امریکہ ٹوٹ پھوٹ کے شکار سیارے کے ’’کھلے زخموں‘‘ پر مرہم رکھے، پوپ فرانسس

امریکہ ٹوٹ پھوٹ کے شکار سیارے کے ’’کھلے زخموں‘‘ پر مرہم رکھے، پوپ فرانسس

  



واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) پوپ فرانسیسی نے امریکی قیادت اور کانگریس پر زور دیا ہے کہ وہ نفرت، لالچ، غربت اور آلودگی سے ٹوٹ پھوٹ کے شکار اس سیارے کے ’’کھلے زخموں‘‘ پر مرہم رکھنے کے لئے اپنی قوت کا استعمال کریں۔ ایک ارب بیس کروڑ کیتھولک کرسچینز کے روحانی پیشوا نے آج امریکی کانفرنس کو خطاب کرنے والے پہلے پوپ کا اعزاز حاصل کرلیا۔ ان کا یہ خطاب دراصل تاریخ کی سب سے بڑی طاقت کی قیادت اور کانگریس کے لئے ایک چیلنج اور سرزنش بھی تھی۔ انہوں نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں امریکہ کی کمزوریوں کی کھلے عام نشان دہی کرنے کی جرأت کی اور انہیں تلقین کی کہ وہ بے حسی اور دھڑلے بندی کے دائرے کو توڑ کر باہر نکلیں۔ کسی بشپ آف روم کی کانگریس کے ایوانوں میں پہلی مرتبہ گونجتی آواز میں لبرل قوتوں کا واضح دفاع محسوس کیا جاسکتا تھا، پوپ فرانسس نے حکمیہ لہجے میں امریکہ پر زور دیا کہ وہ امیگریشن کے مسئلے پر فراخ دل کا مظاہرہ کرے۔ سرمایہ داری میں اضافے کو ختم کرے، انہوں نے ٹھوس انداز میں اسلحے کی تجارت کی مذمت کی اور سزائے موت ختم کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے ماحول کو بہتر بنانے اور آلودگی ختم کرنے کے لئے ضروری قانون سازی کی بھی حمایت کی۔ پوپ فرانسس نے امریکہ کو یاد دلایا کہ دنیا کی دولت کا جو حصہ اس کے پاس ہے وہ اس کے تناسب سے زیادہ ہے۔ وہ اس دولت کے ذریعے دنیا پر ایسے فیصلے نہ ٹھونسے جو انسانیت کے خلاف جائیں۔ پوپ فرانسس نے واشنگٹن میں کانگریس سے خطاب کے بعد سینٹ پیٹرک چرچ میں بے گھر لوگوں سے بھی خطاب کیا اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا، ان سے ہسپانوی زبان میں بات کرتے ہوئے پوپ نے کہا کہ گھر سے محرومی کا کوئی سماجی یا اخلاقی جواز نہیں ہے۔ پوپ پچھلے پہر اینڈریوز کے فضائی اڈے سے نیو یارک روانہ ہوگئے جہاں وہ جنرل اسمبلی کا دورہ بھی کریں گے۔

مزید : صفحہ آخر