کراچی ، سینٹرل جیل میں غیر قانونی دھندے ، قیدی کے ہوشربا انکشاف

کراچی ، سینٹرل جیل میں غیر قانونی دھندے ، قیدی کے ہوشربا انکشاف

  

کراچی(کرائم رپورٹر) شہر قائد میں واقع سینٹرل جیل میں منشیات فروشی اور قیدیوں سے اغوا برائے تاوان کرائے جانے کے ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سینٹرل جیل میں پولیس کی ناقص حکمتِ عملی اور اقربا پروری کے بعد قیدی نے ہوشربا انکشافات کیے ہیں۔ قیدی نے انکشاف کیا کہ جیل میں منشیات کی فروخت پولیس کی مدد سے ہوتی ہے اور نشہ آور اشیا پولیس اہلکار ہی مہیا کرتے ہیں۔قیدی نے دعوی کیا کہ جیل میں منشیات 15 سے 20 ہزار روپے میں فروخت کی جاتی ہے جبکہ دوا کے نام پر بوتلوں میں شراب کی فروخت جاری ہے، جیل کی مختلف بیرکس میں قیدی منشیات فروخت کرنے کا کام کررہے ہیں۔قیدی نے انکشاف کیا کہ جیل میں موبائل فون کام کرتے ہیں اور سیکیورٹی وارڈ نمبر 12،14،15،19 میں موبائل فون کی سروس جیمر لگنے کے بعد بھی متاثر نہیں ہوئی، جیل انتظامیہ رات کے وقت میں جیمرز کی استعداد کم کردیتی ہے جبکہ قیدی فور جی سمز بھی استعمال کررہے ہیں۔اغوا برائے تاوان کے حوالے سے قیدی نے انکشاف کیا کہ کچھ قیدیوں کو منتخب کرکے جیل سے باہر ہدف دے کر بھیجا جاتا ہے اور وہ اپنا ٹارگٹ مکمل کر کے جیل واپس آجاتے ہیں۔سینٹرل جیل سے فرار ہونے والے دو دہشت گردوں کے بارے میں قیدی نے انکشاف کیا کہ دونوں کے فرار ہونے میں پولیس نے مدد فراہم کی اور انہیں باآسانی باہر نکلنے کے لیے ڈی ایس کی وردیاں بھی دی گئیں۔دوسری جانب وزیرداخلہ سندھ سہیل انور سیال نے کہا ہے کہ اس تمام معاملے کی انکوائری کروائی جائے گی اور جو بھی افسر یا اہلکار اس میں ملوث ہوا سخت کارروائی کریں گے۔یاد رہے کہ سینٹرل جیل سے کالعدم مذہبی جماعت کے دو کارکنان کے فرار ہونے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جیل کا سرچ آپریشن کیا تھا جس کے دوران قیدیوں کے قبضے سے موبائل فون، نقدی اور دیگر جدید سامان برآمد کیا گیا تھا۔سی ٹی ڈی کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں رپورٹ پیش کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سینٹرل جیل میں قیدیوں کا اثرورسوخ برقرار ہے جو منظم انداز میں اپنے گروہ چلارہے ہیں۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -