عوام کے عزم حوصلے، آپریشنز اور سیاسی سطح پر رابطہ کاری سے دہشت گردی پر قابو پالیا: چیئرمین سینیٹ

عوام کے عزم حوصلے، آپریشنز اور سیاسی سطح پر رابطہ کاری سے دہشت گردی پر قابو ...

  

اسلام آباد(صبا ح نیوز)بحرین کی شوریٰ کونسل کا وفد یادگارجمہوریت پر پہنچ گیا ہے۔ وفد نے پاکستان میں آئین کی حکمرانی اور عوامی حقوق کے لئے قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا اورپھول چڑھائے۔ پاکستان میں لگنے والے مارشل لاؤں ،جمہوری جدوجہداور آئین سازی سے آگاہی لی نئی ،جدید لائبریری دیکھی،پاکستان کے جمہوری پارلیمانی نظام اور پارلیمینٹ کی فعالیت کی تعریف کی ، اس مقع پرچیئرمین سینٹ میاں رضاربانی نے مسلم ممالک کی پارلیمانوں پر اُمہ کو درپیش مسائل کے حل کے حوالے سے ٹھوس اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ مسلم ممالک میں سماجی و اقتصادی ترقی کے عمل کو مزید تیز کیا جائے اور اُمہ کی خوشحالی کے لیے ملکر کوششیں کی جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بحرین کے پارلیمانی وفد کے سربراہ اور بحرین کی شوریٰ کونسل کے چیئرمین علی بن الصالح سے ملاقات کے دوران کیا۔ اعلیٰ سطح کی ملاقات میں ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری، سینیٹ میں قائد ایوان راجہ محمد ظفرالحق، سینٹ میں پاکستان بحرین دوستی گروپ کے سربراہ حافظ حمداللہ ، سینیٹرز ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی ، اعظم خان سواتی، محمد طلحہ محمود، مشاہد حسین سید اور ستارہ ایاز موجود تھے۔ بحرین کا پارلیمانی وفد چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی کی خصوصی عوت پر پاکستان کے دورے پر ہے۔بحرین کے وفد کے سربراہ نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثر ات بھی درج کیے ۔ میاں رضاربانی نے کہا کہ خطے کو اس وقت بحران کا سامنا ہے اور یہ بات انتہائی اہم ہوگئی ہے کہ ہم مسائل حل کرنے کے لیے آپس میں مل بیٹھ کر ان خطرات کا سامنا کرنے کے لیے حکمت عملی اختیار کریں۔ جس سے مسلم ممالک کی سلامتی واستحکام کو خطرات لاحق ہیں۔ ا یہ دور پارلیمانی سفارتکاری کا دور ہے اور مسائل کے حل کے لیے قوموں کے درمیان بہتر تعلقات کو پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے فروغ دیا جاسکتا ہے۔ پاکستان اور بحرین کے دوستانہ تعلقات ہیں ، ان کو تجارتی و اقتصادی سطح پر وسعت دینے کی گنجائش موجود ہے۔ چیئرمین سینٹ نے عوام کی جانب سے بحرین کے بادشاہ کا پاکستان میں نرسنگ یونیورسٹی کے قیام پر خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس ادارے کے قیام سے صحت کے شعبے میں بہتری لانے پر پاکستان اور بحرین کے مابین دو طرفہ تعلقات میں مزید فروغ دینے میں مدد ملے گی ۔ رضاربانی نے کہا کہ مسلم اُمہ کے درمیان باہمی تعاون کے فروغ کی اشد ضرورت ہے کیونکہ پورے خطے کو عالمی قوتوں نے اپنے مفادات کی خاطر عدم استحکام کا شکار کیا ہوا ہے ۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر مسلم ممالک کی پارلیمانوں میں روابطہ اور تعاون انتہائی ضروری ہے تاکہ مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے ۔ رضاربانی نے بحرین کے وفد کو آگاہ کیا کہ پاکستان کو دہشت گردی کا سامنا ہے تاہم عوام کے عزم اور حوصلے ،سکیورٹی اپریشنز اور سیاسی سطح پر رابطہ کاری کے ذریعے اس مسئلے پر خاصی حد تک قابو پالیا گیا ہے ۔ پاکستان پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کیلئے ہمیشہ کوشاں رہا ہے لیکن بھارت میں مودی سرکارنے اپنے اوپر جنگی جنون طاری کر لیا ہے اور نہ صرف بین الاقوامی معاہدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی میں ملوث ہے بلکہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام کے حقوق کے حصول کیلئے جاری جدوجہد کو دبانے کیلئے مظالم کر رہی ہے ۔ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان پُر امن مذاکراتی عمل کے ذریعے مسائل کا حل چاہتا ہے ۔ بحرین کے وفد کے سربراہ نے چیئرمین سینیٹ کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ مسلم اُمہ مشکل دور سے گزر رہی ہے اور مسلم ممالک میں اتحاد کی ضرورت ہے اور اس مقصد کیلئے پارلیمان ہی وہ پلیٹ فام ہے جو کہ بہتر طریقے سے مسائل کے حل کی جانب کاوشوں کو تقویت دے سکتی ہیں ۔ پاکستان اور بحرین کے درمیان تعلقات کو وسط دینے کیلئے گنجائش موجو دہے ۔ بحرین ٹیکس فری ملک ہے اور پاکستانی سرمایہ کار اس سہولت سے فائدہ اٹھا کر سرمایہ کاری کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے چیئرمین سینیٹ کو بحرین کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔دریں اثنا وفد کے اعزاز میں چیرمین سینیٹ اور اپوزیشن لیڈر کی طرف سے ضیافتیں دی گئیں ۔

رضا ربانی

مزید :

صفحہ آخر -