ہمیں متحد ہونے کا مظاہرہ کرنا چاہئے

ہمیں متحد ہونے کا مظاہرہ کرنا چاہئے

  



مکرمی! ابھی تو چند روز ہی گزرے ہیں کہ ہم یک زبان کہہ رہے تھے کہ ساری قوم ایک بار پھر ستمبر 1965ء کی جنگ کے دِنوں جیسی متحد ہے اور ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اپنی مسلح فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، اور انشااللہ یہ اتحاد قائم و دائم رہے گا۔پھر اب آخر کیا ہو گیا ہے کہ کچھ مختلف قسم کا شور بھی سنائی دیتا ہے۔ عوام نے خصوصاً کراچی شہر والوں نے اطمینان کا سانس لیا تھا۔ کہ کراچی میں امن قائم ہو رہا ہے، جن اداروں کو جو کام سونپا گیا ہے۔اگر وہ کر رہے ہیں، تو پھر اس میں شک کی گنجائش تو نہیں ہونی چاہئے۔ہاں ہر ایک کو اپنی رائے دینے کے حق سے محروم بھی تو نہیں کیا جا سکتا، مگر رائے یا احتجاج آئین اور قانون کے دائرے کے اندر رہ کر کیا جائے۔ کہیں ہڑتال کی جا رہی ہوتی ہے۔کہیں ریلی یا جلوس کی شکل میں شاہراؤں پر ٹریفک کی روانگی میں روکاوٹ کا باعث بنتے ہیں، جو ہم سب کے لئے نقصان دہ بھی ہے اور تکالیف سے بھی خالی نہیں، اور تو اور ہسپتال بھی مکمل نہیں،تو جزوی طور پر بند کر دیئے جاتے ہیں، جس سے مریضوں کو تکلیف کا سامنا یا ساتھ جو لواحقین ہوتے ہیں بچے،بوڑھے۔سکول،کالج سے آنے جانے والے بچے بچیاں، ڈیوٹی پر جانے والے، غرض ہر چیز تھم جاتی ہے اور ماضی میں ایسے حالات میں کچھ مریض جان سے بھی گئے، لہٰذا ہم کو بھی ایک متحد اور مہذب قوم ہونے کے ناطے دوسرے لوگوں ،بچوں، بچیوں، بوڑھوں کے لئے باعثِ زحمت بننے سے اجتناب کرنا ہو گا۔ایک طرف ہم دہشت گردوں سے برسر پیکار ہیں اور دیگر دشمن کو بھی للکار رہے ہیں، مُلک کا ہر فرد کچھ نہ کچھ اچھا کرے گا تبھی ہم ترقی کی منازل جلد طے کر سکیں گے۔(افتخار احمد قریشی ، لاہور)

مزید : اداریہ