تری آواز مکے اور مدینے!

تری آواز مکے اور مدینے!
 تری آواز مکے اور مدینے!

  

ہمارے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے پیشرو جنرل راحیل شریف کو بھی ضربِ عضب کی تکمیل کے دوران بارہا شہیدوں کے جنازوں کو کاندھا دینا پڑا،ان کے لواحقین کی ڈھارس بندھانی پڑی اور شہیدوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے لحد میں اترتے دیکھنا پڑا۔

یہ منظر بڑا دلگداز ہوتا ہے۔انسان گوشت پوست کا بنا ہوتا ہے،اس کے احساسات و جذبات ہوتے ہیں اور پھر جس اونچے مقام پر وہ فائز ہوتا ہے اس کی ذمہ داریاں بھی اونچی ہوتی ہیں۔یکے بعد دیگر پاکستان آرمی کے دو سپہ سالاروں کو اس امتحان سے گزرنا پڑا۔

اگر کہیں دو ممالک میں باقاعدہ جنگ ہو رہی ہو تو بات اور ہوتی ہے۔جنگوں میں طرفین کی جانوں کا اتلاف ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے

۔نہ جانے کتنی صدیوں سے دُنیا جنگوں میں موت و حیات کے اس انسانی کھیل کی تماشائی رہی ہے۔اگر کسی جنگ میں آپ کا ملک غیر جانبدار بھی ہو تو بھی بالواسطہ اموات سے واسطہ پڑتا ہے۔میں کس کس جنگ کا نام لوں؟ دنیا کی تاریخ ہائے جنگ مرگ و زیست کی داستانوں سے بھری پڑی ہیں۔ لیکن پاکستان تو کسی دوسرے ملک کے ساتھ کسی بھی معروف مفہوم میں جنگ نہیں لڑ رہا۔۔۔۔ ہاں دہشت گردی ایک ایسا آزار ہے جس پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے اور نجانے مستقبل میں کب تک لکھا جاتا رہے گا۔ یہ ایک ایسی نادیدہ جنگ ہے جس کا پروفیشنل نام ہنوز دنیا کی کسی ملٹری ڈکشنری نے وضع نہیں کیا۔

البتہ ایک عسکری اصطلاح ’کم شدت کے تنازعوں‘ کے نام سے ملتی ہے جس کو انگریزی میں (Low Intensity conflicts) اور مختصر کر کے (LIC) کہا جاتا ہے۔ایک اور اصطلاح اٹریشن (Attrition) کہلاتی ہے جس کا ہنوز اُردو میں کوئی ترجمہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی دُنیا کی گزشتہ جنگوں میں اس کی کوئی عملی شکل و صورت نظر آتی تھی۔اٹریشن کا مفہوم یہ ہے کہ دشمن کو بڑے تسلسل سے مہلک وار کر کے اُس کے ایک ایک دو دو جوانوں یا افسروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔ سال بھر کے365 دِنوں میں اگر ہر دوسرے تیسرے روز یہ ایکشن لیا جائے تو سال کے اختتام پر دشمن فوج کے دو اڑھائی سو افراد کم ہو جائیں گے اور اگر یہ جنگ جو بظاہر معروف لغوی معنوں میں جنگ نہیں ہو گی اگر پانچ برس تک لڑی جاتی رہے تو ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے بڑھ جائے گی۔تب دشمن کو محسوس ہو گا کہ واقعی اس کا جانی نقصان ہو رہا ہے۔

آپ نے یہ فقرہ بھی میڈیا پر عام سنا اور پڑھا ہو گا کہ پاکستان حالتِ جنگ میں ہے۔ اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ اگرچہ اصطلاحی معنوں میں جنگ نہیں ہو رہی لیکن پاکستانی افواج کا جانی نقصان ہو رہا ہے۔

افغانستان میں امریکی اور ناٹو افواج کو2014ء میں وہاں سے اس لئے نکلنا پڑا تھا کیونکہ2002ء سے لے کر 2014ء تک اس کے ہزاروں فوجی مارے گئے تھے اور لاکھوں زخمی ہو گئے تھے جن میں ایسے اپاہج بھی تھے جنہوں نے واپس امریکہ جا کر موت کو زندگی پر ترجیح دی تھی اور خود کشی کر لی تھی۔آج بھی امریکہ میں سابق معذور فوجیوں کی خود کشی کا گراف بتدریج اوپر جا رہا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر خود کشیاں ہو رہی ہیں۔میں نے پچھلے دِنوں اِسی موضوع پر ایک الگ کالم سپردِ قلم کیا تھا جس میں اعداد و شمار اور جزوی تفصیلات وغیرہ بھی دی تھیں۔

پاکستان میں بھی گزشتہ15برسوں سے یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ہمارے دشمن جس طرح پاک فوج پر ’’اٹریشن‘‘ وارد کر رہے ہیں، وہ اسی قسم کی اٹریشن ہے جیسی مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کے ہاتھوں انڈین آرمی کو اٹھانی پڑی ہے۔

اب انڈیا اور امریکہ مل کر براستہ دہشت گردی و طالبان گردی، پاک فوج پر اسی طرح کی جوابی اٹریشن وارد کر رہے ہیں۔۔۔۔لیفٹیننٹ ارسلان عالم شہید کی شہادت بھی اسی گیم پلان کا حصہ ہے!اٹریشن کی منزلِ مقصود باقاعدہ جنگ کی عدم موجودگی میں باقاعدہ جنگ جیسے نتائج کا حصول ہے۔

پاک فوج نے راہِ نجات، ضربِ عضب اور ردّالفساد جیسے آپریشنوں میں اپنا بھی جانی نقصان کروایا ہے لیکن نادیدہ اور غیر روایتی دشمن کو بھی خطہ ہائے جنگ(سوات، دیر، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، وادئ راجگال وغیرہ) سے نکال باہر کیا ہے۔یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔

دشمنوں نے پاکستان کو ایک ناکام ریاست بنانے اور اس کی مسلح افواج کی ہمت توڑنے کا جو ارادہ کیا ہوا تھا وہ اب آخری سانسیں لے رہا ہے۔شہید لیفٹیننٹ ارسلان عالم بھی دشمنوں کے بجھتے ہوئے چراغ کی اسی آخری لو کا شکار ہوئے۔

جب مری میں شہید کو لحد میں اتارا جا رہا تھا تو میں اس منظر کو ٹی وی پر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ آپ نے بھی دیکھا ہو گا۔۔۔میری نگاہ شہید ارسلان کے والدِ محترم کے چہرے پر جا کر اٹک گئی تھی۔ وہ آنسو نہیں بہا رہے تھے لیکن ان کے نقوشِ رخ کا ایک ایک کونہ ان کے اندر کے کرب کا غماز تھا۔ان کی ویران آنکھوں میں محرومی اور بے بسی کا ایک عجیب تاثر تھا جس کو دیکھ دیکھ کر میرا کلیجہ منہ کو آ رہا تھا۔ایک اکلوتے بیٹے کی نعش کو لحد میں اتارتے ہوئے باپ کی جو حالت ہوتی ہے اس کی ترجمانی لفظوں میں نہیں کی جا سکتی اور شہید ارسلان اس اٹریشن کا آخری نشانہ نہیں تھے۔ان سے پہلے بھی بہت سے ماؤں کے لال اور باپوں کی امیدوں کے مراکز،شہید ہو کر واصلِ فردوس ہو چکے ہیں اور آئندہ کا علم صرف خدائے بزرگ و برتر کی ذات کو ہے۔ارسلان عالم کو ماتھے پر گولی لگی تھی۔ قارئین نے تفصیل تو پڑھ لی ہو گی۔ میرے ایک باخبر صحافی دوست نے شہید کے بارے میں بات کرتے ہوئے پوچھا کہ یہ دشمن کی طرف سے Sniping کیا ہوتی ہے۔

میں نے ان کو بتایا کہ پاک آرمی نے وادئ راجگال کو شرپسندوں اور دہشت گردوں سے خالی کروا کر پاک افغان سرحد پر فارورڈ پوسٹیں قائم کر لی ہیں۔جس پوسٹ پر لیفٹیننٹ ارسلان شہید ہوئے وہ بھی انہی فارورڈ پوسٹوں میں سے ایک تھی۔یہ علاقہ چونکہ ماض�ئ قریب تک ایک طویل عرصے سے دہشت گردوں کا گڑھ رہا ہے اور پاک آرمی نے ان کے اس آخری گڑھ کو جانوں کا نذرانہ پیش کر کے خالی کروا لیا ہے اور پاک افغان بارڈر پر ان پوسٹوں کا ایک سلسلہ قائم کر کے سرحد پار سے پاکستان میں دشمنوں کے تداخل (Penetration) کو روک دیا ہے اس لئے اس کا سارا زور اب اس پر ہے کہ وہ اپنے سابق اور آخری گڑھ کی ’’یاد‘‘ میں خود بھی روئیں اور دوسروں کو بھی رلانے کا بندوبست کریں۔ ارسلان کی شہادت بھی اسی رونے رلانے کا ایک حصہ سمجھئے۔

جس فارورڈ پوسٹ پر لیفٹیننٹ ارسلان عالم اپنے تین چار ساتھیوں(سولجرز) کے ساتھ موجود تھے وہ ایک اونچے ٹیلے پر واقع تھی اور اس کے مقابل سرحد کے پار بھی چونکہ اسی قسم کی زمین(ٹیرین) ہے اس لئے دہشت گردوں نے اس پاکستانی پوسٹ کے سامنے ایک اونچی جگہ پر گھات لگائی ہوئی تھی۔ سنائپنگ رائفل اس رائفل کو کہا جاتا ہے جس پر دوربین نصب ہوتی ہے۔

ٹارگٹ کو نشانے (کراس ہیر+) میں لینے کے بعد رائفل کا گھوڑا دبا دیا جاتا ہے اور ٹارگٹ ہٹ ہو جاتا ہے۔ ارسلان بطور پوسٹ کمانڈر وقفے وقفے سے پوسٹ سے سر باہر نکال کر چاروں طرف کے علاقے کی ریکی کر رہے تھے کہ دہشت گردوں کے ماہر نشانہ بازوں(Snipers) کی گولی کا کا شکار ہو گئے۔۔۔۔ جنگ یا حالتِ جنگ میں ارسلان کی یہ شہادت اور ان کے پیشرو شہیدوں کی قربانیاں پاکستانی قوم کو سُکھ چین کی نیند سونے کی سپیس(Space) مہیا کر رہی ہیں۔

اور ہم ہیں کہ پاکستان کے داخلی معاملات و تنازعات میں اس قدر ’’مگن‘‘ ہیں کہ سرحدوں کے محافظوں کی قربانیاں پاکستانی آبادی کی اکثریت کے لئے ثانوی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔۔۔اور یہ قوم کی بقاء کے لئے کوئی نیک شگون نہیں۔

میں اپنے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو سلام پیش کرتا ہوں کہ وہ فوراً شہید کے گھر گئے۔ان کے اہلِ خانہ کو دلاسا دیا۔شہید کی تینوں بہنوں کے سر پر ہاتھ رکھا۔یہ ایکسر سائز آسان نہیں ہوتی۔۔۔ اس سے پہلے بھی جنرل صاحب اپنی فوج کے کئی شہید افسروں اور جوانوں کی شہادتوں پر ان کے اہلِ خانہ کے ہاں جا جا کر یہ فریضہ ادا کر چکے ہیں۔انہوں نے مری سے روانگی سے پہلے جو چار پانچ منٹ کا خطاب کیا وہ دیدنی اور شنیدنی تھا۔

جب وہ یہ کہہ رہے تھے کہ جب پاک فوج کا کوئی فرد (جوان ہو کہ افسر) شہید ہوتا ہے تو میں محسوس کرتا ہوں جیسے میرے جسم کا ایک حصہ، ایک ٹکڑا کٹ کر الگ ہو گیا ہے، تو ان کی آنکھوں میں گہرے تاسف اور عزمِ محکم کے ملے جلے جذبات دیکھے جا سکتے تھے۔ان کے الفاظ تھے: ’’میں شہید ارسلان کے والدین کو سلام پیش کرتا ہوں۔ جب تک ان جیسے والدین موجود ہیں، پاکستان کو کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔۔۔ جب بھی میری فوج کا کوئی جوان، NCo یا افسر شہید ہوتا ہے تو وہ رات میرے لئے بہت مشکل ہو جاتی ہے۔ لیکن جب میں صبح اُٹھتا ہوں تو تازہ دم ہوتا ہوں اور عزم کرتا ہوں کہ میں نے ان بچوں کے خون کا حساب چکانا ہے۔ہم تو اس ملک پر اپنے خوبصورت اور نوجوان بچے قربان کر رہے ہیں لیکن کچھ لوگ جو ایک عرصے سے سمندر پار اور پاکستان سے باہر بیٹھے ہیں، وہ فوج کو گالیاں دیتے ہیں،ملک کو گالیاں دیتے ہیں اور ملک کو توڑنے کی باتیں کرتے ہیں۔میں ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ جب تک ہمارے پاس ایسے بہادر ہیں ملک پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔۔۔۔ میں پاکستان پر قربان ہونے والے تمام فوجیوں، رینجرز، ایف سی اور پولیس والوں کے ورثا اور والدین کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں کہ جنہوں نے ملک میں امن لانے کے لئے اپنے جگر گوشوں کو قربان کر دیا۔میں اپنے ہم وطنوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ملک میں عنقریب امن آئے گا اور جب تک عوام کی قوت ہمارے ساتھ ہے اور ہم سے محبت کرتی ہے پاکستان کو کوئی نقصان نہیں ہو سکتا!‘‘

تری آواز مکے اور مدینے

مزید :

کالم -