بھی ماہرین سے بات ہوئی انہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ اس پر کچھ نہیں ہو گا۔ بس اتنا ہی ہو گا کہ یہ شکائت ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اس کے آگے ویٹو کی طاقتیں اس کا راستہ روک لیں گی۔ اس لئے بس پاکستان نے جو حاصل کرنا تھا کر لیا ۔ آگے بند دیوار ہے۔اگر دیوار روکنی ہے تو زور بازو سے روکنی ہو گی۔ورنہ خاموشی عین عبادت ہے۔ اور زیادہ امکانات خاموشی کے ہیں۔ لیکن جب پاکستان نے بھارت کے خلاف اقوام متحدہ میں شکائت کی ہوئی ہے ایسے میں اقوام متحدہ کی سائیڈ لائنز پر ملاقات کا مکان نہیں۔

جب بھی پاکستان کے وزیر اعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لئے آئے ہیں۔ یہ سوال اہم رہا ہے کہ ان کی کس کس سے ملاقات ہوئی۔ دنیا کے اہم لیڈرز میں سے وہ کس سے ملے۔ ملاقاتیں نہ ہوں تو ملک میں تنقید ہوتی ہے۔ کہ دورہ نا کام ہو گیا۔ کسی نے لفٹ نہیں کروائی۔ اس بار بھی پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری سے بھی پہلی بریفنگ میں یہی سوال ہوا۔ انہوں نے اس کی ایک تفصیلی وضاحت پیش کی۔ جو قارئین کے سمجھنے کے لئے لکھ رہا ہوں۔ جہاں تک اوباماء سے میٹنگ کا سوال ہے تو وہ تو اگلے ماہ 23 اکتوبر کو وائٹ ہاؤس میں طے ہے۔ اس لئے اب کیا ملنا۔ بس ایک اقوام متحدہ کی امن فورسز کی ایک کانفرنس جس کی میزبانی اوباماء کر رہے ہیں۔ اس میں میاں نواز شریف شریک ہو نگے۔ کوئی باقاعدہ ملاقات اس لئے طے نہیں ۔ کہ اگلے ماہ ملنا ہے تب بات ہو گی۔ روسی صدر پوٹن سے ابھی دو ماہ پہلے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے۔ تو دوبارہ ملنے کا کوئی جواز نہیں۔ برطانوی وزیر اعظم سے تو ابھی میاں نواز شریف لندن میں مل کر آرہے ہیں۔ اس لئے اب وزر اعظم دو دو دن کے وقفہ سے دوبارہ ملاقات تو نہیں کرتے۔ بھارت کے خلاف تو شکائت کی ہے اس لئے ملاقات نہیں۔ باقی سب سے مل رہے ہیں۔ جرمن کی چانسلر مل رہی ہیں۔ چینی صدر کی میزبانی میں دو کانفرنسوں میں وزیر اعظم شریک ہو نگے۔ لیکن کوئی ون آن ون ملاقات طے نہیں ہے۔ باقی جان کیری وزیر اعظم کو مل رہے ہیں۔

ہر بار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی میٹنگ کے موقع پر ہر ملک کے کچھ سفارتی اور کاروباری اہداف ہوتے ہیں۔ جس کے تناطر میں ملاقاتیں طے کی جاتی ہیں ۔ تا کہ ان اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔ میاں نواز شریف کے اہداف سے ایک بات تو طے ہے کہ ہم چین کے ساتھ ہیں۔ اقوام متحدہ میں چین کے قدم سے قدم ملا کر چلنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے چین کی میزبانی میں ہونی والی دونوں کانفرنسوں میں میاں نواز شریف شریک ہو رہے ہیں۔ لیکن اس سے آگے ابھی کچھ نظر نہیں آرہا۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب 30 ستمبر کو ہے۔ سیکرٹری خارجہ ہر بریفنگ میں اس خطاب کو اہم قرار دے رہے ہیں۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ وزیراعظم بھارت کے حوالے سے سخت بات کریں گے۔ اسی لئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے ملاقات میں بھی میاں نواز شریف نے بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کا معاملہ اٹھا یا ہے۔ تقریر میں بھی یہ اہم نقطہ ہو گا۔ بھارت کے خلاف جو حقائق نامہ تیار کیا گیا وہ کیسے دیا جا ئے گا۔ یہ بھی ابھی معمہ ہے۔ جناب اعزاز احمد چودھری نے ہر بار سوال کے جواب میں یہ تجسس برقرار رکھا ہے کہ وقت آنے پر بتائیں گے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سائیڈ لائنز پر اس بار کافی کانفرنسیں ہو رہی ہیں۔ ان میں سب سے اہم ڈویلپمنٹ سمٹ ہے۔ اس کے افتتاحی اجلاس سے وزیر اعظم نریندر موودی اور ملالہ یوسف زئی نے بھی بان کی مون کے ساتھ خطاب کیا۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف اس اہم سمٹ کے افتتاحی اجلاس میں نہیں تھے۔ وہ اسی دن شام کو پہنچے جبکہ کانفرنس صبح تھی۔ ایک عام خیال تھا کہ اگر وزیر اعظم صبح یعنی چند گھنٹے پہلے آجاتے تو اس سمٹ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کر سکتے تھے۔ایک سنیئر صحافی نے اس حوالہ سے ایک لمبا ٹوئٹ بھی کردیا ۔ لیکن سیکرٹری خارجہ نے پوچھنے پر بتا یا کہ اقوام متحدہ میں کون کب اور کس موقع پر تقریر کرے گا اس کا فیصلہ قرعہ اندازی سے ہوتا ہے۔ اور قرعہ اندازی میں پاکستان کی باری پہلے دن نہیں تھی۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف کی مائیکرو سافٹ کے مالک بل گیٹس سے بھی ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں پاکستان سے پولیوء کے خاتمہ پر بات ہوئی۔ بل گیٹس نے پاکستان میں پولیو کے کیسز میں نمایاں کمی پر وزیر اعظم میاں نواز شریف کی تعریف کی اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس سال پاکستان سے پولیو کا خاتمہ ہو جائے گا۔ لیکن بل گیٹس کی ملاقات کے حوالہ سے ایک بات یہ سامنے آئی ہے کہ ہم سے اس نے پولیو پر بات کی اور بھارتی وزیر اعظم سے اربوں ڈالر کے سرمایہ کاری کے معاہدہ کئے۔ تا ہم یہ پوچھنے پر بتا یا گیا کہ ملاقات میں پاکستان کی آئی ٹی کی وزیر انوشہ رحمان بھی موجود تھیں۔ اور آئی ٹی کی سرمایہ کاری پربات ہوئی ہے۔ لیکن شائد ابھی معاہدہ کوئی نہیں ہوا۔ شائد وہ بھی امریکی حکومت کی مرضی سے سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

مزید : کالم


loading...