وہ پاکستانی لڑکی جو برطانیہ میں حجاب پہن کر ماڈلنگ کرتی ہے، وجہ بھی بتا دی

وہ پاکستانی لڑکی جو برطانیہ میں حجاب پہن کر ماڈلنگ کرتی ہے، وجہ بھی بتا دی
وہ پاکستانی لڑکی جو برطانیہ میں حجاب پہن کر ماڈلنگ کرتی ہے، وجہ بھی بتا دی

  



لندن (نیوز ڈیسک) مغرب میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور خصوصاً حجاب پہننے والی خواتین کے استحصال کا سلسلہ تو ایک عرصے سے جاری ہے لیکن اب پہلی دفعہ ایک بڑی فیشن کمپنی نے حجاب کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے جدید طرز کے لباس کے ساتھ ساتھ حجاب کی تیاری اور مارکیٹنگ کا بھی آغاز کر دیا ہے۔

کیا آپ ناپسندیدہ میسجز اور کالز وصول کرنے سے تھک گئے ہیں؟ تو یہ خبر آپ کے لئے ہے

H&M دنیا کی دوسری بڑی ریٹیل کمپنی اور مشہور فیشن برانڈ ہے اور اس کمپنی نے پہلی دفعہ ایک مسلمان ماڈل کے زریعے حجاب کو مقبول بنانے کے لئے اشتہار پیش کر دیا ہے۔ تئیس سالہ ماڈل ماریہ ادریسی پاکستانی اور مراکشی ورثے کی حامل ہیں اور لندن میں ایک فیشن سیلون چلاتی ہیں۔ وہ کمپنی کے تازہ ترین اشتہار میں اسلامی حجاب پہنے ہوئے نظر آئی ہیں اور پر امید ہیں کہ اس نئے اقدام سے مسلمان خواتین کے علاوہ غیر مسلم خواتین بھی حجاب کی طرف مائل ہوں گی۔

جریدے ’فیوژن ‘ سے بات کرتے ہوئے ماریہ نے بتایا کہ مغربی ممالک میں حجاب پہننے والی خواتین کو فیشن کی دنیا میں بالکل نظر انداز کر دیا گیا تھا لیکن H&M کی طرف سے حجاب کو نئے انداز متعارف کروانا خوش آئند ہے، جو اس لباس کی بڑے پیمانے پر مقبولیت میں مددگار ثابت ہو گا۔

وہ حیران کن بچہ جو سر کے بغیر پیدا ہوا، سالگرہ منا کر ڈاکٹروں کو حیرت میں مبتلا کر دیا

انہوں نے بتایا کہ اشتہار میں کام کرنے سے پہلے ان کے زہن کچھ شکوک و شبہات تھے لیکن ان کے والدین نے انہیں قدم بڑھانے کی اجازت دی اور ان کے ساتھ کام کرنے والی ٹیم نے ان کی روایات اور طرز زندگی کا مکمل خیال رکھا اور انہیں بہت عزت اور احترام دیا۔ اس موقع پر ماریہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ حجاب صرف سر ڈھانپنے کا نام نہیں بلکہ یہ آپ کے چلنے پھرنے، بات کرنے، دیکھنے اور سوچنے میں بھی نظر آنا چاہئے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس