انڈونیشیا نے اپنے تقریباٍ 13 لاکھ شہریوں کو عرب ملکوں سے واپس بلانے کا حتمی فیصلہ کر لیا

انڈونیشیا نے اپنے تقریباٍ 13 لاکھ شہریوں کو عرب ملکوں سے واپس بلانے کا حتمی ...
انڈونیشیا نے اپنے تقریباٍ 13 لاکھ شہریوں کو عرب ملکوں سے واپس بلانے کا حتمی فیصلہ کر لیا

  



مناما(مانیٹرنگ ڈیسک)کچھ عرصہ قبل انڈونیشیاءکی طرف سے فیصلہ کیا گیا تھا کہ وہ عرب ممالک میں موجود اپنے ورکرز کو واپس بلا لے گا جس پر عرب دنیا گومگوں کا شکار تھی کہ شاید انڈونیشیاءاپنا فیصلہ واپس لے لے، لیکن اب انڈونیشین حکام کی طرف سے دوٹوک موقف سامنے آ گیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ عرب ممالک سے اپنے شہریوں کو واپس بلانے کا فیصلہ حتمی ہے اور اس پر کوئی نظرثانی کی جائے گی نہ ہی واپس لیا جائے گا۔

کیا آپ ناپسندیدہ میسجز اور کالز وصول کرنے سے تھک گئے ہیں؟ تو یہ خبر آپ کے لئے ہے

تقریباً13لاکھ انڈونیشین باشندے مشرق وسطیٰ کے ممالک میں محنت مزدوری کرر ہے ہیں۔ ان میں سے اکثریت وہاں گھریلو کام کاج پر مامور ہے۔انڈونیشیاءکی حکومت 15ماہ کے دوران ان سب ورکرز کو واپس اپنے ملک بلانا چاہتی ہے۔ انڈونیشیاءکے اس اقدام سے سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین، عمان، اردن ، متحدہ عرب امارات، لبنان اور مصر سمیت 21ممالک متاثر ہوں گے اور وہاں افرادی قوت کی کمی واقع ہو جائے گی۔

انڈونیشیاءنے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو اپنے ملک میں ملازمت کے مواقع فراہم کرے گا۔ خاص طور پر بیرون ملک کام کرنے پر مجبور خواتین کو ترجیحی بنیادوں پر نوکریاں فراہم کی جائیں گی۔سعودی عرب میں 7لاکھ تارکین وطن مقیم ہیں جن میں سے اکثریت ڈرائیور اور گھریلوملازمین کی ہے، ان میں خاصی تعداد انڈونیشین باشندوں کی ہے۔ اگر انڈونیشیاءاپنے شہریوں کو واپس بلا لیتا ہے تو وہاں ملازمت کے بے شمار مواقع پیدا ہو جائیں گے اور سعودی عرب سمیت ان تمام عرب ممالک کوافرادی قوت کے لیے دیگر ممالک سے رجوع کرنا پڑے گا۔

ایئر ہوسٹس مسافر کے ساتھ جہاز کے باتھ روم میں قابل اعتراض حرکات کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی

مزید : بین الاقوامی