معاشرتی بے راہ روی کیباعث خاندانی نظام خطرے میں ، 2ہزار سے زائد خواتین کو خلع کی ڈگریاں

معاشرتی بے راہ روی کیباعث خاندانی نظام خطرے میں ، 2ہزار سے زائد خواتین کو خلع ...

  

لاہور(نامہ نگار)خواتین کی جانب سے خلع لینے کی شرح میں خوفناک حدتک اضافہ ہونے لگاہے۔ رواں سال لاہورکی فیملی عدالتوں میں 6578 خلع کے دعوے دائر ہوچکے ہیں۔واضح رہے کہ لاہور کی فیملی عدالت رواں سال شوبز کی جوڑی ادکارہ نور اور سکینڈل کوئین وینا ملک کو بھی خلع کی ڈگریاں جاری کرچکی ہے۔تفصیلا ت کے مطابق لاہور کی فیملی عدالتوں میں خلع کے مقدمات میں روزبروزاضافہ ہونے لگارواں سال 6578 خلع کے دعوے دائر ہوئے جبکہ فیملی عدالتوں نے 2145خواتین کو خلع کی ڈگریاں جاری کر دیں ۔قانونی ماہرین پاکستان بار کونسل کے سابق کوارڈینیٹرمدثر چودھری ، سابق سیکرٹری لاہور بارکامران بشیر مغل ،سینئر ایڈووکیٹ مجتبیٰ چودھری اور مرزاحسیب اسامہ کا کہنا ہے کہ کیبل کلچر کا فروغ اور معاشرتی بے راہ روی کی وجہ سے اس وقت خاندانی نظام خطرے میں پڑگیاہے،انہوں نے مزید کہا کہ طلاق کی شرح میں اضافہ اور خاندانی نظام کی تبای کی بڑی وجہ فریقین کے درمیان عدم برداشت ہے،ماہرین قانون کا یہ بھی کہنا ہے اگر میاں بیوی اپنی ذاتی انا کو چھوڑ دیں تو طلاق جیسی بری چیز سے بچا جا سکتا ہے۔قانونی ماہرین نے خلع کی ڈگریاں میں اضافے کی درخواست کو خطرناک اضافہ قرار دیتے ہوئے مستقبل میں خاندانی نظام کو بری طرح متاثر کرنے کاعندیہ دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ حصول طلاق کے لئے خواتین کی جانب سے روزانہ 15 سے 20درخواستں فیملی عدالتوں میں جمع کروائی جاتی ہیں۔

مزید :

علاقائی -