بینظیر قتل کیس ، ملزموں کی سزا کیخلاف اپیلوں میں پیپلز پارٹی کے فریق بننے کی درخواست منظور

بینظیر قتل کیس ، ملزموں کی سزا کیخلاف اپیلوں میں پیپلز پارٹی کے فریق بننے کی ...

  

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن)سپریم کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس طارق عباسی اور جسٹس حبیب اللہ عامر پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو قتل کیس میں سزا پانے والے سابق سی پی او راولپنڈی سعود عزیز اور سابق ایس پی راول ڈویژن خرم شہزاد کی اپیلوں میں پیپلز پارٹی کی جانب سے فریق بننے کی درخواست سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے بحث کیلئے 5اکتوبر کی تاریخ مقرر کر دی ہے ۔ اپیلوں کی سماعت کے موقع پر گزشتہ روزپولیس افسران کی پیروی اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ اور غنیم عبیر خان ایڈووکیٹ نے کی جبکہ پیپلز پارٹی کی پیروی سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے کی۔ درخواست پر ابتدائی بحث میں سردار لطیف کھوسہ نے اپیلوں پر اعتراض کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ25کی ذیلی دفعہ8کے تحت ایسے ملزم جنہیں دہشت گردی کی عدالت سے سزا ہوئی ہو ان کی ضمانت نہیں لی جا سکتی حالانکہ دونوں اپیل کنندگان سزائے موت کے حقدار تھے کیونکہ یہ ایسی سازش میں ملوث ہیں جو جو سابق صدر پرویز مشرف نے تیار کی، اپیل کنندگان نے پرویز مشرف کی ہدایت پر بینظیر بھٹو کا سکیورٹی حصار خراب کیا ،کرائم سین کو فوری طور پر دھویا اور مرحومہ کا پوسٹمارٹم بھی نہیں ہونے دیا جبکہ عدالت نے انہیں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت عائد فرد جرم پرسزا ہی نہیں دی جس پر اپیل کنندگان کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے موقف اختیار کیا کہ یہ اپیل پر اعتراض نہیں کر سکتے کیونکہ قانون کسی بھی شخص کو فیصلے کیخلاف اپیل کا حق دیتا ہے جس پر سردار لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ ہم اپیل کی مخالفت کر سکتے ہیں یا نہیں آپ قانون پڑھ لیں ۔لطیف کھوسہ نے عدالت سے استدعا کی کہ چونکہ اس حوالے سے ہماری اپیلیں بھی فاضل بینچ میں زیر سماعت ہے جس کیلئے پہلے ہی 27نومبر کی تاریخ مقرر ہے لہٰذا عدالت تمام اپیلیں ایک ساتھ سنے جس پر جسٹس طارق عباسی نے ریمارکس دیئے کہ پولیس افسران کی اپیلوں کو آپ کی اپیلوں کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا کیونکہ یہ الگ معاملہ ہے جس پر لطیف کھوسہ نے موقف اختیار کیا کہ عدالت اس معاملے میں میرٹ چیک کرے کیونکہ درخواست گزار ضمانت کے اہل ہی نہیں جس پر عدالت نے لطیف کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ کیا اس وقت ہی اپنی درخواست پر بحث کرنا چاہتے ہیں جس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ اس کیلئے کوئی تاریخ مقرر کر دی جائے جس پر عدالت نے سماعت5اکتوبر تک ملتوی کر دی۔دریں اثنا سماعت کے بعد احاطہ عدالت میں میدیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ المیہ ہے کہ ایک طرف بے نظیر بھٹو قتل کیس میں کیا ہو رہا ہے اور دوسری طرف ایک نااہل وزیر اعظم سرکاری خرچ اور پروٹوکول پر عدالتوں میں پیش ہونے کا ڈرامہ کر رہا ہے انہوں نے کہ ہمارے 2سابقہ وزرائے اعظم یوسف گیلانی اور راجہ پرویزاشرف بھی کسی پروٹوکول کے بغیر عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں۔ آصف زرداری پر پرویز مشرف کے الزامات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر بیت اللہ محسود کی فون ریکارڈنگ سانحہ لیاقت باغ کے2گھنٹے بعد پبلک ہو سکتی ہے تو یہ ممکن نہیں کہ آصف زرداری کے خلاف پرویز مشرف کے پاس ثبوت ہوں اور وہ میڈیا پر عوام کے سامنے نہ آئیں ۔

بینظیر قتل کیس

مزید :

صفحہ اول -