بھارت کی آبی جارحیت: ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ سے مددلیں

بھارت کی آبی جارحیت: ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ سے مددلیں

  

ازلی دشمن بھارت تمام تر کوششوں کے باوجود ہمارے ساتھ آبی جارحیت سے باز نہیں آ رہا ہے۔دریائے چناب پر غیر قانونی طور پر بنائے گئے بگلیہار ڈیم کے ذریعے پاکستان کو مسلسل پانی سے محروم کر رکھا ہے۔سندھ طاس معاہدے میں یہ طے ہوا تھا کہ دریائے چناب کے پانی کو پاکستان کی مرضی کے مطابق استعمال کیا جائے گا۔مقبوضہ کشمیر سے نکلنے والے دریائے چناب کے پانی سے بھارت کم از کم 55ہزار کیوسک پانی روزانہ پاکستان کو مہیا کرنے کا پابند ہو گا۔سندھ طاس معاہدے کی بیشتر اہم شرائط کی خلاف ورزی بھارت نصف صدی سے کرتا چلا آ رہا ہے۔90ء کی دہائی میں بھارتی حکمرانوں نے چوری چھُپے بگلیہار ڈیم کی تعمیر شروع کر دی تھی۔پاکستان کے اعتراض پر بھارت نے ورلڈ بینک کے ذریعے اِس مسئلے پر میٹنگز کا سلسلہ شروع کیا اور مختلف حوالوں سے دریائے چناب کا پانی پاکستان کو معاہدے کے مطابق مہیا کرتے رہنے کی یقین دہانی کروائی گئی۔تاہم بھارت اپنی مکاری سے باز نہ آیا اور بگلیہار ڈیم کے ذریعے پانی کے بہاؤ میں کمی کی جاتی رہی۔اِس وقت پاکستان کو55ہزار کیوسک کی بجائے صرف18ہزار کیوسک پانی روزانہ بھیجا جا رہا ہے۔بھارت کی آبی جارحیت کے نتیجے میں پاکستان کی مرالہ راوی لنک کینال بند پڑی ہے اور لاکھوں کاشتکاروں کو فصلیں کاشت کرنے اور پینے کے لئے بھی پانی نہیں مل رہا ہے۔کسان اور زمیندار مجبوراً ٹیوب ویلوں کے ذریعے پانی حاصل کر رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ بھارت نے نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ مختلف حکمران حیلوں بہانوں سے ہمارے پانی میں کمی کر کے پاکستان کی زراعت کو نقصان پہنچاتے رہے۔ نریندر مودی نے تو بار بار پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کی دھمکیاں دی ہیں اور اِس سلسلے میں متعلقہ حکام سے میٹنگز کر کے اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کا جائزہ بھی لے چکے ہیں۔ مودی سرکار کی آبی جارحیت کے خلاف پاکستان کو ورلڈ بینک سے مجبوراً رابطہ کرنا پڑتا ہے،کیونکہ ورلڈ بینک سندھ طاس معاہدے کا ضامن ہے، افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ ورلڈ بینک بھی بھارت کو آبی جارحیت سے باز رکھنے کے لئے ابھی تک کچھ نہیں کر پایا۔

مزید :

اداریہ -