امریکہ ایران اور روس کے ساتھ ملکرشام کا مسئلہ حل کرنے کے لیے تیار ہے :بارک اوبامہ

امریکہ ایران اور روس کے ساتھ ملکرشام کا مسئلہ حل کرنے کے لیے تیار ہے :بارک ...
 امریکہ ایران اور روس کے ساتھ ملکرشام کا مسئلہ حل کرنے کے لیے تیار ہے :بارک اوبامہ

  



نیو یارک (مانیٹرنگ ڈیسک )امریکی صدر بارک اوبامہ نے کہا ہے کہ امریکہ دنیا میں امن کے لیے تنہا کچھ بھی نہیں کر سکتااس کے لیے ہم سب کو ملکر کام کرنا ہو گا ۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ مضبو ط روس چاہتا ہے جو ہمارے ساتھ مل کر کام کرے۔روس کے خلاف پابندیاں سرد جنگ کی طرف لوٹنے کی عکاس نہیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ شام کے صدر بشار السد نے اپنے ہی لوگوں پر بم گرا کر قتل عام کیا۔ امریکہ ایران اور روس کے ساتھ مل کر شام کا مسئلہ حل کرنے کو تیار ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ عراق میں امریکہ نے سبق سیکھا کہ کسی بھی دوسرے ملک میں طاقت اور پیسے کے زور پر امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔ماضی کے پرتشدد طریقوں کی طرف واپس نہیں جائیں گے ۔اب علاقوں پر قبضے طاقت کی علامت نہیں ہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ کچھ عالمی ممالک بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں ۔

داعش کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ داعش نے اسلام کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش کی ہے ۔اسلام ہمدردی اور تحمل کا درس دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش جیسی تنظیم ذہر آلود ذہنیت کی مالک ہے ۔بارک اوبامہ نے کہا کہ ہم دنیا کہ لاحق خطرات سے آگاہ ہیں ،شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے۔امریکا پچاس ممالک کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی امن فوج میں اضا فہ کر ے گا۔چیلنجز سے مل کر نمٹنا ہو گا ۔امریکہ سمیت کوئی بھی ملک دہشت گردی اور مالی مسائل سے بچا ہوا نہیں ہے۔دنیا میں لوگوں کے خوف سے فائدہ اٹھا یا جا رہا ہے ۔ ہم بڑ ی بڑی اقوام کو تباہ ہو تے ہوئے دیکھ رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے فروغ کے لیے اقوام متحدہ کے اصولوں نے مدد فراہم کی ۔آمرانہ ادوار ہمیشہ ریاست کو کمزور کرتے ہیں ۔بارک اوبامہ نے کہا کہ امریکہ کو بہت سے خطرات لاحق ہیں جن سے ہم واقف ہیں ۔اپنے وطن کے دفاع کے لیے مجھے کبھی ہچکچاہٹ نہیں ہو سکتی ۔ضرورت پڑنے پر اپنے ملک اور اتحادیوں کا بھر پوردفاع کروں گا ۔

ایران کے ایٹمی معاہدے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بارک اوبامہ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے بڑے عالمی تنازعے کا خاتمہ ہوا اور یہ معاہدہ مستقل بنیادوں پر کیا گیا ہے ۔ایران کے ساتھ معاہدے نے ثابت کیا کہ بڑے سے بڑے تنا زعات بات چیت کے ذریعے حل ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی کامیابیوں پر غور کی ضرورت ہے ،ہماری منزل ابھی دور ہے او ر ابھی انسانیت کی ترقی کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں