9ماہ کے دوران تھانوں میں فرنٹ ڈیسک پر موصول 9ہزار سے زائد درخواستیں داخل دفتر

9ماہ کے دوران تھانوں میں فرنٹ ڈیسک پر موصول 9ہزار سے زائد درخواستیں داخل دفتر

  

لاہور(لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت کے 84تھانوں میں سے 52تھانوں کی حدود میں قتل و غارت، ڈکیتی اور راہزنی سمیت اغوا جیسا سنگین کرائم عروج پر،پولیس نے سال رواں کے دوران 91501شہریوں کی درخواستوں کو ’’گول‘‘ کر دیا، جبکہ سنگین واقعات کو معمولی جرائم میں تبدیل، وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر خفیہ ادارے کی تیار کردہ رپورٹ میں انکشاف ’’پاکستان‘‘ کو محکمہ پولیس کے ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق رواں سال کے شروع ہوتے ہی سنگین واقعات میں تیزی ریکارڈ کی گئی اور لاہور پولیس کے 84تھانوں میں سے 52تھانوں کی حدود میں سنگین کرائم میں 69فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جس میں جنوری 2017ء سے اب تک 1لاکھ 59ہزار تین سو ساٹھ شہریوں کے ساتھ معمولی اور سنگین نوعیت کے واقعات پیش ہوئے۔ جس میں پولیس نے جنوری سے لے کر اب تک 67860 مقدمات رجسٹرڈ کئے اور اس میں سال 2016ء کی نسبت سال 2017ء کے پہلے ماہ جنوری میں 15161 شہریوں کے ساتھ واقعات پیش آئے۔ پولیس نے پہلے ماہ 7496 شہریوں کی درخواستوں پر مقدمات رجسٹرڈ کئے، اسی طرح فروری 2017ء میں بھی سنگین نوعیت کے واقعات میں تیزی رہی ہے اور پولیس نے 16061 شہریوں میں سے 7343 شہریوں کی درخواستوں پر مقدمات رجسٹرڈ کئے جبکہ مارچ میں 7648اور اپریل 2017ء میں سنگین نوعیت کے واقعات میں تیزی �آئی،جس میں قتل و غارت، ڈکیتی، راہزنی اور اغواء سمیت فراڈ اور دیگر دفعات کے تحت 7947 مقدمات رجسٹرڈ کئے، جبکہ تھانوں میں فرنٹ ڈیسک پر آنے والی 9250شکایات کو گول کر دیا، جس پر شہر کے 84میں سے 52 تھانوں کی حدود میں سنگین کرائم کے تیز ہونے کی بار بار نشان دہی کے باوجود لاہور پولیس ٹس سے مس نہ ہوئیجبکہ 1620شہری کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی گاڑیوں سے محروم ہوئے، پولیس نے 936شہریوں کی درخواستوں پر تاحال مقدمات رجسٹرڈ نہیں کئے ہیں ،اس حوالے سے ڈی آئی جی آپریشن ڈاکٹر حیدر اشرف کا کہنا ہے کہ آبادی کے لحاظ سے جرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، اس کے باوجود لاہور پولیس کی کارکردگی بہتر ہے، رواں سال کے دوران 2268 مختلف گینگز گرفتار کئے گئے ہیں جبکہ 5500 سے زائد خطرناک اشتہاری گرفتار کئے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورتحال اور ڈکیتی و راہزنی کی وارداتوں کی روک تھام کے لئے ڈولفن فورس، پیرو سکواڈ سمیت تھانوں کی پولیس 24گھنٹے گشت کر رہی ہے، جس سے سنگین کرائم کی شرح میں 30سے 35فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

مزید :

علاقائی -