آستانہ میں شامی اپوزیشن کا جلاس،ادلبب میں روسی حملوں سے ہلاکتوں کی مذمت

آستانہ میں شامی اپوزیشن کا جلاس،ادلبب میں روسی حملوں سے ہلاکتوں کی مذمت

  

آستانہ/ماسکو(این این آئی)شام میں دوروزقبل اِدلِب کے نواحی دیہی علاقے پر روسی فضائی حملوں میں 37 سے زیادہ شہریوں کے جاں بحق ہونے کے بعد آستانہ میں شامی اپوزیشن گروپوں کے وفد نے اِدلِب ، حماہ اور حمص کے صوبوں میں حالیہ یلغاروں کا ذمے دار روس کو ٹھہراتے ہوئے ان کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے تاہم روس نے ان حملوں کی تردید کی ہے اورکہاہے کہ روسی فضائیہ نے یہ کارروائی نہیں کی اور اس سلسلے میں انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے سب سے بڑے شامی گروپ المرصد کی رپورٹ بے بنیاد ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق شامی اپوزیشن کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا کہ روس اور شامی حکومت کی افواج کی جانب سے مذکورہ صوبوں میں شہریوں کو منظم طور پر فضائی اور بحری بم باری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہسپتالوں ، اسکولوں اور انفرا اسٹرکچر کو تباہ کیا جا رہا ہے، ان کارروائیوں کو جنگی جرم قرار دیا جا سکتا ہے جن کی بین الاقوامی سطح پر عدالتی تحقیقات کی جانا چاہیے۔شامی اپوزیشن کے وفد نے باور کرایا کہ یہ افواج اپنی جارحانہ کارروائیوں میں جیشِ حْر کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنا رہی ہیں جو سیف زون کے معاہدے پر کاربند ہے۔ یہ سیف زون کے معاہدے اور روسی یقین دہانیوں کی کھلی خلاف ورزی ہے جس نے اس معاہدے کو محض کاغذ پر روشنائی بنا دیا ہے۔دوسری جانب روسی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایگور کوناشینکوف نے اِدلب میں رہائشی علاقوں پر روسی حملے کی تردید کی ۔

انہوں نے باور کرایا کہ روسی فضائیہ نے یہ کارروائی نہیں کی اور اس سلسلے میں انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والے سب سے بڑے شامی گروپ المرصد کی رپورٹ بے بنیاد ہے۔روسی وزارت دفاع کے ترجمان نے واضح کیا کہ روسی جنگی طیاروں نے اہداف کی نوعیت کے حوالے سے تصدیق کے بعد اِدلب صوبے میں دہشت گردوں کے دس ٹھکانوں پر بم باری کی۔

مزید :

عالمی منظر -