حافظ سعید ، حقانی نیٹ ورک بوجھ ہیں ، جان چھڑانے کیلئے وقت چاہیے : خواجہ آصف

حافظ سعید ، حقانی نیٹ ورک بوجھ ہیں ، جان چھڑانے کیلئے وقت چاہیے : خواجہ آصف

  

نیو یارک ( مانیٹرنگ ڈیسک228 نیوز ایجنسیاں) وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید جیسے عناصر پاکستان کے لیے ایک بوجھ ہیں ، ان سے جان چھڑانے کے لیے پاکستان کو وقت چاہیے۔وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے 80کی افغانستان اور سویت یونین میں پاکستان کی جانب سے امریکہ کا ساتھ دینے کو بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے دہشتگرد گروپ بنا کر ہمارے گلے میں ڈالے اور خود نکل گیا،طالبان کی سرپرستی کا الزام پاکستان پر نہ لگایا جائے ،حقانی اور حافظ سعید کبھی امریکہ کے لاڈلے ہوا کرتے تھے اور وائٹ ہاؤس میں دعوتیں اڑاتے تھے،اب یہ ہم پر بوجھ ہیں ، ماضی بھلایا نہیں جا سکتا ،یہ ہمارے حال اور مستقبل کا اہم حصہ ہے،شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے اقدامات جاری رکھنا ہوں گے،سوویت یونین کیخلاف جنگ میں ہمیں استعمال کیا گیا اور پھر دھتکار دیا گیا،افغانستان دہشتگردوں کی آماجگاہ ،بھارت نے66سے زائد دہشتگرد گروپ پال رکھے ہیں ،پاکستان افغانستان میں امن و سکیورٹی کی ذمہ داری نہیں لے سکتا،افغان سرزمین سے بھارتی مداخلت روکنے کیلئے موثر سرحدی نظم و نسق ضروری ہے ،مودی کی سوچ ابھی تک گجرات میں پھنسی ہوئی ہینیویارک میں تھنک ٹینک ایشیا سوسائٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ایسے لوگ موجود ہیں جو بحران کی صورت میں پاکستان اور خطے کے لیے بوجھ ثابت ہو سکتے ہیں۔تقریب کے میزبان، امریکی صحافی سٹیو کول کے سوال کے جواب میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وہ اس خیال سے متفق ہیں کہ پاکستان کو شدت پسندی اور دہشت گردی کی باقیات کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔جماعت الدعوۃ کے بانی حافظ سعید کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کی 'تنظیم کالعدم ہے اور وہ نظربند ہیں مگر میں آپ سے متفق ہوں کہ اس سلسلے میں ہمیں مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ 'یہ کہنا بہت آسان ہے کہ پاکستان حقانیوں اور حافظ سعید اور لشکر طیبہ کی مدد کر رہا ہے، ’یہ لوگ بوجھ ہیں۔ ہمارے پاس ان سے جان چھڑانے کے وسائل نہیں ہیں۔ آپ تو یہ بوجھ بڑھا رہے ہیں۔ 80 کی دہائی میں امریکہ کا آلہ کاربننا ایک ایسی غلطی تھی جس کا خمیازہ پاکستان ابھی تک بھگت رہا ہے۔ امریکہ نے دہشتگرد گروپ بنا کر ہمارے گلے میں ڈالے اور خود نکل گیا،طالبان کی سرپرستی کا الزام پاکستان پر نہ لگایا جائے پاکستان پر الزامات لگانے سے پہلے اس بات پر غور کیا جائے کہ پاکستان کے مسائل اور مشکلات امریکہ کی سوویت یونین کے خلاف سرد جنگ کے بعد پیدا ہوئے جب پاکستان کو امریکہ نے بحیثیت آلہ کار استعمال کیا۔ سوویت یونین کے خلاف جنگ کا حصہ بننا غلط فیصلہ تھا۔ ہمیں استعمال کیا گیا اور پھر دھتکار دیا گیا۔ 'بلاشبہ ہم نے غلطیاں کی ہیں لیکن ہم یہ غلطیاں کرنے میں اکیلے نہیں اور صرف ہمیں مورد الزام ٹھہرانا ناانصافی ہے۔ امریکہ کو سوویت یونین کے خلاف جنگ جیتنے کے بعد خطے کو ایسے چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا۔ اس کے بعد سے ہم جہنم میں چلے گئے اور آج تک اسی جہنم میں جل رہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے خطے میں پاکستان کے پڑوسی ممالک کے حوالے سے کہا کہ افغانستان کا مسئلہ عسکری طور پر حل نہیں کیا جا سکتا،اس کے لیے ضروری ہے کہ مذاکرات کیے جائیں۔ اس امر کا بھی خیال رکھا جائے کہ پاکستان صرف ایک حد تک افغان مسئلے کے حل کی ذمہ داری لے سکتا ہے، باقی کام افغانستان کو خود کرنا ہوگا۔'سرحدوں کی دیکھ بھال کرنا سب سے ضروری ہے اور افغان حکومت کو اس پر توجہ دینی ہو گی۔'خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ گذشتہ 15 سال سے افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران افغانستان میں پوست کے کاشت میں مسلسل اضافہ، طالبان کا کھوئے ہوئے حصوں پر واپس قبضہ، داعش کی وہاں موجودگی اور ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن جیسے مسائل کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ نہیں ۔ افغان فوجی اپنے ہتھیارطالبان کو بیچ رہے ہیں، پاکستان ایسے مسائل کا ذمہ دار نہیں ٹہرایا جا سکتا۔ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش ہو رہی تھی۔ ’مری میں مذاکرات ہو رہے تھے تو ملا عمر کی موت کی خبر جاری کر دی گئی، پھر طالبان رہنما جب ایران سے واپس آ رہا تھا تو اسے پاکستانی سرزمین پر ہلاک کیاگیا۔‘ کوئی تو ہے جو فغانستان میں مذاکرات کا حامی نہیں ۔خواجہ آصف نے بھارت کے بارے میں کہا کہ پاکستانی حکومت نے متعدد بار بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کی ہیں اور بشمول مسئلہ کشمیر تنازعات پر مذاکرات کی پیشکش کی لیکن بھارت نے اس کا مثبت جواب نہیں دیا بلکہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔'پاکستان بھارت کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے تاکہ تمام تنازعات کو حل کیا جائے اور خطہ میں امن و استحکام قائم کیا جائے۔ پاکستان میں ڈرون حملوں کی تعداد کم ہونے سے یہ بات واضح ہے کہ پاکستان نے ملک میں موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف موثر کاروائی کی ہے۔چین اور پاکستان کے گہرے ہوتے ہوئے تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چین کے ساتھ ہمیشہ اچھے تعلقات تھے، پاکستان نے اپنے بہتر تعلقات کو امریکہ اور چین کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا۔ جب ان کی حکومت نے ملک کی باگ دوڑ سنبھالی تو پاکستان میں توانائی کا شدید بحران تھا لیکن جب پاکستان نے عالمی اداروں سے فنڈز حاصل کرنے کی کوشش تو اسے ناکامی ہوئی۔ باوجود اس کے امریکہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے پاکستان کی مدد کر رہا تھا لیکن امریکی مدد اتنی بڑی نہیں تھی جتنا بڑا توانائی کا مسئلہ تھا۔ اس موقع پر چین پاکستان کی مدد کو آیا اور چین پاکستان میں توانائی کے شعبے میں 36 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اسی طرح چین مواصلات کے شعبے میں سات بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کر رہا ہے۔ اگر دیگر اور ممالک اس اقتصادی راہداری کا حصہ بننے کو تیار ہیں تو اس سے پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔'سڑکیں بنیں گی، مواصلاتی ذرائع میں بہتری آئے گی اور یہ سب کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد دیں گی اور جب تجارت شروع ہوگی تو اختلافات میں کمی آئے گی اور دشمنیاں کم ہوں گی۔ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہا ہے اسی لیے پاک افغان سرحد پر مؤثر بارڈر مینجمنٹ ناگزیر ہے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ اس خیال سے متفق ہیں کہ پاکستان کو شدت پسندی اور دہشت گردی کی باقیات کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھنی چاہییں۔۔ امریکہ کو سوویت یونین کے خلاف سرد جنگ جیتنے کے بعد خطے کو ایسے چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا۔فغانستان میں امن و سلامتی کی ذمیداری پاکستان پر ڈالی نہیں جاسکتی نہ ہی اسلام آباد کابل میں قیام امن کا ضامن ہے، کئی افغان رہنما اپنے مفادات کے لیے پاکستان سے کشیدگی جاری رکھنا چاہتے ہیں، امریکہ جنگ سے افغانستان میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ سرحدوں کی دیکھ بھال کرنا سب سے ضروری ہے اور افغان حکومت کو اس پر توجہ دینی ہو گی۔ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہا ہے اور اسی لیے پاک افغان سرحد پر مؤثر بارڈر مینجمنٹ ناگزیر ہے، بھارت میں 66 سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں ہیں اور نریندر مودی اب تک گجرات سے باہر نہیں نکل سکے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے امن کی کوششوں کی سیاسی قیمت چکائی ہے، نواز شریف کو اس کوشش پر مودی کا دوست اور غدار کہا گیا ۔ پاکستان کے تمام مسائل امریکہ کی وجہ سے ہیں۔ وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان ایک حد تک افغان مسئلے میں کردار ادا کر سکتا ہے، باقی کام افغانستان کو خود کرنا ہو گا۔ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پاکستان پر حقانی نیٹ ورک، حافظ سعید اور دیگر دہشت گردوں کو تحفظ دینے کا الزام نہ لگایا جائے، یہ وہ لوگ ہیں جو 20 سے 25 سال قبل کبھی امریکہ کے لاڈلے تھے اور وائٹ ہاوس میں دعوتیں اڑایا کرتے تھے۔اب امریکہ پاکستان کو حقانی اور حافظ سعید کے حوالے سے ذمہ دار ٹھہرارہا ہے جبکہ یہ لوگ کبھی آُپ کے لاڈلے تھے۔ پروگرام کے میزبان نے خواجہ آصف سے ماضی کو بھول کر مستقبل کی جانب دیکھنے کو کہا جس پر وزیر خارجہ نے جواب دیا کہ 'ماضی کو بھولنا ممکن نہیں کیونکہ یہ ہمارے مستقبل اور حال کا ایک اہم حصہ ہے'۔ا یہ کہنا بہت آسان ہے کہ پاکستان حقانی اور حافظ سعید کو تحفظ فراہم کررہا ہے، ’پاکستان پر طالبان کی سرپرستی کا الزام نہ لگایا جائے‘۔کسی ملک کا نام لیے بغیر خواجہ آصف نے کہاکہ انہیں (حقانی اور حافظ سعید) کو بعد میں پاکستان کے گلے کا ہار بنادیا گیا۔خواجہ آصف نے مذکورہ پروگرام کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی شیئر کی۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر موثر بارڈرمینجمنٹ ضروری ہے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں کشیدگی کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کئی افغان رہنما مفادات کے لیے کشیدگی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان میں امن اور سکیورٹی کی ذمہ داری نہیں لے سکتے۔ امریکہ جنگ کے ذریعے افغانستان میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتا، یہ مسئلہ صرف مذاکرات ہی کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ بھارت، افغانستان کے راستے پاکستان میں مداخلت کررہا ہے۔واضح رہے کہ خواجہ آصف نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب رواں برس 21 اگست کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں افغانستان کے لیے نئی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان پر طالبان کو مبینہ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام عائد کیا تھا جسے پاکستان نے مسترد کردیا تھا۔

خواجہ آصف

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان نے جنوبی ایشیا سے متعلق نئی امریکی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات اور پارلیمنٹ کی قرارداد امریکی سفارت خانے کے حوالے کردی ہے ۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف اور امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے درمیان ہونے والی ملاقات بھی ملتوی کردی گئی ہے۔نجی ٹی وی نے وزرات خارجہ کے ذرائع کے حوالے س سے بتایاہے کہ پاکستان نے جنوبی ایشیا کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پالیسی کومستر د کردیا ہے۔ اس حوالے سے دفترخارجہ نے پارلیمنٹ کی قراردادامریکی سفارتخانہ کے حوالے کردی جبکہ جنوبی ایشیاسے متعلق امریکی پالیسی پر پاکستان نے واشنگٹن کو اپنے موقف سے آگاہ کردیا ۔ قراردادمیں ڈونلڈٹرمپ کے بیان اورپالیسی کومستردکیاگیاہے۔ قراردادکیساتھ قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات بھی شامل کی گئی ہیں۔ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات رواں ہفتے ہونا تھی۔ امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات ملتوی کرنے کی درخواست پاکستان کی جانب سے گی گئی ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات التوا کے بعد اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں ہوگی۔

پاکستان۔ امریکہ

مزید :

صفحہ اول -