اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی پر پی ٹی آئی تقسیم ، جماعتاسلامی ،ق لیگاور شیر پاؤ کا بھی جواب

اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی پر پی ٹی آئی تقسیم ، جماعتاسلامی ،ق لیگاور شیر پاؤ کا ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی میں شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن لیڈر کا امیدوار بنانے پر تقسیم ہوگئے ہیں اور شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین گروپ آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ ترین گروپ نے صرف عمران خان کو اپوزیشن لیڈر ما ننے کا اعلان کر دیاہے جبکہ جماعت اسلامی ، مسلم لیگ ق اور قومی وطن پارٹی نے بھی تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں نیا اپوزیشن لیڈر کی کوششوں کی مخالفت کر دی ہے ۔تفصیلات کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے شاہ محمود قریشی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنانے کے معاملے پر تحریک انصاف میں اختلا فات پیدا ہوگئے ہیں اوربعض پی ٹی آئی اراکین نے شاہ محمود کو اپوزیشن لیڈر کا امیدوار نامزد کرنے پر سخت نارا ضگی کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے 20 ستمبر کو تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں عمران خان کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنانے پر اتفاق رائے ہوا تھا اورپی ٹی آئی ارکان نے فیصلہ کیا تھا اپوزیشن لیڈر صرف عمران خان ہی ہوں گے۔دوسری جانب پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا تھا شاہ محمود قریشی کو اپو ز یشن لیڈر کا امیدوار بنانے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ اس صورتحال کے باعث جہاں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیلئے نئی مشکل پید ا ہو گئی ہے ، وہیں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کے حوالے سے جماعت اسلامی (جے آئی)، قومی وطن پارٹی (کیو ڈبلیو پی) اورمسلم لیگ ق نے بھی اس معاملہ میں منفی میں جواب دیدیا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے شاہ محمود قریشی کی گزشتہ روز ایم کیوایم کی قیا د ت سے ملاقات کے انہیں اپوزیشن لیڈر بنانے کا تاثردیا گیا جس پر کراچی کی مقامی قیادت اور خیبرپختونخوا کے بعض ارکان نے اعتراض کیا ہے،کراچی سے پی ٹی آئی کے اہم رہنما عمران اسماعیل نے شاہ محمود کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر تحفظات کااظہار کرتے ہوئے کہا ایم کیوایم کیساتھ ملنے پر کارکنوں کا سخت ردعمل آئے گا جس سے پارٹی قیا د ت اور ورکرز میں تناؤ کی کیفیت ہوگی جو پارٹی کیلئے نقصان دہ ہے۔انہی خدشات کا اظہار خیبرپختونخوا سے منتخب ارکان اسمبلی بھی کررہے ہیں جو شاہ محمود کی ایم کیوایم سے ملاقات پر ناخوش ہیں اور ان کا مطالبہ ہے عمران خان کو خود قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کرنا چا ہیے۔ جبکہ اسلام آباد سے منتخب پی ٹی آئی رہنما اسد عمر سے متعلق ارکان اسمبلی کی رائے ہے کہ وہ دھیمے لہجے اور نرم مزاج شخصیت کے حامل ہیں جو اپوزیشن لیڈر کی سخت ذمہ داریوں کیلئے ان فٹ ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر پارٹی میں درا ڑ یں پڑگئی ہیں اور پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین بھی ناراض ارکان کے موقف کی حمایت کررہے ہیں جبکہ مذکورہ ارکان اس پو ر ی صورتحال کا جائزہ لے کر حتمی فیصلہ کرنے کیلئے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ دوسری جانب شاہ محمود قریشی نے بنی گالہ میں عمران خان کو معاملے پر بریفنگ دی اور ایم کیو ایم کیساتھ ہونیوالی بات چیت سے آگاہ کیا۔ ادھر اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کیلئے تحر یک انصاف کی کوششوں کو ایک اور جھٹکا بھی لگا ہے۔ جماعت اسلامی، قومی وطن پارٹی اور مسلم لیگ قائد اعظم نے پی ٹی آئی کا سا تھ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ق لیگ نے شکایت کی ہے کہ اسے اعتماد میں نہیں لیا گیا جبکہ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ فی الحال قائد حزب اختلا ف کی تبدیلی نہیں چاہتے۔ قومی وطن پارٹی نے بھی تحریک انصاف کو لال جھنڈی دکھا دی ہے۔ آفتاب شیرپاؤ کا کہنا ہے خورشید شاہ کی تبدیلی نہیں چاہتے، خورشید شاہ نے بطور اپوزیشن لیڈر اچھا کردار ادا کیا اس لئے خورشید شاہ کی تبدیلی کی حمایت نہیں کریں گے۔واضح رہے تحریک انصاف اور ایم کیوایم پاکستان قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کیلئے سرگرم ہیں جس کیلئے دونوں جماعتوں کے درمیان گزشتہ روز با ضا بطہ ملاقات ہوئی اور اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی پر اتفاق کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کو قائد حزب اختلاف بنانے کا فیصلہ کیا گیا ۔

پی ٹی آئی تقسیم

مزید :

کراچی صفحہ اول -