تعلیم ’’پاکستان میں ایک منافع بخش کاروبار‘‘ وار برٹن میں نجی تعلیمی اداروں کی زیادتی

تعلیم ’’پاکستان میں ایک منافع بخش کاروبار‘‘ وار برٹن میں نجی تعلیمی ...

  

پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے غریب والدین کو مختلف حیلوں بہانوں سے لوٹنا اپنا نصب العین سمجھ رکھاہے۔ ایک نجی سکول واقع واربرٹن میں زیرتعلیم طلبہ و طالبات کے والدین بھی اسی ظلم کا شکار ہیں جن کو ہر دوسرے روز سکول انتظامیہ کی طرف سے کسی نہ کسی طرح کا نوٹس موصول ہوتا ہے اور حیلے بہانے سے رقم بٹوری جاتی ہے۔ اس کے علاوہ فیسوں میں آئے روز اضافہ کرنا پرائیویٹ سکولوں کامعمول بن چکا ہے۔ نجی سکولوں میں ظلم کی ابتداء سکول میں بچوں کے داخلے کے وقت ڈونیشن کے علاوہ سیکیورٹی کے نام پر ہزاروں روپے وصول کئے جانے سے ہوتی ہے حالانکہ یہ رقم قابل واپسی ہے لیکن زیادہ ترسکول یہ رقم اپنی سکول آمدنی میں ایڈجسٹ کرلیتے ہیں۔ اسکے علاوہ انتہائی مہنگی کاپیاں اورکتابیں سکول سے خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے جن کا معیار بھی گھٹیا ہوتا ہے۔ واربرٹن کے ایک نجی سکول نے ماہ ستمبر اور ماہ اکتوبرمیں والدین کو ٹیسٹ فیس کی مد میں 2500 روپے کاایک اورٹیکہ لگانے کی تیاری کر لی ہے جو کہ سفید پوش اور غریب والدین کی استطاعت سے باہر ہے۔لاچار والدین جو کہ خوفناک مہنگائی کے ہاتھوں پہلے ہی پس رہے ہیں،اس صورتحال سے مزید پریشان اور سراپا احتجاج ہیں اورانتہائی مجبوری کے عالم میں اپنے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ ختم کرنے کی سوچ رہے ہیں۔ خدارا ارباب اختیار شعبہ تعلیم میں سکول ایجوکیشن کے نجی سیکٹرمیں ہونے والی زیادتیوں کا نوٹس لیں اور بے لگام پرائیویٹ سکولوں کو نکیل ڈالیں۔

***

مزید :

ایڈیشن 1 -