معذوری کا بہانہ بناکرمراعات لینے والی برطانوی خاتون کو ڈیڑھ سال قید

معذوری کا بہانہ بناکرمراعات لینے والی برطانوی خاتون کو ڈیڑھ سال قید

  

لندن(این این آئی)برطانیہ میں گذشتہ پندرہ سال سے معذری کا بہانہ بنا کر حکومت سے مراعات حاصل کرنے کے الزام میں ایک خاتون کو ڈیڑھ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔برطانوی ٹی وی کے مطابق 58 سالہ لینڈا ھوی نامی خاتون نے پندرہ برس قبل معذوری کا بہانہ بنا کر حکومت سے امداد لینا شروع کی اور ٹیکس کی ادائی کی چھوٹ لیتی رہی ۔ اس دوران اس نے حکومت سے 65 ہزار 244 آسڑیلوی پاؤنڈ کے مساوی رقم معذوری الاؤنس کی شکل میں وصول کی جب کہ 15 ہزار 690 پاؤنڈ کی ٹیکس چھوٹ حاصل کی تھی۔حال ہی میں پتا چلا کہ وہ ٹھیک ٹھاک اور تندرست ہے۔ اس نے معذوری کا بہانہ بنا رکھا ہے اور معذوری کے ناٹک کی آڑ میں وہ حکومت سے مراعات سمیٹ رہی ہے۔پتا چلا ہے کہ لینڈا ھوی نے نہ صرف حکومت کو دھوکہ دے رکھا تھا بلکہ وہ 1997ء سے ملازمت بھی کررہی تھی تاہم اس نے اپنی ملازمت کو بھی مخفی رکھا ہوا تھا۔ اس نے دعویٰ کررکھا تھا کہ معذوری کے باعث وہ کوئی کام یا ملازمت نہیں کرسکتی۔اسٹیفورڈ عدالت کے جج مائیکل السم نے کہا کہ یہ ایک ایسی خاتون ہے جس کی بات پر یقین نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے ھوی کو حکومت کو دھوکہ دہی کے الزام میں ڈیڑھ سال قید اور چھ ماہ تک اس کی الیکٹرانک رومنگ پر پابندی عاید کی گئی ہے۔لینڈا ھوی کا دعویٰ ہے کہ اس کی کمر میں تکلیف تھی وہ سیڑھیوں پر ان کے گرد بنی باڑ کے سہارے کے بغیر نہیں چڑھ سکتی۔

اس نے اپنی بیماری کی میڈیکل رپورٹس بھی عدالت میں پیش کی ہیں، جن میں اس کی معمولی بیماری کا ذکر ہے مگر اس کی معذوری کا کوئی تذکرہ نہیں۔لینڈا ھوی نے خود ہی اپنے آپ کو بے نقاب کیا۔ اس نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک سفر کے دوران پیراکی کی ایک تصویر پوسٹ کی ہے، اس کے علاوہ اسے چائے کی پیالیوں کی ایک ٹرے بھی اٹھائے دیکھا جاسکتا ہے۔

مزید :

عالمی منظر -