کراچی جیل میں داعش کیلئے بھرتیاں، قیدیوں سے سنگین جرائم کرانے کا انکشاف

کراچی جیل میں داعش کیلئے بھرتیاں، قیدیوں سے سنگین جرائم کرانے کا انکشاف

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) سینٹرل جیل میں قتل کے جرم میں موجود ایک قیدی کی سنسنی خیز انکشافات پر مبنی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں انہیں جیل کے اے ایس پی کی وردی پہنے دیکھا جاسکتا ہے۔ویڈیو میں قیدی نے الزام عائد کیا ہے قیدیوں سے منشیات فروشی اور اغوا برائے تاوان جیسے جرائم کروائے جاتے ہیں۔قیدی کا کہنا تھا پیسے دے کر سارے کام جیل سے کرائے جاسکتے ہیں۔دوسری جانب آئی جی جیل خانہ نصرت منگن نے کہا ہے قیدی تاجو بلوچستان کے صوبائی وزیر کے قتل میں بند ہے جبکہ ویڈیو ایک سے ڈیڑھ سال پرانی ہے ، قیدی کو ڈسپلن کی خلاف ورزی پر خیرپور جیل منتقل کردیا گیا ہے۔دوسری جانب جیل میں کالعدم تنظیم کے گرفتار دہشت گردوں کی جانب سے داعش کیلئے بھرتیوں کا انکشاف ہوا ہے اور اب تک کالعدم تنظیم کے تقریباً 30 ملزم عالمی دہشت گرد تنظیم میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں ۔ ذ ر ا ئع نے ایک نجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ یہ انکشاف حساس ادارے کی جانب سے خفیہ اطلاع پر سینٹرل جیل میں چھاپا مار کر کالعدم تنظیم کے دو دہشت گردوں کو حراست میں لیے جانے کے بعد ہوا۔ذرائع کے مطابق گرفتار دہشتگرد دو سال سے جیل میں داعش کیلئے بھرتیاں کررہے تھے، دونوں افراد اب تک 30 قیدیوں کو داعش میں بھرتی کرچکے ہیں۔ان قیدیوں میں سے 12ضمانت پر جیل سے باہر آگئے ،وہ اب لا پتہ ہیں، ان دہشت گردوں کے گھروں پر حساس ادارے کی جانب سے چھاپے بھی مارے گئے ہیں لیکن یہ ہاتھ نہ آسکے۔ذرائع کے مطا بق داعش میں بھرتی ہونیوالے قیدیوں میں7کو حراست میں لے لیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔ادھر محکمہ جیل کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کراچی کی سینٹرل جیل میں قید امریکی صحافی ڈینیئل پرل قتل کیس کے مجرم احمد عمر شیخ کیساتھ نماز پڑھنے کیلئے ایک اے ایس آئی کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی، جس کی غفلت کے باعث شدت پسند گروپ لشکر جھنگوی کے دو اہم رکن محمد احمد عرف منا اور شیخ محمد ممتاز عرف فرعون سینٹرل جیل کیساتھ منسلک جوڈیشل کمپلیکس سے فرار ہوئے۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اے ایس آئی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سکیورٹی کے انچارج تھے، ان کی ذمہ داری تھی کہ عدالتوں کی کاز لسٹ کے مطابق قیدی پیش ہوں۔ڈی آئی جی جیل خانہ جات پرویز چانڈیو نے رپورٹ میں تحریر کیا ہے کہ حیرت انگیز طور پر اے ایس آئی محمد فروش نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی ذمہ دا ر ی لگائی گئی تھی کہ وہ روزانہ دوپہر کو ظہر کی نماز ہائی پروفائل دہشت گرد احمد عمر شیخ کیساتھ ادا کریں گے، جس کی وجہ سے وہ روزانہ دو ڈھائی گھنٹے انتہائی حساس نوعیت کی ذمہ داری چھوڑ کر چلے جاتے تھے۔ڈی آئی جی پرویز چانڈیو نے بی بی سی کو بتایا کہ احمد عمر شیخ نے جیل حکام کو کہا تھا انھیں اپنے ساتھ نماز پڑھنے کیلئے کوئی شخص دیا جائے، جس کیلئے احمد عمر شیخ نے خود ہی اے ایس آئی محمد فروش کا انتخاب کیا تھا۔ڈی آئی جی کے مطابق اس روز بھی اے ایس آئی فروش شیخ عمر کیساتھ نماز ظہر کی ادائیگی کیلئے گئے ہوئے تھے اور جب واپس آئے تو قیدی بغیر کسی گنتی کے واپس جا چکے تھے۔ڈی آئی جی پرویز چانڈیو نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ڈیوٹی کے اہم اوقات میں غیر حاضری اے ایس آئی محمد فروش کے ملزموں کے فرار ہونے میں مدد کرنے کا شبہ پیدا کرتی ہے۔ اسوقت اے ایس آئی محمد فروش معطل اور گرفتار ہیں، انہوں نے اپنی رپورٹ میں فروش کی ملازمت سے برطرفی کی سفارش کی ہے۔ڈینئیل پرل کیس کے ایک اور ملزم شیخ عادل کو تین قیدی ملازمین کی خدمات حاصل رہیں، قیدی کاشف اور نقاش گزشتہ 2سال سے شیخ عادل کے پاس مشقت کر رہے تھے، انھوں نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے وہ شیخ عادل کیلئے کھانا پکانے اور برتن دھونے کا کام کرتے تھے، جبکہ قیدی طاہر نے بتایا ہے ان کا کام کپڑے دھونا اور استری کیلئے لیکر جانا اور واپس لانا تھا۔خیال رہے سی ٹی ڈی نے سینٹرل جیل سے 2 دہشت گردوں کے فرار سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ میں جیل کی اندرونی سکیورٹی کی صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دیا تھا۔

مزید :

صفحہ آخر -