فرد جرم عائد ہونے کے بعد اسحاق ڈار کو وزارت خزانہ سے مستعفی ہوجانا چاہیے: سراج الحق

فرد جرم عائد ہونے کے بعد اسحاق ڈار کو وزارت خزانہ سے مستعفی ہوجانا چاہیے: ...

  

لاہور(این این آئی) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے کہاہے کہ حکمران ذاتی مفادات کے لیے قانون کو موم کی ناک بنالیتے ہیں ، فرد جرم عائد ہونے کے بعد اسحاق ڈارسے کوئی مطالبہ نہ بھی کرتا ، انہیں وزارت خزانہ سے مستعفی ہو جانا چاہیے تھا ، کرپشن کے خلاف جماعت اسلامی کی تحریک ضرور رنگ لائے گی اور سب لٹیروں کو احتساب کے کٹہرے میں آنا پڑے گا ۔ ان خیالات کااظہا ر انہوں نے منصورہ میں منعقدہ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر لیاقت بلوچ ، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، محمد اصغر ، میاں مقصود احمد، امیر العظیم بھی موجود تھے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ نوازشریف کا احتساب عدالت میں پیش ہونا خوش آئند ہے مگر اس پیشی سے قوم پر احسان کا تاثر دینا درست نہیں۔ عدالتوں نے انہیں طلب کیا تھا اور ان پر آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کا کیس ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اسحق ڈار پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد انہیں وزارت سے فوری مستعفی ہو جانا چاہیے تھا اب ان کے پاس وزیر خزانہ رہنے کا کوئی اخلاقی و آئینی جواز نہیں ۔ جو شخص اپنی اربوں روپے کی دولت کے ذرائع آمدنی نہیں بتا سکتا اس کے ہاتھ میں خزانے کی چابیاں دینا اسے لوٹ کھسوٹ کی دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ جماعت اسلامی کی کرپشن فری پاکستان تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوکر رہے گی اور قومی خزانہ لوٹنے اور بنکوں سے اربوں روپے کے قرضے لے کر معاف کرانے والوں کو قومی دولت واپس کرنا پڑے گی ۔ انہوں نے کہاکہ ہم پہلے دن سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ نوازشریف کے ساتھ ساتھ پانامہ لیکس کے دیگر کرداروں کا احتساب بھی شروع کیا جائے اور بیرونی بنکوں میں پڑی ہوئی قومی دولت واپس لانے کے اقدامات کیے جائیں ۔

مزید :

صفحہ آخر -