ضمنی الیکشن میں رینجرز اور فوج کی تعیناتی کا فیصلہ بروقت اور مناسب ہے

ضمنی الیکشن میں رینجرز اور فوج کی تعیناتی کا فیصلہ بروقت اور مناسب ہے

  



تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

چلئے عمران خان کا یہ مطالبہ تو پورا ہوا کہ ضمنی الیکشن والے حلقوں میں پولنگ والے دن یعنی 11 اکتوبر کو فوج اور رینجرز تعینات کی جائے، امید واثق ہے کہ اب عمران خان کے خدشات بھی کم ہو جائیں گے۔ جن کا اظہار وہ الیکشن میں ”دھاندلی“ کے سلسلے میں کرتے رہتے ہیں۔ رینجرز اور فوج کے افسروں اور جوانوں کو ان حلقوں میں متعین کرنا اپنی جگہ ایک اہم فیصلہ ہے لیکن اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم یعنی اہل پاکستان الیکشن کے سلسلے میں اپنی اجتماعی سوچ اور آﺅٹ لک کو تبدیل کریں۔ دنیا بھر میں الیکشن ہوتے ہیں اور بعض ملکوں میں تو اس قدر پرامن اور ہموار طریقے سے منعقد ہوتے ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ انتخاب ہو رہے ہیں۔ لوگ خاموشی سے آتے ہیں، اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہیں اور اسی خاموشی کے ساتھ اپنی دیگر مصروفیات شروع کر دیتے ہیں۔

1994ءکے مڈٹرم الیکشن میں ان سطور کے راقم کو لاس اینجلس میں چند پولنگ سٹیشن دیکھنے کا اتفاق ہوا، ہوٹل کے کمرے سے نکلے تو لابی کے اندر ہی ایک پولنگ سٹیشن بنا ہوا تھا، معلوم ہوا کہ یہ پولنگ سٹیشن ہے اور لوگ ووٹ ڈالنے کے لئے آرہے ہیں۔ تھوڑی دیر رکے تو لوگوں کو انتہائی پرامن طریقے سے ووٹ ڈالتے دیکھا، کوئی ہجوم نہیں تھا، ھلے گلے کا تو خیر کیا سوال؟ فائیو سٹار ہوٹل میں ویسے بھی لوگ دھماچوکڑی مچانے کا تصور نہیں کرسکتے، وجہ غالباً یہ ہوتی ہے کہ ووٹ ڈالنے کے لئے حکومت عام تعطیل نہیں کرتی، لوگ (اور ووٹر) حسب سابق اپنی اپنی مصروفیات میں جتے ہوتے ہیں، جسے ووٹ ڈالنا ہے وہ فرصت کے چند لمحات نکالے، اپنے پولنگ سٹیشن پر جائے، ووٹ ڈالے اور فارغ ہوکر واپس کام پر چلا جائے۔ اجرتوں کا نظام چونکہ گھنٹوں کے حساب سے متعین ہوتا ہے، اس لئے لوگ وقت ضائع کرنے کا تصور بھی نہیں کرتے، یہ تو مڈٹرم الیکشن تھے، صدارتی الیکشن میں تو ووٹروں کو مقررہ دن سے بھی پہلے ووٹ ڈالنے کی اجازت ہوتی ہے تاکہ جو لوگ الیکشن والے دن مصروف ہوں، وہ پہلے ہی ووٹ ڈال دیں۔

خیر امریکہ سے موازنہ مقصود نہیں اور نہ ہوسکتا ہے لیکن اتنا تو یہاں بھی کیا جاسکتا ہے کہ لوگ ووٹ ڈالنے کے لئے امن کے کلچر کو فروغ دیں، ووٹر اطمینان سے آئیں، ووٹ ڈالیں اور واپس چلے جائیں، ہمارے ہاں پولنگ سٹیشنوں کے اردگرد جو ووٹر ”چھاﺅنی“ ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں اس کی وجہ غالباً یہ ہوتی ہے کہ عام تعطیل کی وجہ سے انہیں کسی دوسری مصروفیت کے مقام پر نہیں جانا ہوتا، وہ پولنگ سٹیشن کے مناظر کو ”انجوائے“ کرنے کے لئے وہیں بیٹھے رہتے ہیں، پھر شاید پولنگ سٹیشنوں کی کم تعداد کی وجہ سے لمبی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں، پولنگ کا وقت ختم ہونے والا ہوتا ہے اور قطار لمبی ہوتی چلی جاتی ہے، پھر نعرے بازی ہوتی ہے۔ امیدواروں کے حامیوں میں تصادم ہوتا ہے، کہیں گولی بھی چل جاتی ہے، لوگ ہلاک بھی ہوجاتے ہیں، ایسے سانحات سے بچنے کی ضرورت ہے اور یہ سب کچھ ایک نئے کلچر کا تقاضا کرتا ہے۔

انتخاب کا کلچر ایسا ہونا چاہئے کہ لوگ ہار جیت اور ووٹ ڈالنے کو زندگی اور موت کا مسئلہ نہ بنائیں۔ ویسے بھی بعض انتخابات ایسے ہوتے ہیں جن کے نتیجے کے بعد بھی جوہری طور پر کوئی تبدیلی نہیں آنا ہوتی، مثلاً لاہور اور لودھراں کے قومی اسمبلی کے دو حلقوں میں 11 اکتوبر کو جو ضمنی الیکشن ہونے والا ہے اس میں ہر امیدوار اپنی اپنی جیت کا دعویٰ تو کر رہا ہے، حکومتی جماعت کے امیدواروں کا کہنا ہے کہ وہ جیتیں گے، مخالف جماعتوں کے امیدوار اپنی اپنی کامیابی کے بارے میں پرامید ہیں۔ اب دیکھئے ان انتخابات کے بعد ہوگا کیا؟ فرض کریں دونوں حلقوں میں حکومتی امیدوار جیت جائیں تو اسمبلی میں اس جماعت کی مجموعی نشستوں کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی کیونکہ دونوں نشستیں حکمران جماعت کے امیدواروں نے خالی کی ہیں، جیت کے بعد پہلے والی پوزیشن بحال ہو جائے گی، البتہ اگر یہ دونوں نشستیں تحریک انصاف جیت جائے تو وہ اسے اپنی مقبولیت میں اضافے کا پیمانہ بنائے گی، اور اس بنیاد پر ایک نئی پروپیگنڈہ مہم بھی شروع کرسکتی ہے حالانکہ اسمبلی میں دو نشستوں کے اضافے سے اس کی قوت میں کوئی غیر معمولی اضافہ تو نہیں ہو جائے گا، تھوڑی سی نفسیاتی برتری کا نشہ جتنا بھی بڑھا لیا جائے وہ الگ بات ہے۔ اسی طرح دو صوبائی حلقوں میں بھی اگر تحریک انصاف جیت جائے تو پنجاب اسمبلی میں اس کی دو نشستیں بڑھ جانے سے کیا فرق پڑے گا؟ لیکن ایسے نتائج کی صورت میں آپ دیکھیں گے کہ کسی جانب سے یہ مطالبہ بھی ہوگا کہ حکومت چونکہ یہ ضمنی الیکشن ہار گئی ہے اس لئے اب وہ مستعفی ہو جائے بھلے سے اس کی اکثریت قائم ہے، اس کے لئے ایسی ایسی دلیلیں لائی جائیں گی کہ عقل سر پیٹ لے گی، یہی وجہ ہے کہ انتخابات کو لوگ زندگی اور موت کا مسئلہ بنالیتے ہیں حالانکہ نہ ایسا ہے نہ ہونا چاہئے، بہتر عمل تو یہ ہے کہ متحارب جماعتیں اپنا اپنا پروگرام عوام کے روبرو پیش کریں، انہیں اپنے نقطہ نظر کا قائل کرنے کی کوشش کریں۔ پرامن جلسے کریں، جن میں اپنے پروگرام کی وضاحت کریں، مخالف فریق کو رگیدنا اور نامناسب الفاظ میں یاد کرنا ضروری نہیں ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اگر یہ سارے عناصر ہماری انتخابی مہم میں در نہ آئیں تو سیاسی رہنماﺅں کو ”مزہ“ نہیں آتا، مخالفانہ بیان بازی کو چاہے وہ کتنی ہی بے بنیاد ہو، انتخابی مہم کا جزو لاینفک سمجھ لیا گیا ہے اور اس کا اظہار ضروری سمجھا جاتا ہے، جو لوگ دنیا کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں، وہ بھی جب انتخابی میدان میں اترتے ہیں تو ان یونیورسٹیوں کے کلچر کو بالکل بھول جاتے ہیں، انہیں یاد ہی نہیں رہتا کہ وہ کبھی آکسفورڈ یا کیمبرج میں زیر تعلیم تھے، یا انہوں نے ہاورڈ یونیورسٹی کی غلام گردشوں میں ماہ و سال گزارے تھے۔ ان کی گفتگو سنیں تو ایسے لگتا ہے کہ ان یونیورسٹیوں کی تعلیم نے ان کی سوچ اور شخصیت پر کوئی اثر نہیں ڈالا، اگر ان اعلیٰ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل سیاست دانوں کا یہ حال ہے تو جو سیاست دان ان کالجوں سے فارغ التحصیل ہیں جو مشہور ہی ہلے گلے اور فائرنگ کی وجہ سے ہیں تو ان سے کیا توقع کی جاسکتی ہے؟ اب تک اگر ایسا نہیں ہوا تو بھی اب وقت آگیا ہے کہ سیاسی جماعتیں روشن روایات قائم کریں اور پرامن پولنگ کی بنیاد رکھیں، ایسی پولنگ جو رینجرز اور فوج کی موجودگی کے بغیر بھی پرامن ہو۔

مزید : تجزیہ


loading...