نوابزادہ نصراللہ ہوتے تو؟آج کے حالات!

نوابزادہ نصراللہ ہوتے تو؟آج کے حالات!
 نوابزادہ نصراللہ ہوتے تو؟آج کے حالات!

  

ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا اور یہ غیر حاضری کافی طویل تھی، اس حوالے سے صرف یہ عرض ہے کہ یہ عرصہ غفلت کا تو نہیں البتہ درگزر کا رہا اور ارادتاً ملک کے حالات خصوصاً سیاسی واقعات سے لاتعلقی اختیار کئے رکھی۔

ٹیلیویژن دیکھنے کی فرصت تھی نہ اخبارات حاصل تھے پھر ہم نے انٹرنیٹ کا فائدہ بھی نہیں اٹھایا اور ای، پیپرز سے مستفید نہیں ہوا، اس پورے عرصے میں مکہ شریف کے حرم اور مسجد نبوی کی سعادتوں سے بہرہ مند ہونے پر ہی اکتفا کیا، یوں یہ عرصہ اس کوشش اور خواہش میں گزرا کہ اللہ تعالیٰ معافی کی درخواست قبول فرمائیں اور اپنے پیارے حبیبؐ کے صدقے گناہ معاف کردیں، یہ عرصہ حج کی سعادت میں صرف ہوا ہے جو اچانک نصیب ہوئی اور اس میں عزیزم شہزاد بٹ کا بہت بڑا حصہ ہے( یہ روائداد قسط وار لکھنے کا ارادہ ہے) بہر حال عرض یہ مقصود ہے کہ یہ تین ہفتوں سے زیادہ روز فریضہ حج کی ادائیگی میں گزرگئے اور میں ملکی معاملات اور حالات سے بہت حد تک غیر متعلق ہی رہا، اب واپسی ہوئی تو حالات سامنے ہیں، جن سے اندازہ ہوا کہ یہاں تو وہی چال بے ڈھنگی ہے جو پہلے ہی تھی، کوئی فرق نہیں پڑا، بلکہ میری حسرت و خواہش کے برعکس قومی مفاہمت تو درکنار یہاں سیاسی محاذ آرائی بڑھتی چلی جارہی ہے حتیٰ کہ اب تو حزب اختلاف کی صفوں میں بھی انتشار نے بڑھ کر محاذ آرائی اختیار کرلی، حزب اختلاف متحد تو کیا ہوتی، یہاں بھی کرسی کھینچنے کا عمل شروع ہوگیا اور پاکستان تحریک انصاف والے حکومت کو چلتا کرتے کرتے اب قائد حزب اختلاف کی چھٹی کرانے کے درپے ہیں، یوں محاذ آرائی چاروں طرف ہے جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے اندرونی استحکام پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو ادائیگیوں کے نظام کو متوازن بنانے کی ضرورت ہے، یہ شاید اس لئے کہ ملک پر قرضوں کا بوجھ بہت بڑھ گیا ہے۔

حالات کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے ہی معلوم ہوگیا کہ بزرگ سیاسی رہنما بابائے اتحاد نوازبزادہ نصراللہ کی چودھویں برسی آگئی ہے، یہ گزشتہ روز( منگل) تھی اس معروف و مشہور اور تواناسیاسی شخصیت کی یہ برسی بھی ویسے ہی گزر گئی ہے جیسے سابقہ برسوں میں ہوتا رہا ہے، نوابزادہ نصراللہ مرحوم کی اولاد میں اختلافات تو اپنی جگہ، لیکن ان کے صاحبزادوں میں سے کسی ایک نے بھی جانشینی کے فرائض انجام نہیں دیئے۔ صاحبزادے منصور خان سے توقع کی جاتی تھی لیکن وہ تو ابتدائی طور پر کچھ کس بل دکھانے کے بعد ہی سانس پھلا بیٹھے اور پارٹی کو تحریک انصاف میں ضم کر کے خان گڑھ بھاگ گئے، جب کوئی سرپرست نہ رہا تو ماننے والے کیا کرتے، نواز گوندل اور ساتھی بھی خاموش ہوگئے چنانچہ اب صورت حال یہ ہوئی کہ نوابزادہ نصراللہ کو صحافی حضرات نے ہی یاد کیا اور چند حضرات نے اپنے اپنے حوالے سے ان کو خراج عقیدت پیش کردیا، جبکہ ان کی برسی کا اجتماع خان گڑھ (مظفر گڑھ) میں ہوا، خبر تو نظر سے نہیں گزری، تاہم یقین ہے کہ ایک ہی قصبے میں دو مختلف اجتماعات ہوئے ہوں گے اور دو بھائیوں نے الگ الگ محفل جمانے کی کوشش کی ہو گی، اس اختلاف یا نااتفاقی کا نتیجہ جو ہو سکتا ہے یقیناًوہی مرتب ہوا ہو گا۔

بہر حال یہ تو احوال واقعی ہے، بات تو آج کے حالات اور نوابزادہ نصراللہ خان کی تھی، یقین جانئے جب سے وہ دنیا سے رخصت ہوئے یہاں اتحاد کی سیاست ختم اور مفاد پرستی نے اپنا اثر قائم کرلیا ہے، صورت حال یہ ہے کہ وقت کے تقاضے اور ذاتی یا جماعتی مفادات ہماری سیاسی جماعتوں اور قیادتوں کو رنگ بدلنے پر مجبور کردیتے ہیں، چند روز قبل جب سابق وزیراعظم محمد نواز شریف برسر اقتدار (وزیراعظم) تھے تو یہی حزب اختلاف والے (پیپلز پارٹی+ تحریک انصاف+ایم۔ کیو۔ ایم اور دیگر) اجلاس منعقد کر کے متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے کا اعلان کرتے تھے اور پھر چشم فلک نے دیکھا کہ جب محمد نواز شریف کی جگہ شاہد خاقان عباسی کے بطور وزیر اعظم انتخاب کی باری آئی تو ایم۔ کیو۔ ایم ٹوٹ کر ان کے ساتھ جا ملی اور اب اسے شکائت ہے کہ پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ ’’ فرینڈلی‘‘ اپوزیشن کررہے ہیں، لہٰذا ان کو قائد حزب اختلاف نہیں ہونا چاہئے اور ان کی جگہ تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی بہترین انتخاب ہیں( شاید اس لئے کہ گھاٹ، گھاٹ کا پانی پئے ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومت میں وزیر خزانہ اور پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت میں وزیر خارجہ تھے) بہرحال ان دونوں جماعتوں نے طے تو کر لیانئے قائد حزب اختلاف کا مرحلہ درپیش ہوگا، اس کے لئے طریق کار متعین ہے، وقت تو لگے گا، انہی حالات میں نوابزادہ نصراللہ یاد آئے کہ آگ اور پانی کو اکٹھا کر دیتے تھے، اس کی کئی مثالیں ہیں، اس پر اکتفا کرتے ہیں کہ انہوں نے ضیاء الحق کے خلاف پیپلز پارٹی اور تحریک استقلال (ایرمارشل اصغر خان والی) کو ایک پلیٹ فارم پر لاکھڑا کیا تو پھر حضرت علامہ طاہر القادری اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی ساتھ ساتھ بٹھا دیا حالانکہ ہر دو ادوار میں یہ ناممکن عمل تھا۔

اس کے بعد یہ نوابزادہ نصراللہ ہی ہیں جنہوں نے لندن جا کر میثاق جمہوریت مرتب کرکے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سے دستخط کرائے اور ماضی کی تلخیوں کو بھلا دینے کا اعلان کرایا، یہی وہ حالات اور واقعات ہیں جو مرحوم کی شخصیت سامنے آرہی ہے کہ آج تو اس سے زیادہ وسیع تر اتحاد کی ضرورت ہے اور اگر نوابزادہ نصراللہ خان ہوتے تو یقیناً ان کا کردار بہت اہم ہوتا، دعا ہے کہ اب بھی ہمارے سیاسی قائدین کو احساس ہو جائے اور قومی مسائل پر حقیقی قومی مفاہمت ہو جائے (لکھنے کے لئے بہت کچھ ہے کالم کی تنگی دامن گیر ہے، باقی پھر) نوابزادہ سے ہماری یاداللہ تھی اور ہم مستفید بھی ہوئے، پہلے بھی لکھا پھر موقع ہوا تو یقیناً پھر کچھ یادیں تازہ کریں گے۔

مزید :

کالم -