احتساب محدود کیوں؟

احتساب محدود کیوں؟
احتساب محدود کیوں؟

  

سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی نا اہلی سے قبل تک تحریک انصاف کے چیئرمیں عمران خان ’سب سے پہلے وزیراعظم کا احتساب ‘کا نعرہ لگاتے ہوئے کہتے تھے کہ پہلے میاں نواز شریف کا احتساب ہو ، اس کے بعد بلاتفریق سب کا احتساب کیا جائے۔

اسی نکتے پر جماعت اسلامی سمیت باقی اپوزیشن جماعتیں بھی واویلا مچاتی رہی ہیں، لیکن اب جب کہ میاں نواز شریف کو ایک ’’ متنازعہ‘‘ احتسابی عمل کے حوالے سے وزارتِ عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا ہے تو سوال یہ ہے کہ عمران خان سمیت باقی تمام لوگوں کی زبانیں احتساب کا عمل جاری رکھنے کے حوالے سے گنگ کیوں ہو چکی ہیں؟ اگر عمران خان، سراج الحق اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنما حقیقت میں ملک کے اندر تمام کرپٹ لوگوں کا احتساب کرنا چاہتے تھے اور ان کا ہدف صرف میاں نواز شریف کی ذات نہیں تھی تو اب ان کو اسی قوت کے ساتھ اپنے سمیت باقی تمام لوگوں کے احتساب کا نعرہ لگانے سے کون سی چیز مانع ہے؟ پاناما کے دیگر چار سو سے زائد لوگوں کے خلاف بھی اسی انداز میں فاسٹ ٹریک پر جے آئی ٹی کے تحت تفتیش اور فوری فیصلے کا اہتمام کرنا ہو گا۔بصورت دیگر مستقبل کا مورخ تاریخ میں میاں نواز شریف کو مظلوم لکھے گا اور ان کے خلاف ہونے والے احتساب کے پورے عمل کو ’’سازش‘‘ قرار دے کر عمران خان، اور سراج الحق،کو اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرے گا۔

احتساب کا عمل صرف میاں نواز شریف تک محدود ہونے کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے ووٹرز اور سپورٹرز بہت ہیجانی کیفیت کا شکار ہیں اور ان کے دِل و دماغ میں سپریم کورٹ اور دیگر کچھ اداروں کے متعلق باغیانہ جذبات پنپ رہے ہیں۔سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے آپس میں بھی معاملات کشیدہ تر ہو رہے ہیں۔ نواز شریف کے متعلق سپریم کورٹ کے ’’منتخب احتساب‘‘ اور اس کے بعد دوسرے کرپٹ لوگوں کے متعلق مکمل خاموشی کی وجہ سے با شعور عوام کے جذبات بر انگیختہ ہیں۔

عوامی حلقوں کا یہ سوال بالکل بجا ہے کہ صرف میاں نواز شریف کے خلاف احتساب کیوں؟ کیا میاں نواز شریف کے احتساب اور نا اہلی سے پورے مُلک سے کرپشن کا خاتمہ ہو چکا ہے؟اگر نہیں اور یقیناًنہیں،تو پھر میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد سپریم کورٹ اور احتساب کا نعرہ لگانے والی جماعتوں میں مزید لوگوں کے احتساب بارے اس قدر سناٹا کیوں ہے؟ تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور دیگر سیاسی جماعتوں میں موجود کرپٹ لوگوں کے خلاف سپریم کورٹ اور دیگر ذمہ دار اداروں کی خاموشی چہ معنی دارد؟ انصاف کا بنیادی تقاضا ہے کہ سب کو یکساں معیار کا انصاف فراہم کیا جائے،یعنی اگر شریف خاندان کے کچھ افراد کا نام پاناما لیکس میں آیا تھا اور اس بنیاد پر اس پورے خاندان کا ٹرائل کیا گیا ہے ، تو یہ بھی انصاف کا اولین تقاضا تھا کہ پاناما لیکس میں شامل تمام 400 کے قریب پاکستانیوں کے خلاف بھی فوری اور بلاتفریق احتساب کا عمل شروع کروایا جاتا۔

برسر اقتدار خاندان کے خلاف نہ صرف یک طرفہ احتساب کا عمل شروع کیا گیا،بلکہ ان کے خلاف احتساب کے لئے جو جے آئی ٹی تشکیل دی گئی وہ آغاز سے اختتام تک تنازعات کا شکار رہی ۔

شریف خاندان کی طرف سے اگر جے آئی ٹی کے دو افراد پر جانبداری کا الزام تھا تو ان دو افراد کو تبدیل کر کے جے آئی ٹی کو متنازعہ ہونے سے بچایا جا سکتا تھا،لیکن ایسا نہیں ہوا اور وٹس ایپ کال کے ذریعے منتخب ہونے والے وہی متنازعہ افراد آخر تک اس تفتیش کا حصہ بنے رہے،جنہوں نے آگے چل کر منتخب احتساب کی راہ ہموار کی، جس طرح ان دو افراد کی موجودگی کو یقینی بنایا گیا،اس سے یہ بات اظہر من الشمس محسوس ہوتی ہے کہ ان دو افراد کو کسی بڑی قوت کی پشت پناہی حاصل تھی۔

اس منتخب احتساب کے علاوہ ایک دوسری چیز جو ریکارڈ کا حصہ ہے کہ دو تہائی اکثریت کے حامل وزیراعظم پاکستان اور ان کے خاندان کے خلاف احتساب کا پورا عمل بہت فاسٹ ٹریک پر چلایا گیا،لیکن دوسری جانب عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف چلنے والے فارن فنڈنگ اور نا اہلی کیس پر پیش رفت نہ سست روی سے ہو رہی ہے ایک ہائی پروفائل کیس پر اس قدر چستی اور دوسرے ہائی پروفائل کیس پر اس قدر سستی یقیناًمعنی خیز ہے۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف چلنے والے کیسوں پر ان کو بار بار رعایت اور مزید وقت کی مہلت کیو ں دی جا رہی ہے؟ انصاف کی فراہمی کا یہ دوہرا معیار عوام میں اضطراب و بے چینی کا سبب بن رہا ہے، جس طرح میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف جے آئی ٹی بنائی گئی، اِسی طرح یہ انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہوتا کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف چلنے والے کیسوں کی تفتیش کے لئے بھی جوائنٹ انوسٹ گیشن ٹیم (JIT) تشکیل دے دی جاتی ۔

انصاف کی مساویانہ فراہمی کے لئے اب بھی سپریم کورٹ عمران خان کے خلاف چلنے والے کیسوں پر جے آئی ٹی تشکیل دے سکتی ہے یا پھر یہ بھی موزوں رہے گا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہی ان کیسوں پر جے آئی ٹی ڈکلیئر کر دیا جائے۔

ایک منتخب وزیراعظم اور اس کے خاندان کے خلاف دو ماہ میں تفتیش کر کے ’’ ناقابلِ فہم‘‘ فیصلہ کر لیا گیا ہے تو عمران خان اور پی ٹی آئی کے خلاف 2014ء سے چلنے والے ان کیسوں پر پیش رفت اِس قدر سست روی کا شکار کیوں ہے؟یہ عوامی حلقوں میں گردش کرنے والا بہت اہم سوال ہے، جس کا جواب سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذمہ ہے۔

اس ضمن میںیہ بات بھی اہم ہے کہ 2014ء کے دھرنے کے دوران ریڈ زون میں ہنگامہ آرائی،پی ٹی وی پر حملے اور ایس ایس پی اسلام آباد کو زخمی کرنے کے مقدمات میں معزز جج شاہ رخ ارجمند نے13جولائی 2017ء کو عمران خان اور طاہر القادری کی مسلسل غیر حاضری پر ان دونوں کی جائیدادیں قرق کرنے کا حکم جاری کیا تھا،لیکن اب تک ان دو افراد کی جائیدادیں قرق کرنے کے سلسلہ میں کوئی نمایاں پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی ہے،جبکہ میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کی جائیداد کو فروخت کرنے پر پابندی کی حوالے سے عدالتی فیصلہ کا نوٹس میاں نواز شریف کے جاتی عمرہ اور ماڈل ٹاؤن میں واقع گھروں پر فوری چسپاں کروا دیا گیا ہے۔

انصاف کا یہ دوہرا معیار کسی سطح پر اور کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کے حوالے سے عدلیہ کو یکساں طور پر، فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔اعلیٰ عدلیہ اور دیگر انتظامی و قانونی ادارے میاں نواز شریف اور ان کے خاندان تک اپنی توجہ محدود رکھنے کی بجائے اب دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف بھی نظر التفات فرمائیں۔

مزید :

کالم -