اب تو مارنے کے لئے گندے ٹماٹر بھی دستیاب نہیں!

اب تو مارنے کے لئے گندے ٹماٹر بھی دستیاب نہیں!
 اب تو مارنے کے لئے گندے ٹماٹر بھی دستیاب نہیں!

  

ایک زمانے میں ناپسندیدہ شخصیات کو گندے ٹماٹر مارنے کا بہت رواج ہوتا تھا۔جس طرح سڑکوں پر جلانے کے لئے پرانے ٹائر سستے مل جاتے ہیں، اسی طرح گندے ٹماٹر بھی مل جاتے تھے اور بوقت ضرورت اُن کا بے دریغ استعمال ہوتا تھا۔ گندے ٹماٹر ہی اس مقصد کے لئے کیوں استعمال ہوتے تھے، گندے پیاز یا گاجر، مولی کیوں نہیں؟ ایک سیانے نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ گندے ٹماٹر ایک تو بدبو دار ہوتے ہیں، دوسرے گلے سڑے ہوتے ہیں، اس لئے جس کو لگتے ہیں، اس کا حلیہ بگاڑ دیتے ہیں، چہرے پر لگیں تو چہرہ لال و لال اور کپڑوں پر لگیں تو اُن کا بُرا حال، گندے ٹماٹروں کا ایک ساتھی گندہ انڈہ بھی ہوتا ہے۔

گندے انڈے اور گندے ٹماٹر مل کرکسی بھی مقرر یا لیڈر کا حلیہ خراب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، مگر آج کل ٹماٹر اچھے ہوں یا گندے، عوام کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں۔ ہر طرف ٹماٹروں کے مہنگا ہونے کی دہائی مچی ہوئی ہے، لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ شاید ارباب اختیار اس پر اطمینان کا اظہار کررہے ہیں کہ ٹماٹر مہنگے ہوگئے اور اب انہیں کوئی خطرہ نہیں رہا کہ بھرے مجمع میں اُن پر کوئی ٹماٹر بھی پھینک سکتا ہے، تاہم گھروں میں خواتین نے اب اپنے بدمزہ کھانوں کا ایک جواز ڈھونڈ لیا ہے کہ ٹماٹر نہ ہوں تو اچھا کھانا کیسے پک سکتا ہے جیسے اُن کا کھانا ٹماٹروں کی نایابی سے پہلے بہت ذائقے دار ہوتا تھا، حالانکہ پہلے بھی گھر کا کھانا شوہروں کے لئے زہرمارکرنے کے مترادف تھا اور وہ کچھ غصہ بھی نکال لیتے تھے، اب تو ٹماٹرنے اُن کی زبان بندی کردی ہے۔

ملک میں سیاست کا اس قدر شور شرابہ ہے کہ اس میں ٹماٹر کا ایشو دب کر رہ گیا ہے، حالانکہ صورت حال یہ ہے کہ گھروں میں عورتیں یہ کم پوچھتی ہیں کہ نواز شریف نیب میں پیش ہوئے تو کیا ہوا یا وزیر خزانہ اب جبکہ باقاعدہ نیب کے ملزم بن گئے ہیں تو کیا اپنی وزارت سے استعفیٰ دیں گے؟ اُن کی زیادہ تر توجہ اس شاپرپر ہوتی ہے جو شوہر خریداری کے بعد گھر لے کر آتے ہیں۔

اُس میں سب سے پہلے آج کل ٹماٹر تلاش کیا جاتا ہے اور نہ پاکر شاپر کو ایسے پٹکتی ہیں، جیسے اس میں سے سانپ نکل آیا ہو۔ یہ پاکستان بھی عجیب ملک ہے، یہاں بیٹھے بٹھائے بنیادی ضرورت کی کوئی چیز نایاب ہو جاتی ہے اور پھر اتنے مہنگے داموں فروخت ہوتی ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ مثلاً یہی ٹماٹر دس روپے کلو تک دستیاب ہوتا ہے، لیکن آج کل 3سو روپے کلو تک ریٹ پہنچ گیا ہے۔ کسی نے اس ملک میں راتوں رات کروڑپتی بننا ہو تو کوئی جنس بڑی مقدار میں خرید کر سٹور کرلے، پھر جب مارکیٹ میں ہاہا کار مچے تو تھوڑا تھوڑا کرکے، نکالے اور اس کے کئی سوگنا نرخ وصول کرے۔

کوئی پوچھنے والا نہیں، اس لئے کسی گرفت میں آنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اب یہی دیکھئے کہ ٹماٹر کی دہائی ہر جانب سے سنائی دے رہی ہے۔ وزیراعلیٰ جب لندن میں تھے تب بھی انہوں نے حکم دیا تھا کہ اس مہنگائی کو ڈپٹی کمشنر روکیں۔ ڈپٹی کمشنروں نے بھی گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے لئے اخباری بیانات جاری کئے کہ ذخیرہ اندوز باز آجائیں، مصنوعی مہنگائی کی اجازت نہیں دی جائے گی، مگر ہوا کیا، جس دن وزیر اعلیٰ شہاز شریف نے مہنگائی پر قابو پانے کا حکم دیا۔ ٹماٹر ڈیڑھ سو روپے کلو دستیاب تھا، اس بیان کے بعد اگلے دن دوسو روپے کلو ہوگیا، ڈپٹی کمشنروں نے بیان بازی کی تو ریٹ اڑھائی سو روپے اور اب کئی شہروں میں تین سو روپے کلو فروخت ہونے کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر لوگوں نے کوشش کی کہ ٹماٹر کے بائیکاٹ کی مہم چلائیں، مگر یہ اس لئے کامیاب نہیں ہوسکی کہ ٹماٹر کے بغیر ہنڈیا کا ذائقہ ایسے ہو جاتا ہے، جیسے کرپشن کے بغیر سیاست، بے ذائقہ، بے فائدہ، اس لئے لوگوں نے کہا بے شک گھی تھوڑا ڈال لو، لیکن ٹماٹر ضرور ڈالو۔ اب آپ خود سوچیں کہ اتنے دنوں میں ٹماٹر تین سو گنا مہنگے کرکے کتنے ارب روپے کمالئے گئے ہوں گے، ہم کرپشن کا رونا روتے ہیں، ایسی کرپشن تو پاناما لیکس والوں کا باپ بھی نہیں پکڑ سکتا۔

ہماری حکومتیں بھی کمال کرتی ہیں، ایسے انتظامات کرتی ہیں۔ جو بجائے خود کرپشن کے فروغ کا ذریعہ بن جاتے ہیں، پنجاب حکومت نے بھی صارفین اور کاشتکاروں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے مارکیٹ کمیٹیاں بنائی ہوئی ہیں، ہر مارکیٹ کمیٹی کا سربراہ حکمران جماعت کے کسی جیالے یا متوالے کو بنایا گیا ہے، اس کے سامنے ضلع کا ڈی سی بھی بے بس ہے اور پولیس بھی۔ وہ آڑھتیوں کی ملی بھگت سے سبزیوں اور پھلوں کے ریٹ مقرر کرتا ہے اور اپنے پیسے کھرے کرلیتا ہے، پھر ضلع کی پرائس کنٹرول کمیٹیاں ہیں جو فرضی نرخ نامہ جاری کرتی ہیں اور اس کے کارندے وہ دو روپے کی فوٹو اسٹیٹ 50روپے میں شہر بھر کے دکانداروں اور خوانچہ فروشوں کو فروخت کرکے روزانہ ہزاروں روپے اکٹھے کرلیتے ہیں، اس کے سوا اس نرخ نامے کا کوئی اور مصرف نہیں ہوتا۔

کوئی چیک کرتا ہے اور نہ پکڑ دھکڑ ہوتی ہے، کیونکہ اس نرخ نامے میں ایسے راستے رکھ دیئے جاتے ہیں کہ کوئی پکڑا بھی نہیں جاسکتا، مثلاً سیب کے تین ریٹ مقرر کردیئے جاتے ہیں، عام سیب سو روپے کلو، درمیانہ سیب 150روپے کلو اور اچھا سیب 250روپے کلو، لیکن اس عام، درمیانے اور اچھے سیب کو جانچنے کا پیمانہ کیا ہے، یہ کسی کو معلوم نہیں ہوتا، سو دکاندار جس طرح چاہے انہیں بیچ سکتا ہے۔

کسی نے غلط نہیں کہا کہ پاکستان گراں فروشوں کی جنت ہے۔ اس کی ایک وجہ تو قانون کا غیر موثر ہونا ہے، دوسری وجہ کرپشن ہے اور تیسری وجہ صارف کونسلوں کا نہ ہونا ہے، پاکستان میں صارفین کی کوئی اجتماعی آواز نہیں، جبکہ باقی استحصال کرنے والے ہر طبقے نے اپنی اجتماعی طاقت کو منوا رکھا ہے۔مثلاً انتظامیہ اگر آڑھتیوں کے خلاف کارروائی کرے تو وہ ابھی منڈیوں کو بند کر کے ہڑتال کر دیں گے۔

صارفین اگر سڑکوں پر آکر مہنگائی کے خلاف احتجاج کریں تو پولیس ان پر دھاوا بول دے گی۔ رہی سیاسی جماعتیں تو وہ مہنگائی کو کوئی مسئلہ ہی نہیں سمجھتیں، کیونکہ ہمارے عوامی نمائندے اتنے خوشحال ہیں کہ انہیں ایسے مسائل کی خبر ہی نہیں ہوتی۔۔۔ مثلاً اب ٹماٹر کے مسئلے کو ہی لیجئے، کتنی بار اسمبلیوں میں اس کا ذکر ہوا ہے یا بڑے سیاسی رہنماؤں نے اپنی پریس کانفرنسوں میں اس کا ذکر کیا ہے۔ البتہ اگر کسی جگہ پر سیاسی رہنما کو گندے ٹماٹر پڑ گئے ہوتے تو اسمبلی میں تحریک استحقاق بھی پیش ہو چکی ہوتی اور پریس کانفرنسیں بھی کی جاتیں ٹماٹر کی کمیابی کو ایک استعارہ سمجھ لیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے نمائندے عوام کے مسائل سے بالکل لا تعلق ہیں، حکمرانوں کو اس کی پروا ہے اور نہ اپوزیشن کو، سب کرپشن اور احتساب کی ایسی کہانیوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ جن کا عوام سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ وہ کرپشن اور لوٹ مار جو براہ راست عوام سے کی جارہی ہے، وہ کسی شمارو قطار میں نہیں آتی، حالانکہ عوام کا اصل دکھ یہی ہے۔

اتنے دن ہوگئے، کسی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی کو یہ ٹاسک نہیں دیا گیا کہ وہ پتہ کرے اس وقت مارکیٹ میں جو ٹماٹر سپلائی کیا جارہا ہے، وہ کہاں سے آرہا ہے؟ آخر ذخیرہ اندوزوں کے اُن گوداموں تک کیوں نہیں پہنچا گیا، جہاں سے وہ تھوڑا تھوڑا کرکے مارکیٹ میں لارہے ہیں، تاکہ قیمت کو کئی سو گنا زیادہ رکھا جاسکے، یہ دن دیہاڑے عوام کے ساتھ کوئی پہلی ڈکیتی نہیں، کبھی چینی، کبھی مرغی، کبھی پیاز اور کبھی گھی اورمرج مسالے تک کو اچانک عوام کی پہنچ سے دور کرکے اس کی بلیک میں فروخت شروع کردی جاتی ہے اور کوئی پوچھتا تک نہیں۔ ملک میں قانون کی عملداری کا اوپر کی سطح پر ڈھنڈورا پیٹنے والے کبھی نیچے بھی دیکھیں کہ یہاں قانون کی کہاں کہاں دھجیاں اُڑا کر مختلف شعبوں کے مافیاز کس طرح عوام کو لوٹ رہے ہیں؟

مزید :

کالم -