ہمارا معاشرہ ذہنی مرض میں مبتلا شخص کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتا ہے

ہمارا معاشرہ ذہنی مرض میں مبتلا شخص کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتا ہے

  

ڈاکٹر محمودہ آفتاب ایک کلینیکل سائیکالوجسٹ ہیں ، وہ ایسے مریضوں کو صحت کی طرف لاتی ہیں جو ذہنی انتشار اور ذہنی تناؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر محمودہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے تجربات اور مشاہدات سے پورا استفادہ کرتی ہیں۔ وہ ذہنی امراض کی تہہ تک پہنچتی ہیں اور بیماری کو جڑ سے اُکھاڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ڈاکٹر محمودہ آفتاب اس بات پر یقین نہیں رکھتیں کہ مریض کو وقتی افاقہ بہم پہنچایا جائے۔ وہ جسمانی عوارض اور جسمانی اُلجھنوں کے مابین تعکق کا کھوج لگاتی ہیں اور مریض کا علاج اس طور کرتی ہیں کہ وہ صحیح معنوں میں صحت یاب ہو اور معاشرے کا ایک مفید فرد بن سکے۔

ڈاکٹر محمودہ آفتاب نے نیو انگلینڈ سکول (امریکہ) سے clinical Hypnosisمیں ڈاکٹریٹ کی،پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے کلینیکل سائیکالوجی میں ایم فل کیا، پنجاب یونیورسٹی سے ایڈوانس ڈپلومہ ان کلینیکل سائیکولوجی کیا، اور پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے ہی Masters in Applied Psychology( اطلاقی نفسیات) کی ڈگری حاصل کی۔

ڈاکٹر محمودہ آفتاب ایک فعال این جی او ’’ آغازِ نو‘‘ کی ایگزیگٹو ڈائریکٹر ہیں ۔آپ مختلف قومی و بین الاقوامی اداروں کی ممبر ہیں جن میں بین الاقوامی ایڈز سوسائٹی (U.S.A)،امریکی نفسیاتی ایسوسی ایشن (اے پی اے)،ایشیا فیڈریشن آف کمیونٹی (ایف ٹی سی) (تاحیات ممبر)،پاکستان ایسوسی ایشن آف کلینیکل ماہر نفسیات (پی اے پی پی) کے نام قابلَ ذکر ہیں۔ اندورں و بیرونِ ملک ان کے تحقیقی مقالے شائع ہوتے رہتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں پر اگر ہمیں کوئی بھی ذہنی طور پر پریشان شخص مل جائے یا اگر کوئی شخص کسی ماہر نفسیات کے پاس محض اس غرض سے جا رہا ہو کہ اسکی پریشانی ختم ہو جائے تو ہم اسے فوری طور پر ’’پاگل‘‘ کا خطاب دے دیتے ہیں۔ ذہنی پریشانیوں کا اگر بر وقت علاج نہ کروایا جائے تو یہ بڑھ کر ہمیں پاگل ضرور بنا سکتی ہیں اسی لئے یہ سوچ کر کہ ’’ لوگ کیا کہیں گے‘‘؟ ہمیں ماہر نفسیات سے مشورہ کرنے سے خود کو روکنا نہیں چاہیے۔انسان کے اندر اس کے ذہن کی صورت میں ایک بہت بڑا جہان آباد ہے۔خیالات،احساسات اورجذبات مختلف واقعات میں انسانی ذات کو ایک ایسا مرقع بناد یتے ہیں کہ اس میں حالات کے مطابق ہر لمحہ بدلتی کیفیات کی جمع تفریق کے لئے کوئی آلہ اگر کسی ہستی کے پاس ہے،تو وہ خدائے بزرگ و برتر کی ذات ہی ہوسکتی ہے۔ انسان کی شخصیت آئس برگ کی مانند ہے،جس کا بہت معمولی سرا باہر دکھائی دیتا ہے۔اسی لئے حکمائے عالم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ’’ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی‘‘۔اس کے لئے دیدۂ دل وا کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ تمام تر پیچیدگی کے باوجود آخر انسان کو انسان کے ساتھ رہنا توہے۔ معاملات بھی کرنے ہیں۔ محبت اور نفرت کے اظہار پر بھی مجبور ہونا ہے۔ سو انسانوں کی یہ بہت بڑی مجبوری ہے کہ وہ ایک دوسرے کو سمجھیں۔ اسی کا نام نفسیات ہے ،مزید نفسیات کیا چیز ہے اورذہنی بیماریاں اور ان کی علامات کیا ہیں اور ان کا تدارک کیسے ممکن ہے اس حوالے سے کنسلٹنٹ کلینکل سائیکولوجسٹ ڈاکٹر محمودہ آفتاب سے تفصیلی ملاقات کا احوال نذر قارئین ہے۔

ڈاکٹر صاحبہ سے ہمارے سوالات وجوابات ملاحظہ ہوں اور بتائیے گا کہ ان کی روشنی میں آپ خود کو ذہنی لحاظ سے کس حد تک صحتمند یا بیمار سمجھ پائے ہیں؟

151151151151151151151151151151151151151151151151151151151151151151151151151151151151151151151۔

سوال: ڈاکٹر صاحبہ، نفسیات ایک بڑا موضوع ہے۔ہم یہاں اکیڈیمک سائیکالوجی کی بات نہیں کریں گے اور اپلائیڈ سائیکالوجی میں بھی وہی باتیں کریں گے، روزمرہ کی زندگی میں ایک عام آدمی سے جن کا تعلق ہے اور اسے سمجھنے سمجھانے میں مدد مل سکے۔ پہلا میرا سوال یہ ہے کہ نفسیات کی کیا تعریف ہے؟

جواب: نفسیات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کسی بھی انسان کے رویے کا مطالعہ کرتی ہے کہ کوئی کس طرح سے بولتا ہے۔ اٹھتا بیٹھتا ہے، بات چیت کرتا ہے۔ اس کے جو جذبات یا اقدامات ہیں،ان سب چیزوں کے مطالعہ کا نام نفسیات ہے۔

س: ڈاکٹر اور ماہرین لوگوں کو مختلف جسمانی امراض کی وجوہات، احتیاط اور علاج سے روشناس کراتے ہیں۔ ذہنی صحت سے متعلق بھی بات کی جاتی ہے لیکن اس کے مختلف انفرادی اور اجتماعی پہلوؤں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ آخر ذہنی صحت ہے کیا؟اور ہمیں اسے موجودہ ماحول کے نامساعد حالات میں کیوں اہمیت دینی چاہئے؟

ج:ذہنی صحت کا مطلب ہے کہ انسان نفسیاتی ، جذباتی اور معاشرتی طور پر اپنے ماحول میں سیٹ ہو۔ ذہنی طور پر صحت مند ہونے سے ہماری سوچ، ہمارے احساسات ، رویّے اور پھر عمل متاثر ہوتا ہے۔ یہ ہمیں روزمرہ کے معاملات کو بغیر کسی ذہنی تناؤ کے حل کرنے کی سوجھ بوجھ دیتی ہے اور ساتھ ہی معاشرتی رہن سہن میں ایک دوسرے کو سمجھنے اور دوسروں کی ضروریات کا احساس ہوتا ہے۔ انسان لوگوں کے ساتھ اچھے اور خوشگوار تعلقات کو فروغ دینے کے لئے چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھتا ہے۔ بہت سی چیزوں کا چناؤ کرتے ہوئے اپنی خواہشات، دوسروں کا احساس اور اپنے تجربے کو مدِ نظر رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ بچے کی پیدائش سے لے کر بچپن، جوانی اور بڑھاپے تک ذہنی صحت کی اہمیت ہے۔ زندگی میں بہت سے اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ ان کو ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر حکمت عملی سے حل کر لیتے ہیں لیکن اگر ہم کسی ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوجائیں تو اس سے ہماری سوچ میں تبدیلی آتی ہے جس سے ہمارے موڈ اور رویّے پر اثر پڑتا ہے اور پھر ہم اچھی بھلی شخصیت کے مالک ہوتے ہوئے بھی ایسے عمل کرنے لگتے ہیں جو بالکل متضاد ہوتے ہیں۔ نارمل اور ذہنی صحت کے مسائل والے افراد میں بس یہی ایک فرق ہے۔ جیسے ایک لکیر ہو اور آپ اسے پار کر جائیں۔

س: ذہنی مسا ئل کی وجوہات کیا ہیں؟

ذہنی مسائل کی وجوہات بھی مختلف ہوتی ہیں جن میں موروثیت کا بھی عمل دخل ہو سکتا ہے۔کچھ ایسے نفسیاتی مسائل ہیں جو خاندان سے جْڑے ہوتے ہیں۔دماغ میں بہت سے ایسے کیمیکل ہیں جن کے کم یا زیادہ ہونے سے بھی ذہنی تندرستی متاثر ہو سکتی ہے۔ روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے حادثات اگر شدید نوعیت کے ہوں جس سے جذبات متاثر ہوں تو بھی انسان نفسیاتی طور پر اس کا اثر لے سکتا ہے۔اگر ہمیں ذہنی صحت و تندرستی کے متعلق شعور ہو تو ہم دوسرے کے احساسات اور رویّے دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کیا مسئلہ ہے اور فوری طور پر بغیر کسی تاخیر کے مدد کر سکتے ہیں اور وہ مسئلہ ابتدا ہی میں حل ہوسکتا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جو شخص پریشان ہے آیا کہ اس کے کھانے پینے اور سونے کے اوقات کار میں زیادہ کمی بیشی تو نہیں ہوئی۔ دوسری بات یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ کیا وہ لوگوں سے خود کو دْور تو نہیں کرنے لگا۔ الگ تھلگ تو نہیں رہنے لگا۔ وہ کام جن میں پہلے بہت دلچسپی لیتا تھا اب ان کو کرنے سے گریز تو نہیں کرنے لگا ہے۔ کیا وہ کمزوری کا مظاہرہ تو نہیں کرنے لگا اور یہ کہہ کر جان چھڑانے لگا ہے کہ دل نہیں چاہ رہایا اْٹھا نہیں جا رہا۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ وہ بے فکری کا مظاہرہ کرے کہ چاہے ارد گرد جو بھی ہوتا رہے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کبھی کبھی ایسے لوگ جسم میں مختلف جگہوں پر درد اور ورم کی شکایت کرتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ والدین اکثر بچوں کے اس خوبصورت ہتھکنڈے سے واقف ہیں جو وہ اپنے کسی امتحان یا کسی اور کام سے بچنے کے لئے پیٹ یا سر درد کا بہانہ بنا لیتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ابتداء میں انسان شدید مایوسی کا اظہار کرے کہ یہ معاملہ حل کرنا مشکل ہے اور اس کے بس کی بات نہیں۔ اسی طرح اگر سگریٹ نوشی بڑھ جائے یا سکون آور ادویات کا استعمال شروع ہوجائے تو یہ بھی ایک وارننگ کی نشانی ہے۔ بہت سے لوگ اْلجھ جاتے ہیں کہ وہ کوئی کام کریں یانہ کریں۔ باتوں کو بھولنے لگتے ہیں ، غصہ کرنے لگتے ہیں۔ پریشان اور خوفزدہ ہونا بھی اس امر کی نشانی ہے۔ گھروں میں عموماً ایسے لوگ زور زور سے چلانے لگتے ہیں اور لڑائی جھگڑا کرتے ہیں۔ باہر دوستوں کے ساتھ بھی ایسا ہی رویہ اپناتے ہیں۔ ان کے موڈ کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے ان کے تعلقات لوگوں کے ساتھ خراب ہوجاتے ہیں۔ وہ کبھی تو بہت اچھی طرح گفتگو کرتے ہیں اور پھر اچانک ہی غصہ کرنے لگتے ہیں۔ ان لوگوں کے ذہن میں کوئی نہ کوئی ایسی بات اس طریقے سے سما جاتی ہے کہ وہ ختم نہیں ہوتی۔ بار بار ایسے خیالات اس کے ذہن میں آتے ہیں جن سے وہ پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ یہ لوگ کبھی کبھی آوازیں سننے لگتے ہیں یا پْر یقین ہوکر ایسی باتیں کرنے لگتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

س: تو کیا ایسے لوگ اپنی ذات کے ساتھ دوسروں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں؟

ج: بالکل ، یہ بہت اہم بات ہے کہ ایسے لوگ خود اپنی ذات یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کا بھی سوچنے لگتے ہیں۔ اپنی روزمرہ زندگی کے کام جو وہ خود پہلے کرتے تھے ان سے جان چھڑانے لگتے ہیں۔ یہ وہ نشانیاں ہیں جن کو ابتدا ہی میں سمجھ لیا جائے تو گھر کے لوگ ، دوست احباب فوری طور پر مدد کر سکتے ہیں اور ایسے شخص کو ذہنی مریض بننے سے بچا سکتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کی یہ بہت بڑی نعمت اور خوبی ہے کہ خاندان مل جل کر رہتے ہیں۔ بچوں اور بڑوں میں اگر کوئی بھی مختلف رویہ نظر آئے تو فوراََ گھر کا کوئی نہ کوئی فرد نوٹ کر لیتا ہے اور اس سے پوچھ لیتا ہے اور اسے تنہا نہیں چھوڑا جاتا۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ لوگ اپنے اپنے گھروں میں الگ رہنا شروع ہو گئے ہیں۔ عزیز رشتے دار وں سے کبھی کبھی ملنا ہوتا ہے۔ ماں باپ اگر کام کرتے ہوں اور بچوں یا نوجوانوں کو اگر توجہ نہ دے سکیں تو یہ مسائل ہو سکتے ہیں۔

سوال: کیا صفات ہیں،جن کی بنا پر کسی کے بارے میں کہا جائے،وہ ذہنی طور پر صحت مند ہے؟

جواب: سادہ سی بات ہے کہ جو شخص اپنے معاشرے میں اچھی طرح سے ایڈجسٹ ہے۔اپنی فیملی میں بھی درست رویے کا حامل ہے،وہ نارمل ہے،جو فرد یہ کہتا ہے کہ میری دفتر میں نہیں بنتی۔اس کا آپ نوٹ کریں گے کہ پورے کیرئیر میں جہاں اس نے نوکری کی ہو گی،وہاں کسی سے بھی نہیں بنی ہو گی۔وہ یہ نہیں سمجھتا کہ مسئلہ میرے ساتھ ہے،بلکہ میرے سے لوگ ٹھیک نہیں ہیں۔ اس میں یہ صلاحیت ہے کہ اس کے اردگرد کے ماحول میں جو اتارچڑھاؤ اور تضاد ہے،اس کے ساتھ مطابقت اختیار کرسکے

سوال: اسی طرح اس کے برعکس وہ کیا خصوصات ہیں،جن کی بنا پر یہ کہا جا سکے کہ یہ بندہ ذہنی اعتبار سے بیمار ہے؟

جواب: (ہنستے ہوئے)یہ تو ایک لمبی لسٹ ہے۔ کہنا بڑا مشکل ہے،لیکن پھر اگر سادہ الفاظ میں کہوں ،تو وہی ہے کہ ایسے شخص کو ایڈجسٹمنٹ کی پرابلم آرہی ہے۔جیسے ایک بچہ سکول میں نہیں ایڈجسٹ ہو رہا۔گھر میں اس کے بہت جھگڑے ہو رہے ہیں۔ اب اس میں بھی کلچر سے کلچر اورمعاشرہ سے معاشرہ فرق پایا جاتاہے ۔اس کی ایک مثال پاکستانی معاشرہ ہے،جس میں اگر آپ کسی بچے کو ڈانٹیں اور وہ آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھے،تو ہم اسے گستاخی پر معمول کرتے ہیں۔ مغرب میں اگر آپ بچے کو ڈانٹیں اور وہ آپ سے آنکھیں چرائے،تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بچہ آپ کی بے عزتی کر رہا ہے۔اب یہاں جو چیز ابنارمل ہے،مغرب میں نارمل ہے۔

س: پاکستان میں خود کشی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں آپ کے نزدیک اس کی کیا وجوہات ہیں؟

ج :پاکستان میں بہت سے لوگ اس بات کا ادراک ہی نہیں رکھتے کہ معمولی سا ذہنی دباؤ بھی کسی نفسیاتی بیماری کی ابتداء ہو سکتا ہے یا پھراپنے مسائل کی وجہ سے وہ مسلسل جس دباؤ کا شکار رہتے ہیں وہ کسی شدید ذہنی مرض کی علامت ہے۔ ایسے میں جب منفی خیالات کا غلبہ ہو ، کسی خوشی کا تصور باقی نہ رہے اورذہن میں مستقبل کے منظرنامے پر صرف ماضی کا ہی عکس ہو تو بہت سے لوگوں کے قدم اپنی زندگی کے خاتمے کی طرف اٹھتے ہیں لہٰذا ہر دوسرے یا تیسرے دن ایسی صورتِ حال سامنے آرہی ہے جہاں اجتماعی بے حسی اور معاشی بدحالی کی وجہ سے انفرادی مایوسی بڑھ رہی ہے اور شدید ذہنی امراض میں مبتلا ہو کر لوگ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

سوال: پاکستان میں آبادی کے تناسب سے ماہرین نفسیات کا کیا تناسب ہے ؟کیا یہ اتنی تعداد میں ہیں کہ عملاّ معاشرے کے لئے کام کر رہے ہوں؟

جواب: نہیں ،بہت کم ہیں ،جبکہ مسائل بہت ہیں۔ جوماہرین نفسیات ہیں،وہ بھی اتنے موثر نہیں ہیں۔ہمارے ہاں لوگ اس وقت آتے ہیں،جب انسان ہوش و حواس کھوبیٹھتا ہے۔جسے پاگل کہتے ہیں۔اس سٹیج سے پہلے کوئی نہیںآتا۔اس نوبت تک پہنچنے سے پہلے آنا اہم ہوتا ہے۔ اسی وقت ہم زیادہ موثر ہوسکتے ہیں۔ ذہنی امراض میں بہت تیزی سے اضافے کے باوجود اس شعبے میں ماہرین کی تعداد خود ایک لمحہ فکریہ اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پاکستانی معاشرہ ایک صحت مند معاشرے کے لیے ماہرِ نفیسات کی اہمیت سے کس حد تک ناواقف ہے۔

ہر سال 10 اکتوبر کو پاکستان میں بھی ذہنی صحت کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور اس کا مقصد ذہنی صحت کی اہمیت اور اس سے جڑے مسائل کے علاج کی سہولتوں کے بارے میں معلومات کو عام کرنا ہے کیوں کہ طبی ماہرین کے مطابق صحت مند ذہن کسی بھی معاشرے کی سماجی، سائنسی اور معاشی ترقی کی ضمانت ہوتا ہے۔پاکستان میں ذہنی امراض ڈاکٹروں کے لیے طویل عرصے سے ایک چیلنج بنے ہوئے ہیں لیکن حالیہ برسوں کے دوران معاشی مسائل میں اضافے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد عدم تحفظ کی عمومی صورت حال سے لوگوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔اس میں صرف دہشت گردی کے واقعات کا عمل دخل نہیں ہے بلکہ عدم تحفظ، غربت، آبادی میں اضافہ اور بنیادی ضروریات کے مسائل سمیت بہت ساری وجوہات ہیں جن کا ذہنی صحت پر بڑا گہرا اثر پڑتا ہے۔ پاکستان میں اندازاً تین کروڑ افراد کسی نا کسی نوعیت کے نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں لیکن ان کے علاج کے لیے صرف 450 ماہرین نفسیات ہیں جب کہ تمام سرکاری اسپتالوں میں ایسے مریضوں کے لیے محض 2200 بستر مختص ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق سال 2020 ء میں دل کی بیماری کے بعد ڈپریشن دنیا میں دوسری بڑی بیماری ہوگی۔اب آپ دیکھ لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ خودکشی کے واقعات میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ ذہنی امراض کا علاج نہیں کراتے یا انھیں آگاہی نہیں لیکن صرف یہی ایک وجہ نہیں۔ان کے بقول ’’ پیسہ ہوگا تو لوگ علاج کرائیں گے اورپھر ہمارے پاس نفسیاتی ماہر بننے کے لیے اداروں کی بہت زیادہ کمی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جو دیگر امراض کے معالج ہیں ابھی تک وہ بھی نفسایتی بیماریوں کا اداراک نہیں رکھتے کہ ایک شخص جسمانی طور پر بہترین حالت میں ان کے سامنے ہے لیکن ذہنی طور پر اتنا پریشان ہے کہ معاشرے کے لیے خود کو بے کار سمجھ رہا ہے۔ لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہوں تو فزیشن کے پاس جاتے ہیں ا ن کو یہ نہیں معلوم کہ بہت شدید کمزوری، سر کادرد، گھبراہٹ اور اعصابی کمزوری بھی نفسیاتی بیماری کی علامات ہیں۔ لوگوں کو نہیں معلوم کہ وہ کیسے ماہرِ نفسیات سے رجوع کریں اور پھر بہت سے لوگ ماہرنفسیات کے پاس جاتے ہوئے ہچکچاتے بھی ہیں کہ وہ ذہنی بیمار کہلائے جائیں گے۔ ایسے میں وہ امید اور آس کھو بیٹھتے ہیں اور نہ صرف خود کو معاشرے پر بوجھ سمجھتے ہیں بلکہ بعض اوقات ان کو لگتا ہے کہ ان کا خاندان بھی شدید اذیت میں ہے اور بہت پریشان ہے اور وہ اپنے ساتھ دوسروں کی زندگی کا بھی خاتمہ کر بیٹھتے ہیں۔ یہ ایک بہت خطرناک رجحان ہے۔

س: پاکستان میں لوگ کس قسم کے نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں ؟

ج: ہمارے مْلک میں نفسیاتی مسائل بہت زیادہ ہیں۔ ڈپریشن (Depression)، اینکزائٹی(Anxiety)، سٹریس(Stress) ایسے نفسیاتی مسائل ہیں جنہیں ہم عام الفاظ میں ٹینشن بھی کہتے ہیں۔ اداسی محسوس کرنا، کسی کام میں دل نہ لگنا، رونے کو دل کرنا، مایوسی بڑھ جانے پر خودکشی کے بارے میں سوچناڈپریشن کی علامات ہیں۔ بے سکونی، گھبراہٹ، دل نہ لگنا اینکزائٹی کی علامات ہیں،پاکستان کا ہر سماجی طبقہ نفسیاتی مسائل کا شکار نظر آتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی صورتحال پیچیدہ ہوتی چلی جارہی ہے۔ ڈپریشن، اینکزائٹی، ٹینشن کے ذمہ دار اکثر ہمارے حالات ہوتے ہیں اور ہر سماجی طبقے کے اپنے حالات اور مسائل ہوتے ہیں۔ نفسیاتی مسائل ہر طبقے میں ہر عمر کے لوگوں میں ہوتے ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں خصوصاً ٹین ایجرز میں ڈپریشن اور اینکزائٹی بتدریج بڑھتی جارہی ہے ۔ترقی یافتہ ممالک کی نسبت ہمارے ہاں نفسیاتی مسائل بہت زیادہ ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہمارے مسائل کی فہرست بہت لمبی ہے۔ ہم معاشی مسائل اور سماج میں موجود غلط رسم ورواج میں جکڑے ہوئے ہیں۔

س:نفسیاتی مسائل و عوارض کو ٹھیک کرنے کے کیا طریقے ہیں؟

ج:نفسیاتی مسائل و عوارض کو ٹھیک کرنے کے تین بڑے طریقے ہیں۔ بائیولاجیکل ٹریٹمنٹ کا مطلب ہے دوائیوں سے علاج۔ مثال کے طور پر اینٹی ڈپریسنٹ ادویات (Antid epressant medicines) دماغ میں کیمیکلز کی کمی پورا کرتی ہیں اور ریسرچ نے یہ بات ثابت کی ہے کہ یہ طریقہ فائدہ مندہے۔ دوسرا طریقہ سائیکالوجیکل، یعنی کاؤنسلنگ ہے۔کاؤنسلنگ تھراپی ہر مریض کے لئے مناسب نہیں ہوتی۔ پاکستان میں کاؤنسلنگ کے مریض ادویات بھی لے رہے ہوتے ہیں، کیونکہ کچھ لوگ سائیکاٹرسٹ کی ہدایات کو سمجھ نہیں پاتے اور دوسرا یہ کہ مریض ہمارے پاس تب آتے ہیں جب مرض کی شدت بڑھ چکی ہوتی ہے۔ اس لئے کاؤنسلنگ کے ساتھ ادویات کا استعمال ضروری ہوجاتا ہے۔ تیسرا طریقہ سماجی علاج یا سوشل ٹریٹمنٹ کہلاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم مریض کی زندگی میں کیسے تبدیلی لاسکتے ہیں۔ جیسا کہ اگر میاں بیوی میں نااتفاقی بڑھ گئی ہے اور لڑائی جھگڑا معمول بن گیا ہے یا مالی مسائل ہیں تو ان کا سدّ باب کیسے کیا جاسکتاہے۔ اس طریقے میں زندگی کے سماجی پہلو کے مسائل اور اْن کے حل تلاش کئے جاتے ہیں۔ نفسیاتی عوارض کا بہترین علاج ان تینوں طریقوں سے علاج کرنا ہے۔ بالغ حضرات ڈاکٹر سے ایک بار مشورہ کے بعد افاقہ ہونے پر خود سے دوائیاں چھوڑ دیتے ہیں یا دوبارہ مشورہ کئے بغیر ادویات جاری رکھتے ہیں، جو کہ غلط ہے۔

س: بچوں میں نفسیاتی مسائل کس نوعیت کے ہیں؟

ج:بچوں میں جذباتی رویوں کی خرابی، توجہ کا ارتکاز اور پڑھائی کے مسائل اکثر نظر آتے ہیں۔ اگر بچوں کے نفسیاتی مسائل کی بروقت تشخیص اور علاج کرلیا جائے تو مستقبل میں آنے والے پیچیدہ ذہنی امراض سے بچا جا سکتا ہے۔ مغرب میں چائلڈ سائیکالوجی پر بہت کام ہوا ہے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر بچپن میں ہی نفسیاتی مسائل حل کرلئے جائیں تو علاج کے بعد یہ بچے کامیاب زندگی گزار لیں گے۔

س:آغازِ جو کے حوالے سے بتائیے ، یہ تنظیم کیا ہے اور کن مقاصد کے لئے کام کرتی ہے؟

ج:آغازِ نو (اے این) 1993 سے لے کر آج تک کام کرنے والی غیر منافع بخش تنظیم ہے، جس کا مقصد منشیات کے عادی افراد اور ان کے خاندان کے ارکان کو علاج / بحالی کی خدمات فراہم کرنا ہے۔آغازِ نوو نوجوانوں کو منشیات اور ایچ آئی وی / ایڈز کی روک تھام کے لئے آگاہی دیتی ہے،اس سلسلے میں تربیتی ورکشاپ منعقد، کی جاتی ہیں تاکہ نوجوانوں کے نفسیاتی و سماجی مسائل حل ہوسکیں اور انہیں اندازہ ہو کہ منشیات کے استعمال سے انہیں کن کن جسمانی، ذہنی، جذباتی صحت، تعلیمی، کیریئر اور سماجی زندگی میں خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

س:پاکستان میں ذہنی امراض کے علاج کے لئے جدید طریقہء علاج کو کیوں نہیں اپنایا جاتا؟

ج:بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی جہاں دنیا کے اکثر ممالک میں ذہنی مریض جدید علاج سے استفادہ کرتے ہیں بعض ممالک میں لوگ اپنے مریضوں کو ڈاکٹر اور ماہرِ نفسیات کے پاس لے جانے کی بجائے پیروں فقیروں کے پاس لے جاتے ہیں جو ان کا گنڈا تعویز سے علاج کرتے ہیں۔ بعض ممالک میں تو ذہنی مریض آج بھی علاج کروانے کی بجائے گلیوں بازاروں میں بے مقصد گھومتے پھرتے رہتے ہیں اور لوگ انہیں پتھر مارتے ہیں۔پاکستان میں ذہنی صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل کا اندازہ عالمی ادارہ صحت کے ان اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق ملک میں ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ افراد ذہنی امراض کا شکار ہیں۔ ایسے بیشترً افراد قابل تشخیص اور قابل علاج ذہنی امراض کا شکار ہیں۔حکومتی ترجیحات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ 20 کروڑ سے زیادہ آبادی کے لیے صرف پانچ ایسے سرکاری ہسپتال ہیں جہاں نفسیاتی امراض کا علاج ہوتا ہے اور ایسے میں مجبور افراد اکثر پیری فقیری کو اپنی آخری امید مانتے ہیں۔گو کہ بڑے شہروں میں نجی سطح پر نفسیاتی علاج کی سہولیات موجود ہیں لیکن عوام کی اکثریت یہ مہنگا علاج نہیں کروا سکتی۔

ذہنی امراض اور نفسیاتی مسائل کے کامیاب علاج انسانوں کے لیے سائنس‘ طب اور نفسیات کے قیمتی تحفے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کے علاج سے ہر قوم‘ مذہب اور ملک کے انسان استفادہ کر کے ایک صحتمند‘ کامیاب اور پر سکون زندگی گزار سکتے ہیں۔میں اس حوالے سے خو د کوایک خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ مجھے پچھلے 24برس میں سینکڑوں مریضوں اور ان کے خاندانوں کی خدمت اور علاج کا موقع ملا۔ میرے مریض میرے استاد بھی ہیں کیونکہ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ انہوں نے مجھے ایک ہمدرد انسان اور بہتر نفسیاتی معالج بننے کی تحریک دی۔ میرا پیغام ہے کہ اگر لوگ اپنی دماغی حالت کا علاج کروالیں تو وہ ایک بہتر زندگی گزار سکتے ہیں ،کیونکہ نفسیاتی عوارض پوری زندگی اور اس سے جڑے ہر پہلو کو متاثر کرتے ہیں۔ ان بیماریوں کا بروقت علاج بہت ضروری ہے۔

***

مزید :

ایڈیشن 1 -