بینظیر قتل کیس ، تفتیشی افسر کا بیان قلمبند، خودکش حملہ آور کی ڈی این اے رپورٹ و دیگر ریکارڈ پیش

بینظیر قتل کیس ، تفتیشی افسر کا بیان قلمبند، خودکش حملہ آور کی ڈی این اے ...
بینظیر قتل کیس ، تفتیشی افسر کا بیان قلمبند، خودکش حملہ آور کی ڈی این اے رپورٹ و دیگر ریکارڈ پیش

  



راولپنڈی(اے این این) راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو قتل کیس کے تفتیشی افسر کا بیان قلمبند ، خودکش حملہ آور کی ڈی این اے رپورٹ ، اپر جیکٹ ، چپل اور گولیوں کے خول سمیت دیگر ریکارڈ عدالت میں پیش کر دیا گیا۔پیر کو راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج رائے ایوب مارتھ نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو قتل کیس کی سماعت کی ، مقدمے کے مدعی اور تفتیشی افسر کاشف ریاض پر جرح مکمل کر کے بیان قلمبند کر لیا۔

پولیس کی جانب سے کیس کا مال مقدمہ کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا گیا جس میں بینظیر بھٹو پر حملہ کرنے والے خودکش بمبار کی اپر جیکٹ ، چپل ، گولیوں کے خول اور حملہ آور کی ڈی این اے رپورٹ شامل ہے۔خودکش بمبار اور گرفتار چاروں ملزمان کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کا ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کیا گیا ۔ عدالت نے مدعی مقدمہ کا بیان قلمبند کرنے اور مزید 3 گواہوں کو سمن جاری کر کے کیس کی سماعت یکم اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

اگلی سماعت پر بینظیر بھٹو قتل کیس میں امریکی صحافی مارک سیگل کا بیان قلمبند کیا جائے گا ۔یہ بیان یکم اکتوبر کو شام 7 بجے ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے گا۔ مارک سیگل کا بیان واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے سے کمشنر آفس میں ریکارڈ کرایا جائے گا۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007 میں راولپنڈی میں قتل کیا گیا تھا۔ بینظیر بھٹو نے امریکی صحافی مارک سیگل کو ان لوگوں کے نام بتائے تھے جن سے انہیں خطرہ تھا۔

مزید : قومی


loading...